Home تازہ ترین سنک ہولز ۔ موت کے کنویں

سنک ہولز ۔ موت کے کنویں

0
41

خیابانِ فردوسی پر معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں تھی ۔ وہ فیملی کے تین افراد کے ہمراہ اپنی کار میں شوکت خانم ہسپتال کی طرف جارہا تھا کہ اچانک اس کی کار کے سامنے سے سڑک ہٹ گئی۔ اسے لگا کہ ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کی طرح آج لاہور کی زمین بھی زلزلے سے پھٹ گئی ہے۔ اس کی کار 40 فٹ چوڑے اور چودہ فٹ گہرے سنک ہول میں گر چکی تھی جو کہ چالیس سالہ پرانی مین سیوریج لائن کے پھٹنے سے بنا تھا۔اس سے پہلے بھی خیابانِ فردوسی پر ایک اور جگہ سنک ہول بن چکا تھا۔اتفاق سے یہ سنک ہول لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مرکزی دفتر کے عین سامنے ہر دوسرے سال کھل جاتا ہے۔

لاہور میں پچھلے پانچ سال کے دوران 10 سنک ہول کُھل چکے ہیں۔ جولائی 2018 میں بارش کے بعد ایک بہت گہرا سنک ہول مال روڈ پر عین جی پی او چوک پرکھل گیا تھا جس سے زیرِزمین اورنج لائن کے اسٹیشن کو بہت زیادہ نقصان ہوا تھا۔اسی مہینے گلشنِ راوی میں سیوریج لائن کے رسنے سے ایک سنک ہول نمودار ہوگیا تھا۔ سنہ 2018 میں ہی ملتان میں ایک بس سنک ہول کے اندر گر گئی تھی جس سے کئی مسافر زخمی ہوئے تھے۔

کراچی میں وزیراعلی ہاوس کے قریب ضیاءالدین روڈ پر پچھلے سال (2022)موسمِ برسات میں ایک سنک ہول کھل گیا تھا جہاں انگریز دور کی 6 فٹ چوڑی سیوریج لائن گزر رہی تھی۔اس سال جولائی میں لاہور میں گوالمنڈی اور مسلم ٹاؤن میں دو بڑے سنک ہول کھل گئے تھے۔

سنک ہولز شہری علاقوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں ۔ زیرزمین پانی کی پائپ لائنوں اور سیورج لائنوں سے پانی کے رساؤ سے زمین کی نچلی تہیں پانی میں حل ہو کر ایک غار نما گڑھا بنا دیتی ہیں جو آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے حتی کہ یہ غار اوپر والی زمین کا وزن نہیں سنبھال سکتا اور اندر ہی گر جاتا ہے ۔ یہ عمل ان بڑے شہروں میں زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے جہاں نیچے چونا پتھر، ڈولومائیٹ یا جپسم وغیرہ کی تہیں موجود ہوں.

ہم سنک ہول کو ہرسال مٹی سے بھر کر ، اس کے اوپر رولر چلا کر سڑک دوبارہ بنا دیتے ہیں اور ایک انکوائری کمیٹی بٹھا دیتے ہیں لیکن اس کے طویل المدتی حل کی طرف نہیں جاتے تاکہ دیہاڑی لگی رہے۔

ہمیں پانی کے ریچارج کو بڑھانا ہو گا. ٹیوب ویلز اور گھریلو بورز سے کم پانی پمپ کرنا ہو گا. ل اور سب سے اہم کہ زیر زمین پانی کی پائپ لائنوں اور سیورج لائنوں سے پانی کے رساؤ کو ختم یا کم کرنا ہو گا ورنہ سنک ہولز بننے کی رفتار اور تعداد بڑھ سکتی جوکہ ایک مستقل خطرہ ہوگی۔ زیر زمیں پانی کی پائپ لائنوں کی یہ لیکجز بھی دنیا کی آبادیوں کے زمین میں دھنسنے کا باعث بن رہی ہے.۔۔انجنئیر ظفر وٹو