انقلابی لمحات؛ جنہوں نے دنیا کو تبدیل کردیا (جان بٹ)

سائنس کے مطابق ہمارا سیارہ ساڑھے چار ارب سال قدیم ہے لیکن انسان کو اس سیارے پر آئے ابھی صرف دو لاکھ سال گزرے ہیں۔ ہم زمین کی طویل عمر سے انسانوں کے گزارے گئے وقت کا تو موازنہ نہیں کرسکتے پھر بھی اس دوران انسان نے کئی ایسے انقلابی لمحات کا سامنا کیا جب اس کی یہ دنیا یکسر تبدیل ہوگئی۔

گزشتہ ڈیرھ برس کے دوران ایسے ہی چند گزرے حیران کن لمحات کا ذکر پیش ہے جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

بجلی کا بلب

1879 ء میں تھامس ایڈیسن کے ایجاد کردہ بلب نے دنیا بھر میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ اس بلب نے گیس لیمپ اور موم بتیوں کی جگہ لے کر دنیا کو چمک دار روشنی فراہم کی اور انسان اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آگیا۔

ہوائی جہاز

رائٹ برادرز نے پہلا جہاز 1903ء میں ایجاد کیا ۔ اس وقت اس جہاز میں صرف ایک ہی فرد سفر کرسکتا تھا۔ لیکن یہی وہ لمحہ بھی تھا جس نے آنے والی دنیا کو ایک نیا رخ دیا ۔اب اس ایجاد سے لاتعداد افراد فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایڈز

اس موزی مرض کو عوامی توجہ 1982 ء میں حاصل ہوئی۔ لیکن جب تک اس بیماری کی دریافت ہوئی، اس وقت تک دنیا بھر میں تقریباً 36 ملین افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے تھے۔ اور یہ آج بھی یہ مرض انسانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔

ورلڈ وائڈ ویب

انٹرنیٹ کا شمار ایسی ایجادات میں کیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا کو یکسر تبدیل کردیا اور آج دنیا بھر میں زیادہ تر افراد انٹرنیٹ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انٹرنیٹ برطانوی کمپیوٹر سائنسدان،ٹم برنرز لی نے 1989 ء میں ایجاد کیا تھا۔

گیارہ ستمبر کا حادثہ

11 ستمبر 2001 ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا اور آج بھی دنیا اس آگ میں جل رہی ہے۔ ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں نے دنیا کا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔

سوشل میڈیا

چند برس قبل جنم لینے والا سوشل میڈیا آج ہر جگہ چھایا ہوا ہے اور اس نے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ فیس بک اور ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں ایک ملک تک قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد بلاگ کے ذریعے بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *