جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا جونیئرپروفیسر پُرو وائس چانسلر تعینات کردیا گیا

الرٹ نیوز

حکومت سندھ تعلیمی اداروں میں کارکردگی اور صلاحیت کے برعکس تعیناتیاں اور تقرریاں کرنے لگی ہے ، امتحانی بورڈ اور اعلی تعلیمی اداروں میں‌ قوائد کے برخلاف ، ذاتی پسند نا پسند اورسیاسی وسفارشی بنیادوں پر پرو وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کا سلسلہ جاری ہے ، الرٹ کو موصول ہونے والے لیٹر کے مطابق جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی سینیارٹی لسٹ میں تیرہویں نمبرپر آنے والے جونیئر پروفیسر شاہد رسول کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا پرووائس چانسلر تعینات کر دیا گیا ہے .

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک جونیئر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا پرووائس چانسلر مقرر کردیا ہے جس سے سینئر پروفیسرز میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔جب کہ خود جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ایماندار وباصلاحیت افسران میں‌ بددلی پائی جاتی ہے .

اس سے قبل حکومت سندھ نے سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز کے برخلاف ریٹائرڈ پروفیسرز کو پرووائس چانسلرز تعینات کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا ،جب کہ 7 ریٹائرڈ پروفیسرز تاحال صوبے کی 5 جامعات میں پرو وائس چانسلرز تعینات ہیں ۔ اب جونیئرپروفیسرز کی بحثیت پرووائس چانسلر تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے محکمہ جامعات وبورڈز کو فراہم کردہ پروفیسرز کی سینارٹی لسٹ ہی گمراہ کن بھیجی گئی تھی ،کیوں کہ اصولی طور پر سنیارٹی لسٹ کے مطابق پہلے تین یا پانچ افسران کے نام اعلی اتھارٹی کو ارسال کئے جاتے ہیں‌ جن میں من و عن یا پانچ میں سے تین کا چنائو سیکرٹری اپنی سفارش پر وزیر اعلی کو بھیج دیتا ہے .20 دسمبر کو سیکرٹری ریاض الدین قریشی کی جانب سے وزیر اعلی بھیجی جانے والی لسٹ میں پروفیسرڈاکٹر اقبال آفریدی ،ڈاکٹر سعدیہ اکرام ، ڈاکٹر سمیرآر قریشی ،ڈاکٹر شاہد رسول اور ڈاکٹر خیمی چند مورانی کے نام بالترتیب بھیجے گئے تھے .

سیکرٹری جامعات و بورڈز ریاض الدین قریشی کی جانب سے وزیراعلی کو بھیجی گئی سمری

ذرائع کے مطابق سنیارٹی لسٹ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی کا پہلا نمبر ، پروفیسر سرور قریشی کا دوسرا نمبر جبکہ پروفیسر اظہر مغل کا تیسرا نمبر تھا لیکن حیرت انگیز طور پرتیرہویں نمبر آنے والے جونیئر پروفیسر شاہد رسول کو چار سال کےلئے پرووائس چانسلر تعینات کر دیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں زیر علاج سیاسی قیدی انور مجید کے بیٹے غنی مجید کو علاج معالجے کی سہولیات اور مبینہ طور پر بیماری کی سند فراہم کرکے اسپتال میں ان کےقیام کو طویل کرنے پر پروفیسر شاہد رسول کو نوازا گیا ہے جس سے سینئر پروفیسرزشدید نالاں ہیں ۔ اس سلسلے سیکریٹری محکمہ جامعات وبورڈز محمد ریاض الدین کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ ایک یونیورسٹی کے کسی بھی پروفیسر کو پرو وائس چانسلر تعینات کرسکیں اور انہوں نے اپنا اختیار استعمال کیا ہے ۔

جونیئر ڈاکٹر شاہد رسول کی تعیناتی کا جاری کردہ لیٹر کا عکس

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اگر صوابدیدی اختیار استعمال کیا جائے تو اس میں وضاحت ضروری ہے کہ ایسی کیا قابلیت تھی جس کی بنیاد پر بارہ سینئر پروفیسرز کو چھوڑ کر تیرہویں نمبر والے کو پرو وائس چانسلر لگایا گیا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان رشید چنا کا کہنا تھا کہ اگراس تعیناتی میں قانونی طور پر کوئی قباحت ہوئی تو اس کو دیکھ لیں گے ۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ حونیئر افسر کی سفارش انور مجید کے بیٹے غنی مجید نے وزیر اعلی کو کی ہے ۔غنی مجید کی پسند پر یہ خلاف ضابطہ فیصلہ کیا گیا یاد رہے یہ وہی غنی مجید ہیں جس کی جگہ ایم آر آئی مشین میں کسی اور مریض کو اخل کرکے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بتایا گیا تھا کہ یہ غنی مجید ہیں بعد ازاں ثاقب نثار اس پر برہم بھی ہوئے تھے تاہم یہ سب اب بھی ریکارڈ پر موجود ہے ۔

ادھر موقر روزنامہ جنگ میں خبر شائع ہونے کے بعد وزیر اعلی ہاؤس میں اس تعیناتی کیخلاف شکایات پہنچ گئی ہے کہ جونیئر افسر نے غلط بیانی سے خود کو سنیارٹی لسٹ میں پہلے چار نمبروں پر ظاہر کرایا جس کی وجہ سے اس کا نام سیکرٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز ریاض الدین قریشی نے چار سینٹر افسران کے نام لکھ سمری وزیر اعلی کا بھیجی جس میں تیرہویں نمبر کے جونیئر افسر کا نام چوتھے نمبر پر درج ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *