’پرچمِ ستارہ و ہلال‘ کی کہانی

3 جون 1947ء کے مائونٹ بیٹن کے اعلان کے فوراً ہی بعد قائداعظم نے قابل اور ممتاز مسلم لیگیوں کو کام پر لگا دیا۔ ان میں سے کچھ نے تو ہمارے اور ہندوستان کے درمیان اثاثوں کی تقسیم پر کام شروع کیا۔ کچھ نے تقسیم ملک پر اور بعض دوسروں نے ایک خود مختار ریاست کی جو پیدا ہونے کو تھی، اس کی فوری ضروریات پر۔

پاکستان نے اب اپنی آزادی حاصل کرلی تھی اور اسے ایک ایسے قومی پرچم کی ضرورت تھی جو برطانوی علامات سے بالکل پاک صاف ہو۔ اس جھنڈے کے لیے کئی مختلف نمونے پیش کیے گئے اور آخر کار یہ فیصلہ ہوا کہ ڈنڈے کے پاس جھنڈے کا ایک چوتھائی حصہ سفید ہوا اور جہاں سے سفید رنگ ختم ہو وہاں سے باقی تین چوتھائی سبز، اور سبز حصے پر ایک ہلال اور ستارہ ہو اور اس طرح کے وہ ڈنڈے سے 45 درجے کا زوایہ بنائے اور اس کا رخ ڈنڈے سے دوسری طرف ہو۔ سبز مسلم لیگ کے جھنڈے کا رنگ تھا اور ہلال اور ستارہ بھی اسی کا تھا۔ فرق صرف صرف اتنا تھا کہ مسلم لیگی جھنڈے کا ہلال اور ستارہ ایک مختلف زوایہ بناتا تھا۔ جھنڈے کا سفید رنگ پاکستان کی اقلیتوں کی علامات تھا جن کی مجموعی تعداد تقسیم کے وقت آبادی کے ایک چوتھائی حصے سے بھی کم تھی۔

جب قومی پرچم پر اتفاق رائے ہوگیا تو حکم دیا گیا کہ 14 اگست کو پرچم کشائی کے لیے جھنڈے تیار رہیں۔ میں اپنے حافظے سے اس دن کی یاد محو نہیں کرسکتا۔ جب 11 اگست کو کراچی میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے ایک ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے اس جھنڈے کو منظوری کے لیے مجلس آئین ساز کے سامنے پیش کیا۔ جھنڈے کی وضع قطع بتانے کے بعد انہوں نے علامتی اہمیت پر ان الفاظ میں زور دیا۔

’’صدر محترم یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ہمارا جھنڈا کسی ایک سیاسی جماعت یا فرقے کا جھنڈا نہیں ہے۔ یہ جھنڈا پاکستانی قوم کا اور اس پاکستانی ریاست کا جھنڈا ہے جو 14 اگست کو وجود میں آرہی ہے۔

جناب والا! ہر ایک قوم کا جھنڈا محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ کپڑا بجائے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اہم وہ چیز ہوتی ہے جس کی یہ نمائندگی کرتا ہے اور میں بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ جھنڈا جسے مجلس کے سامنے پیش کرنے کا مجھے شرف حاصل ہوا ہے ان سب لوگوں کے لیے جو پاکستان کے جھنڈے کے وفادار ہیں استقلال، آزادی اور مساوات کی علامت ہوگا۔ (تالیاں) یہ جھنڈا ہر شہری کے جائز حقوق کی حفاظت کرے گا۔ یہ جھنڈا ملک کی سالمیت کی حفاظت و حمایت کرے گا۔ یہ جھنڈا جناب صدر، مجھے اس میں ذرا سا بھی شبہ نہیں، دنیا کی تمام قوموں کی عزت و تعظیم حاصل کرلے گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایک دفعہ پاکستان کی ریاست قائم ہوگئی اور ایک دفعہ ہمیں سات کروڑ انسانوں کی قسمت سنوارنے کا موقع مل گیا تو ہم دنیا بھر کو یہ دکھا دیں گے کہ اگرچہ ہماری ریاست ایک ایسی نئی ریاست میں جو دنیا کی مشاورتی مجالس میں اپنا کردار دیانتداری سے ادا کرے گی اور ایسی نہیں کہ دوسروں کے علاقے فتح کرنے کی خواہاں ہو۔۔۔ میرے ذہن میں پاکستان کا جو تصور ہے اس کی رو سے پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگا جس میں کسی مخصوص فرقے یا مخصوص مفاد کے لیے کوئی خاص مراعات، کوئی خاص حقوق نہ ہوں گے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہوگی جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور برابر کے مواقع۔ یہ ایسی ریاست ہوگی جس میں لوگوں کو مساوی مراعات حاصل ہوں گی اور جو لوگ مساوی مراعات حاصل کریں انہیں قانون کی ان تمام ذمہ داریوں میں حصہ لینا ہوگا جو ریاست کے شہریوں پر عائد ہوتی ہیں‘‘۔

انہوں نے اپنی تقریر ان الفاظ کے ساتھ ختم کی۔

’’پاکستان کا آئندہ آئین میرے تصور میں ہے، یہ آئین ریاست پاکستان کے سب شہریوں کی حریت، آزادی اور مساوات کا اور پاکستان کی سالیمت اور خود مختاری کا حامل ہوگا۔‘‘

جلسے کی صدارت قائداعظم کر رہے تھے۔ جب لیاقت علی خان کھڑے ہوکر ارکان کو جھنڈا دکھا رہے تھے تو قائداعظم کا چہرہ مشعل کی مانند روشن ہوگیا۔ اس سے اطمینان اور اس چیز کی شکر گزاری نمایاں تھی کہ ان کی زندگی میں آخر کار وہ دن آگیا جبکہ لوگ اپنا جھنڈا منتخب کرنے کے لیے آزاد ہوگئے۔ اس وقت وہ ایسے نظر آرہے تھے جیسے کوئی سکول کا بچہ جسے اس کے کام پر سونے کا تمغہ ملا ہو یا جیسے کوئی فخر کرنے والا باپ جو تقسیم اعزازات کی کسی ایسی تقریب میں حاضر ہو جس میں اس کے بیٹے کو بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ملنے والا ہو۔ وہ تیزی سے گزرتے ہوئے چند منٹ درحقیقت ہم سب کے لیے جذبات سے لبریز خوشی کے لمحات تھے۔

میں نے اپنے واشنگٹن کے سفارت خانے اور نیویارک کے قونصل خانے کے لیے بھی دائیں (مشرق) کی جانب اسی زاوئیے پر رخ والا سبز ہلال اور ستارہ اختیار کرلیا۔ یہ نشان ہمارے دیگر سفارت خانوں میں رائج ہوگیا۔ قائداعظم کی وفات کے تقریباً دو سال بعد ہمارے سفارتخانے کو دفتر امور خارجہ سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ ہلال اور ستارے کے نشان کا رخ بدل دیا جائے۔ آئندہ ہلال کا رخ مغرب یعنی جھنڈے کے بانس کی طرف ہونا چاہیے نہ کہ مشرق کی جانب جیسے کہ ہمارے قومی جھنڈے میں تھا۔ بعد میں اس معاملہ پر سفارت خانے اور ہمارے دفتر امور خارجہ میں خط و کتابت ہوتی رہی۔

ہمارا یہ نقطۂ نظر تھا کہ اس قسم کی تبدیلی غیر ضروری تھی۔ کیونکہ ہلال اور ستارہ محض علامتی تھے اور ان کے رخ سے بڑھتے یا گھٹتے چاند کا مفہوم نہیں پیدا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے کئی مثالیں دیں اور بالخصوص یہ جتایا کہ ترکی کے سرخ قومی جھنڈے کا ہلال و ستارہ ایک مبالغہ آمیز خمدار ہلال تھا جو جھنڈے کے بالکل بیچ میں بانس کے متوازی بنا ہے۔ یقینا اس کی وضع کے کسی ہلال نے کبھی آسمان کو مزین نہ کیا ہوگا۔ نہ ہی ایسی خوبصورت شکل و صورت کا چمکدار ستارہ ہلال کے دونوں سروں کے بیچ میں جاگزیں ہوا ہوگا اور نہ ہی ہلال آسمان میں کبھی مقام و ہئیت کے اعتبار سے ایسا کامل و بے عیب نظر آیا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود یہ ترکی قومی جھنڈے کا جزو ہے اور صدیوں سے ایسا ہی چلا آیا ہے۔

وزارت خارجہ لیاقت علی خاں کے زیر ہدایت اس تبدیلی پر اصرار کرنے کا عزم کرچکی تھی اور کسی قسم کے دلائل سے بھی وہ اپنا موقف بدلنے کے لیے تیار نہ تھی۔ تاہم مجھے اس سے بہت اطمینان ہوا کہ حکومت وقت نے ہمارے قومی جھنڈے کے ہلال اور ستارے کا رخ بدلنے کے سلسلے میں اپنے نقطۂ نظر اور فیصلے کو منوانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ جھنڈا مجلس آئین ساز نے 14اگست سے چند روز پہلے بلاکسی اعتراض کے منظور کرلیا تھا اور قائداعظم نے بھی اسے پسند کیا تھا۔ کچھ عرصے بعد واشنگٹن کے سفارتخانے کو یہ حکم ملا کہ وہ لاک ھیڈ ایئر کرافٹ کارپوریشن کو یہ ہدایت کرے کہ قومی جھنڈے کو جہازوں کی دم پر اس طرح بنائے کہ اس کا رخ مغرب کی سمت ہو۔ لیکن اس سے پہلے کہ دوسرا ہوائی جہاز اورینٹ ایرویز کے لیے ایک اور سوپر کانسٹلیشن بن کر تیار ہو حکومت نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اپنی ہدایات کے الفاظ کو یوں بدل دیا۔

’’جھنڈا دم کی طرف اڑتا ہوا اور ہلال و ستارہ اسی ہئیت و وضع سے باقی رہیں جیسے کہ پاکستان کے جھنڈے میں ہے۔

اس تبدیلی کے مطابق مہروں، سرکاری کاغذات اور دیگر دستاویزات کے نشانوں میں گھٹتے ہوئے ہلال کے بڑھتے ہوئے ہلال کو دکھایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ 1955ء میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی وزارت نے نئے سرکاری نشان (COAT OF ARMS) کو اختیار کرلیا جو ابھی تک حکومت کا نشان ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *