آج ہم نماز جمعہ کیلئے یہاں آئے ۔ کیونکہ یہ تاریخی مسجد ہے ۔ جس میں امام و خطیب براہ راست حکومت تعینات کرتی ہے ۔ جبھی سابق خطیب مفتی روح الامین حسینہ واجد کی خوشنودی میں اتنا آگے نکل گئے کہ اسے بنگلہ قوم کی ماں کا خطاب دے ڈالا ۔
پروگریسیو NCP اور اسلامی اندولن جیسی سخت گیر جماعت نے انقلاب کیلئے تحریک شروع کی تو غصہ کی ایک لہر اِدھر کو بھی آئی ۔ مگر اس چنگاری کو جلنے سے روک دیا گیا ۔ جسے دیکھ کر مفتی روح الامین پتلی گلی سے نکل لیئے ۔
عبوری حکومت بنی تو خطابت کا قرعہ فال دارالعلوم کراچی و مفتی تقی عثمانی صاحب سے تعلق رکھنے مولانا عبدالمالک کے نام نکل آیا ۔ 13 فروری کو ڈھاکہ کا میڈیا اسی مسجد اُمڈ آیا تھا ۔ ایک کمیرہ مین "فساد کی مشین” لیئے مسجد میں داخل ہوا تو دوران خطبہ مولانا عبدالمالک نے اسے باہر نکال دیا ۔
خیر مسجد کے صحن اور اطراف میں سیکڑوں نمائندے و کیمرہ مین موجود تھے ۔ جو لوگوں سے BNP کی جیت اور طارق رحمن کے اعلان "جشن نہیں شکرانے کے طور پر جیت منانی ہے” پر بات چیت کر رہے تھے ۔
یہ قومی مسجد ہے ۔ اس کی تعمیر 1960 میں شروع اور 1968 میں مکمل ہوئی ۔ جس کا ڈیزائن عبدالحسین ایم تھریانی نے بنایا تھا ۔ اس میں 40 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے ۔
اس سے منسلک شاپنگ کمپلیکس ہے ۔ اس کے گراونڈ فلور پر شاپنگ سینٹر ‛ لائبریری اور پارکنگ ایریا ہے ۔
