یادوں کے جھروکوں سے، جشن آزادی کے دو مناظر (حمنہ بخاری)

کہانی کے دو پہلو بالخصوص نوجوان نسل میں جشن آزادی کے حقیقی مقصد کی طرف توجہ مبذول کرانے کےلیے لکھے گئے ہیں۔ یہ حقیقت پر مبنی کہانیاں ہیں مگر منظرکشی اور جذبات کی ترجمانی میں لفاظی کا سہارا لیا گیا ہے۔

پہلا منظر: جشن آزادی نیلم کے اس پار
13 اگست کا سورج رفتہ رفتہ مغربی سمت میں سفر کرتا، اپنی سرخی مائل کرنوں کو سمیٹتا پہاڑوں کے پیچهے اوجهل ہورہا ہے۔ ہر دن کے اختتام پر رات کا وقوع ہونا یقینی امر ہے۔ مگر یہ رات تاریخی دن کے طلوع ہونے کا اعلان کررہی ہے۔ کچھ ہی گهنٹوں بعد 14 اگست کی وہ سہانی صبح طلوع ہونے والی ہے جس نے ایک قوم کو آزادی کا پیغام دیا۔

ایسی ہی چند گهڑیوں میں آزادی سے محروم مگر پاک محبت سے سرشار کچھ جوان تندہی سے پاکستانی پرچم تیار کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان ارحم، ضلع اونتی پورہ کا رہائشی بهی ہے۔ انہوں نے 1000 سے زائد پاکستانی پرچم تیارکرلیے ہیں اور اب پردے کےلیے لمبا چوڑا جهنڈا بنا رہے ہیں۔ یہ صرف پرچم نہیں، محبت کا والہانہ اظہار ہے۔

کیونکہ دریائے نیلم کے اس پار سبزہ زار زمین پر بسنے والوں کے دل بهی سبز ہلالی پرچم کےساتھ دهڑکتے ہیں۔ برف سے ڈهکے سفید پہاڑوں میں مقیم کشمیریوں کی دعائیں اور وفائیں سفید رنگ کی طرح شفاف، اجلی و بے داغ ہیں۔ انہی دو رنگوں پر مشتمل کپڑے سے ان کا عشق ناقابل بیان ہے۔ 14 اگست کا دن گو کہ انہیں آزادی کا مژدہ نہیں سناتا، مگر ان کے جشن سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ دن ان کے جسم کے روئیں روئیں کو تازگی عطا کرتا ہے اور انہیں خوف کی ہر قید سے آزاد کرتا ہے۔

یوں تو محکوم کشمیریوں کے جان، مال، عزت و آبرو اپنے گهر میں بهی محفوظ نہیں، مگر بطور خاص جشن آزادی پاکستان کی تقریب کے کامیاب انعقاد کےلیے انتظامات محفوظ تر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گراؤنڈ کو آرمی کے حملے سے بچانے کےلیے کچھ نوجوان پہرے پر تعینات کردیئے گئے ہیں۔ یہ جوان گهاس پر پڑتی شبنم اور فضا میں اترتی سردی کی لہر سے بے پرواہ ہیں، ایسا لگتا ہے دشمن کی سرحد پر پہرہ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب انڈین آرمی بهی اس تقریب سے بے خبر نہیں۔ ان کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے زمینی کارروائی کو نوٹ کیا جارہا ہے۔ ہر ہر حرکت پر گہری نظر رکهے، انڈین آرمی اپنے شکار کو بے خبری میں دبوچنے کی فکر میں ہے۔

14 اگست کی حسین صبح طلوع ہو چکی ہے۔ زندگی پهر سے سانس لینے لگی ہے، گهاس شبنم کے قطروں کو اپنے اندر جذب کرنے لگی ہے۔ تاریکی کو چیر کر سورج کی پہلی پهوٹتی سفید کرن ان کے کام میں مزید تیزی لارہی ہے۔

اتنے میں مسجد کے گنبد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں جنہیں سنتے ہی پہرے دار اور مستعدی سے پرچم بناتے نوجوان، سب نماز فجر ادا کرنے مسجد کی طرف لپکتے ہیں۔

بچے، بوڑهے، جوان، سب پاکستان کی بقا اور استحکام کےلیے اجتماعی دعا کرتے مسجد سے سیدهے گراؤنڈ کی طرف قدم بڑهاتے ہیں۔

ٹهنڈی ہوا کے تیز جھکڑ گهاس میں سرسراہٹ پیدا کررہے ہیں۔ سورج کی پهیلتی کرنیں دودهیا رنگ کو سنہرا کرکے صبح کی خوبصورتی کو مزید بڑها رہی ہیں، جیسے سنہرے پروں والی حور نے پر پهیلا لیے ہوں۔

اب صبح کی روشنی میں انتظامات کا تنقیدی جائزہ لیا جارہا ہے۔ سفید و سبز رنگ کے کپڑے سے گراؤنڈ کے چاروں اطراف قناتیں لگا دی گئی ہیں۔ مائیک، اسپیکر اور ملی ترانے کی دهن کو بھی چیک کیا جا چکا ہے۔

اتنے میں انڈین آرمی کے 50 مسلح سپاہی آدهمکے۔ انڈین آرمی نے آتے ہی جشن کےلیے اکٹھے ہونے والے افراد پر براہ راست گولیاں برسانی شروع کردیں۔ گولیوں کی ٹڑتڑاہٹ ماحول کو وحشت زدہ کرنے لگی تو چند باہمت نوجوانوں نے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگا کر کمزور مجاہدین کے قدم جما دیئے۔ نوجوان اب پہلی صفوں میں آکر بچے اور بوڑهوں کی ڈهال بن گئے؛ کیونکہ جسمانی و ایمانی تازگی ان سے یہی مطالبہ کرتی تهی۔

اب انڈین آرمی نے اپنا آخری اور بربریت کا سب سے بدترین حربہ یعنی پیلٹ گن کا استعمال شروع کردیا۔ وہی پیلٹ گن جس سے 2016 سے 2018 کے دوران 1314 کشمیریوں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔

گولیوں اور پیلٹ گن سے بہت سے لوگ زخمی ہوچکے ہیں، مگر گراؤنڈ چهوڑ کر جانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔

انڈین آرمی نے یہ بے خوفی دیکھی تو گراؤنڈ میں ہی آگ لگا دی۔ آگ کے بڑهتے شعلے تیزی سے ہر شئے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ٹینٹ، مائیک، اسپیکر، سب آگ کا نوالہ بن رہے ہیں۔ نفرت و عداوت کی آگ یوں بهی دہائیوں سے جنت کی سی حسین وادی کا حسن گہنا رہی ہے۔

انڈین آرمی اور نہتے کشمیریوں کے بیچ جنگ صبح 9 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران آرمی نے بہت سی موٹر سائیکلیں بهی نذر آتش کیں۔ 9 بجے تهک ہار کرانڈین آرمی نے پسپائی تو اختیار کرلی، مگر اپنے پیچهے جلے ہوئے جهنڈے اور پوسٹرکی راکھ، کئی زخموں سے کراہتے وجود اور کهانے پینے کی چیزوں میں زہر چهوڑ گئی۔

انڈین آرمی کی پسپائی کے بعد پروگرام کا دوبارہ سے باقاعدہ آغاز ہوا۔ جشن آزادی کی تقریب پر چند لمحے پہلے کے سانحے کا کوئی اثر محسوس نہ ہوا۔ 12 بجے خوب جوش و خروش سے سبهی شرکا نے سلامی دی۔ جوں ہی سلامی دی، سب کے چہرے خوشی سے تمتمانے لگے۔

******************
دوسرا منظر: دن آ جاتا ہے آزادی کا، مگر آزادی نہیں آتی!
’’پاکستان کا مطلب کیا ’لاا الہ الااللہ‘ جانتے ہو یہ نعرہ کیا ہے؟

’’یہ رب سے عہد کا نعرہ ہے: ’’بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا رب العالمین کے لیے ہی ہے۔‘‘

’’اور جانتے ہو آزادی کیا ہے؟

’’آزادی وہ جہدوجہد ہے جس کی تگ و دو نے بچوں، مردوں اور عورتوں کے چہروں کی رونقیں اور جسم کی تمام تر توانائیاں نچوڑ کر رکھ دیں۔ آزادی وہ جہدوجہد تهی جس میں راوی کا پانی سرخ ہوگیا تها۔

میں… میں… غازی ہوں! آزادی کی خاطر لڑی جانے والی جنگ کا غازی!‘‘

یوم آزادی کی تقریب سے واپسی پر ان کا رنج و الم، ان کے درد کی شدت آنسوؤں کی بوچهاڑ کی صورت میں بہہ رہی تهی۔ ان کے لب کپکپا رہے تهے اور ضبط کی کوشش میں ان کی داڑهی بے طرح کپکپا رہی تهی۔

تقریباً دس منٹ اسی کیفیت میں رہنے کے بعد دادا جان پهر گویا ہوئے:

’’میں، بشمول میرے والد اور والدہ کے، ہم 80 کے قریب افراد راوی کنارے واقع ایک کیمپ میں مقیم تهے کہ اچانک اعلان ہوا کہ سکهوں نے حملہ کر دیا ہے۔ میرے والد لیڈر ٹائپ کے آدمی تهے۔ وہ چهپ چهپا جانے والے، ڈرنے والوں میں سے نہ تهے لہذا انہوں نے کیمپ میں موجود تمام افراد کے سامنے اعلان کیا کہ ہم کیمپ سے باہر کهلے میدان میں دشمن کا مقابلہ کریں گے۔

’’اس کے بعد خواتین سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیونکہ جنگ میں دو طرح کے نتائج درپیش ہوتے ہیں، غازی یا شہید۔ لہٰذا دونوں صورت حال کو سامنے رکهتے ہوئے اپنے اور اپنے بچوں کا بهرپور تحفظ کیجیے؛ اور راوی کے پانی میں بچوں سمیت کهڑی ہوجائیے۔ اگر ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ دو بار اپنے کانوں سے سنیں تو دریا کے پانی سے نکل آئیں اور اگر ’’واہے گرو‘‘ کا نعرہ سنیں تو بچوں سمیت دریا میں چهلانگ لگا دیں۔ کیونکہ سکھ و ہندو عصبیت کی آڑ میں عصمتوں کے لٹیرے اور بچوں کے خون کے پیاسے بن گئے تھے۔

’’تب میری عمر چھ سات سال کے لگ بھگ تهی۔ آج، ستر سال کے بعد بهی 14 اگست کا دن میرے لیے راوی کے پانی میں خوف و امید کی درمیانی کیفیت لیے گزر جاتا ہے۔

’’وہ دن، وہ منظر، وہ خوف، افف… وہ ٹهنڈ کی لہر جو اس وقت میرے رگ و پے میں تهی، میں آج بهی محسوس کرتا ہوں۔‘‘

’’مگر…‘‘ وہ ذرا رک کر بولے، غم و جذبات کی ملی جلی کیفیت میں ان کی آواز بارہا دب جاتی تهی۔

’’اس نوجوان نسل کےلیے آزادی کا دن کیا ہے؟ پر جوش تقاریر کے بل بوتے پر مخالف قوتوں سے لڑ جانے کا عہد کرنا۔ سفید و سبز رنگ کے لباس زیب تن کرنا، جهنڈیوں سے گهر، اسکول، گلی محلے کو سجانا۔

’’اونچی آواز میں ترانے سنتے ہوئے سر دهننا اور ’ہاؤ ہو‘ کے نعرے بلند کرنا۔ آج کی تقریب میں تم نے دیکها، ہر تقریرکے اختتام پر سیٹیاں اور تالیاں تهیں بس۔ اللہ اکبر کی صدا تو کہیں ہے ہی نہیں۔

’’پا کستان کا مطلب کیا ’لا الہ الااللہ‘ یہ نعر ہ تو کہیں کهو سا گیا ہے۔ اس ملک میں نہ نظام اللہ کا ہے، نہ بندہ رب کا۔ نہ شکر ہے، نہ ذکر ہے۔ نہ امن ہے نہ کوئی محافظ۔ سیاست دانوں کو اپنے مفادات محبوب ہیں اورعوام کو اپنا لیڈر۔ اس وطن کی محبت کہاں ہے؟

’’اس دهرتی کے باسی اس قدر خود غرض ہو گئے۔ یہ سوچ، یہ واہمہ تو ہمارے ذہن کے کسی کونے کو چهو کر بھی نہ گزرا تھا۔ ان لاکھوں نفوس کی قربانیوں کی قیمت اتنی ارزاں و رذیل!‘‘

دادا جان غم سے نڈھال ہو کرسجدے میں گرگئے۔ وہ سسکیوں اور آہوں سے اپنے رب کے حضور شکوہ کررہے تھے، جبکہ میں شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *