جامعہ لیاری کے وائس چانسلر نے لیکچرر ،اسسٹنٹ پروفیسرز کو نوازنے کی تیاری کرلی . رپورٹ

رپورٹ : اختر شیخ

بے نظیر بھٹو شہید کے نام سے موسوم لیاری میں واقع جامعہ شہید بی بی بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں من پسند افسران کو اسسٹنٹ،ایسوسی ایٹ اور پروفیسر بنانے کی تیاری کرلی گئی ہے،جامعہ کی انتظامیہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے برعکس ایم فل اساتذہ کو اسسٹنٹ پروفسیر اور ایم اے کو لیکچرر بھرتی کرنے کی تیاری کی ہوئی ہے،مبہم اشتہار میں سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اسامیوں پر دیہی،شہری،اسپیشل پرسن اوراقلیتی کوٹہ ہی غائب کردیا ہے،لیکچرر کے لئے 12لاکھ روپے مبیننہ طورپر رشوت طلب کی جارہی ہے۔

بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ نے ایک بار پھر غیر قانونی طور پر بھرتیاں کرنے کی تیاری کرلی ہے۔جامعہ کی جانب سے جاری اشتہار میں گریڈ 21پر پروفیسر کی اسامیوں پر بزنس ایڈمنسٹریشن،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ایجوکیشن،کمپیوٹر سائنس،کامرس اور انگریزی میں تعیناتی کی جانی ہیں جب کہ گریڈ 20پر ایسوسی ایٹ پروفسیر کے لئے اسلامک اسٹیڈیز،کمپیوٹر سائنس،تعلیم ، بزنس ایڈمنسٹریشن ، کامرس اور انگزیری میں تعیناتیوں کے علاوہ گریڈ 19 پر اسسٹنٹ پروفسیر کے لئے انگزیزی،کمپیوٹر سائنس،کامرس،بزنس ایڈمنسٹریشن،ایجوکیشن اور مطالعہ پاکستان کی اسامیوں پر تعیناتیاں کی جانی ہیں۔

جامعہ کی انتظامیہ نے اس مبہم و خلاف ضابطہ اشتہار میں اسپیشل پرسن (معذور)کوٹہ،اقلیتی کوٹہ اور دیہی اور شہری کوٹہ ہی غائب کردیا ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی جامعہ میں اسسٹنٹ پروفسیر کے لئے پی ایچ ڈی اور لیکچرر کے لئے ایم فل ہوناضروری ہے جبکہ جامعہ میں اس وقت موجود لیکچررز ایم اے ہیں یا ایم فل کے طلبا ہیں۔اس اشتہا ر میں سندھ بھر سے امیداواروں سے درخواستین مانگی گئی ہیں .

تاہم اپنے ہی جامعہ کے ملازمین کو بھرتی کرنے کی تیاری مکمل کی گئی ہے۔جامعہ میں اس سے قبل بھی لیکچرراور غیر تدریسی عملے کے لئے اشتہار دیا گیا تھا جس کے بعد غیر تدریسی عملے کی بھرتیوں کو منسوخ کردیا گیا تھا،جن میں لیکچرزز کو بھرتی نہیں کیا تھا تاہم اب اس اشتہار کے ساتھ ہی لیکچررزکوبھی بھرتی کیا جائے گا۔

لیکچررز کی اسامیوں کو اپنے ہی لوگوں کو رکھا جائیگا۔جن سے 12بارہ لاکھ روپے مانگے جارہے ہیں۔ حیرت انگیز طورپر جامعہ میں گریڈ 18میں لیکچررزجن میں مطالعہ پاکستان کے کاشف مہیسر،رحیم شر شامل ہیں جن کو اسسٹنٹ پروفیسر بنانے کی تیاری کی جارہی ہے،جبکہ جامعہ میں مطالعہ پاکستان کا کوئی ڈیپارٹمنٹ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفسیر نہیں بنایا جاسکتا۔

اسی طرح جامعہ میں اسلامیات کا کوئی ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے جس کے باوجود اسسٹنٹ پروفیسرگلناز نعیم کو گریڈ 20پرایسوسی ایٹ پروفیسر بنایا جائے گا۔ انگریزی ڈیپاٹمنٹ میں لیکچررثاقب سومرو،خادم ڈاہری،شازیہ شاہ ابڑو اور شگفتہ خرم کو بھی گریڈ 19میں اسسٹنٹ پروفسیر بنایا جارہا ہے۔کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 18کے لیکچرر شفیق اعوان اور معشوق میمن،ظفر شیخ کو بھی اسسٹنٹ رجسٹرار بنانے کی تیاری کی جارہی ہے جب کہ ظفر شیخ ایڈہاک پر جامعہ میں اسسٹنٹ پروفسیر اور قائم مقام رجسٹرار بھی ہیں۔ظفر شیخ نے ہی یہ اشتہار جاری کیا ہے اور خود ہی اس میں امیدوار بھی ہے۔جس کو یہ جعل سازی کرنے پر نواز کر گریڈ 20میں ایسوسی ایٹ پروفسیر بنایا جائے گا۔

کمپیوٹر سائنس کے گریڈ 19کے اسسٹنٹ پروفیسر مظہر علی ابڑوکو گریڈ 20پر ایسوسی ایٹ پروفسیر بنایا جائے گا جبکہ مظہر علی ابٹروکمپوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ ہیڈ بھی ہیں۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کنٹریکٹ پر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تعینات ہونے والی ڈاکٹر صفیہ نیازی کو گریڈ 20میں ایسوسی ایٹ پروفسیر بنایا جائے گا۔بزنس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرر انیلہ دیوی کو گریڈ 19میں اسسٹنٹ پروفیسر بنانے کی تیاری ہے۔

کامرس ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر مدثر حسین کو گریڈ 19اسسٹنٹ پروفسیر بنایا جائے گا۔اسی ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر عمیر بیگ کو گریڈ 19میں اسسٹنٹ پروفیسر بنایا جائے گا۔معلوم رہے کہ جامعہ میں اس سے قبل بھی جعل سازی عرو ج ہے جس کی تحقیقات اینٹی کرپشن نے کرتے ہوئے اچانک انکوائری غیر فعال کردی ہیں جس میں مبینہ طورپر اینٹی کرپشن نے رقم حاصل کی ہے جبکہ نیب میں بھی جعل سازیوں کے حوالے سے انکوائریاں جاری ہیں .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *