اتوار, فروری 15, 2026

عمران خان ‛ مفتی تقی عثمانی اور بنگلہ دیش

بحثیت مبصر اور صحافی ہم نے ڈھاکہ ڈویژن کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ہے ۔ جن میں پوش علاقوں اور غریب آبادیوں کے لوگوں سے اُن کی یا پھر اپنی مرضی سے گفتگو بھی کی ہے ۔
بنگلہ دیش میں عمران خان کی مقبولیت کا عالم وہی ہے ۔ جو لگ بھگ پاکستان میں ہے ۔ یہاں ڈھاکہ میں اب تک ہم نے لوگوں سے پاکستان سے متعلق جو نام سنے ہیں ‛ ان میں سر فہرست عمران خان اور مفتی تقی عثمانی صاحب ہیں ۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد مولانا طارق جمیل ‛ حکیم اختر رحمہ اللہ ‛ عبدالمجید ندیم شاہ رحمہ اللہ اور شاہد آفریدی وغیرہ شامل ہیں ۔ جن کو لوگ پسند کرتے بلکہ فالو کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ہانیہ عامر ‛ عمران عباس اور عاطف اسلم وغیرہ بھی نوجوانوں میں بہت پاپولر ہیں ۔ ایسا اس لیئے بھی ہے کہ یہاں پر پاکستانی چینلز میں ARY ڈیجیٹل آتا ہے اور اسے یہاں کی عوام دیکھتی ہے اور پاکستانی ڈراموں کی وجہ سے انہیں ہمارے اداکار پسند ہیں ۔
اس خطے میں انڈیا کا چونکہ بڑا گہرا تسلط رہا ہے ۔ اس لیئے انڈین چینلز یہاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہاں کے تمام معروف کرداروں اور اداکاروں سے لوگوں کو شناسائی ہے ۔ تاہم مجموعی طور پر یہاں کے نوجوان انڈیا کو اب ناپسند کرتے ہیں اور یہ ناپسندیدگی فطرت کے اصولوں کے عین مطابق ہے ۔ کیونکہ دھونس سے نہ تو اپنا کچھ منوایا جا سکتا ہے نہ زیادہ دیر تک کسی کو دبایا جا سکتا ہے ۔
ریحان حسن صاحب کیمطابق کہ یہاں پر بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان اتنے معروف ہیں کہ اگر اس ملک کی کسی بھی نشست سے الیکشن کیلئے انہیں امیدوار بنا دیں تو بلا مبالغہ جیت جائیں گے ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب کو بنگلہ دیش میں اپنے مسائل کے حل کیلئے واحد حل سمجھا جاتا ہے ۔ دارالعلوم کراچی کے فتاوی جات کو یہاں خاصی مقبولت حاصل ہے ۔
ہم کیا مشورہ دے سکتے ہیں لیکن اس وقت کی پارلیمنٹ میں BNP میں بھی پُرو پاکستانی MP’s کی بڑی تعداد ہے اور اینٹی انڈیا تو بہت زیادہ MP’s ہیں ۔ ایسے میں نہ صرف ہمیں اپنے ان لوگوں کے ذریعے بنگلہ دیش میں سفارت کاری کو آگے بڑھانا چاہیئے بلکہ حالیہ صورتحال کا تیزی سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔
آگے کی کچھ پوسٹوں میں ہری پور والے پیر صابر شاہ ‛ بنگلہ دیش میں مسالک کی صورتحال ‛ مدارس کے سسٹم اور پاکستانی طلبہ کی وہاں تعلیم اور بنگلہ کے طلباء کا یہاں آنا اس پر بات کی جائے گی ۔
عظمت خان

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں