پنجاب کے مدارس حکومتی تحویل میں لینے کی تیاری

رپورٹ : عمر فاروق

چیرٹی ایکٹ دینی مدارس کے گلے کاپھندہ بن گیا ۔پنچاب میں دینی مدارس کاباقی رہنامحال ہوگیا ۔

مدارس وخیراتی ادارے غیر اعلانیہ طور پر حکومتی تحویل میں چلے جائیں گے ۔

مسلم لیگ ن کی طرف سے بنایاگیا چیرٹی ایکٹ دینی مدارس کے گلے کاپھندہ بن گیااس ایکٹ کے بعد پنچاب میں دینی مدارس کاباقی رہنامحال ہوگیا ۔

مدارس وخیراتی ادارے غیر اعلانیہ طور پر حکومتی تحویل میں چلے جائیں گے چیرٹی ایکٹ کے بعد دینی مدارس ،مساجد،مذہبی انجمنیں اوررفاعی وفلاحی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ ہوگئی ہے باقی تینوں صوبوں نے بھی اس ایکٹ کو نافذ کرنے کاپروگرام بنالیاہے دینی مدارس کے ذمے داران سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔

پنچاب میں مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت نے چیرٹی ایکٹ بناکرمدارس کوجکڑلیاہے،ملک بھرمیں دینی مدارس 1860 کے سو سائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن ہوتے رہے ہیں مگرسابق وزیراعلی پنچاب میاں شہباز شریف کی حکومت کے منظور کردہ چیرٹی ایکٹ منظور شدہ 28فروری 2018ء جس پر گورنر نے 7مارچ2018ء کو دستخط کئے اور 8مارچ2018ء پنجاب گزٹ میں صفحہ نمبر6329-36پر نشر ہواچیرٹی ایکٹ کے نفاذکے بعد پنچاب بھرمیں دینی مدارس کاباقی رہنامحال ہوگیاہے۔


دینی مدارس کی آازادی وحریت پرسوالیہ نشان لگ گیاہے معاونین کے کوائف حکومتی اداروں میں جانے کے بعد چندہ سسٹم ختم ہوجائے گا اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد حکومتی مشنری اس قدر بااختیار ہو گی کہ وہ جائزنا جائز وجوہ کی بنیاد پر ادارہ کے عہدیدارن مثلاً مہتمم/نائب مہتمم/ناظم اعلیٰ/خزانچی یا دیگر کسی عہدیدار کو از خود تبدیل کر دیں یامجاز افسر یعنی ادارہ میں کام کرنے والے اکاؤنٹنٹ /ناظم/محاسب وغیرہ کو بدل دیں یعنی حکومت کی جانب سے ادارہ میں افراد لاکر بٹھادیں یہ سب اس بل کی بدولت ممکن ہوگا۔

چیرٹی یعنی جملہ خیراتی ادارے جو پہلے سے رجسٹرڈ ہیں، اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد ان کی رجسٹریشن منسوخ متصور ہوگی اور انہیں اس نئے چیرٹی ایکٹ کے تحت دوبارہ رجسٹرڈ ہونا ہوگا۔ واضح رہے کہ جملہ دینی مدارس، مساجد، مذہبی انجمنیں، رفاہی ادارے چیرٹی کے ضمن میں آتے ہیںاوراس قانون کااطلاق ان سب پر ہوگا اس ایکٹ کے تحت اداروں کی رجسٹریشن کے لیے ضروری ہوگا کہ درج ذیل دستاویزات محکمہ کو جمع کروانے کے پابندہوں گے رجسٹرڈ ادارہ کو ایک ڈیکلئریشن تیار کرنا پڑے گا، جس میں درج ذیل امور کو بیان کرنا ضروری ہوگا۔ معاونین کے نام وپتے، عطیہ کی تجویز کردہ مقدار، فنڈ جمع کرنے والوں کے نام و پتے ، فنڈ وصول کرنے والوں کے نام وپتے، فنڈ جمع کرنے کے اہداف، فنڈ رکھنے والے بینکوں یا افراد کے نام وغیرہ دینے کے پابندہوں گے اس مقصدکے لیے حکومت پنچاب ایک کمیشن بنائے گی جوتین کمشنرزپرمشتمل ہوگایہ کمیشن ان اداروں کورجسٹرڈکرے گاچیرٹی ایکٹ کی دفعہ نمبر 8 کے تحت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کمیشن کسی ٹرسٹی( ادارہ کے عہدیدار یارکن) یا کسی افسر (ناظم مالیات یا کوئی دیگر ملازم) یا کسی عہدیدار کا تقرر کر سکتا ہے۔

دفعہ نمبر9کے تحت تحریر ہے کہ کمیشن بذات خود یا حکومت کی طرف سے درخواست پر یا کسی فرد کی جانب سے آمدہ شکایت پر چیرٹی کے معاملات میں دخیل ہو کر انکوائری کر سکتا ہے، تاکہ تحقیق کی جائے کہ کہیں کوئی خیراتی فنڈ غلط جگہ یا غلط مد میں صرف نہیں ہو رہا یا ایسا کوئی عمل جس سے اعتماد کو نقصان نہیں پہنچ رہا ۔

دفعہ نمبر12کے تحت ہر چیرٹی کمیشن کے ساتھ حکومت کی جانب سے بذریعہ نوٹیفکیشن مقرر کردہ تاریخ کے اندر اندر اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروائے گا۔ کوئی چیرٹی اس وقت تک خیراتی فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش نہیں کر سکتی، جب تک وہ اس ایکٹ کے تحت اپنے آپ کو رجسٹرڈ نہیں کر لیتی۔ایکٹ کی دفعہ نمبر20کے تحت طے ہے کہ کسی چیرٹی کا کوئی سفیر اس وقت تک نہ چندہ کرے گا اور نہ ہی اس کی اپیل کرے گا جب تک وہ مطلوبہ کلیکشن (جمع کرنے ) سے قبل اس چندہ کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری اور اسے منظوری دینے والی اتھارٹی کے سامنے پیش نہ کرے اورمنظوری دینے والی اتھارٹی اس چندہ کے حوالہ سے تحریری اجازت نہ دے دے دفعہ نمبر32 کے تحت کوئی بھی شخص جو بے ایمانی، دھوکہ دہی یا فراڈ سے خیراتی فنڈ جس پر اس ایکٹ کا اطلاق ہے، کے جمع کرنے سے متعلق کسی بھی ریکارڈ کو چھپاتا ہے یا بددیانتی سے خراب کر تا ہے تو وہ ایکٹ کی خلاف ورزی کر نے والا (مجرم) متصور کیا جائے گا۔

کوئی شخص جو اس ایکٹ کی کسی شق اس یکٹ کے تحت بننے والے احکام یا ہدایات کی حکم عدولی کرے تو اسے سزا کے طور پر جرم کی نوعیت کے اعتبار سے چھ ماہ تک پابند سلاسل کیا جاسکتا ہے۔

مگر یہ قید کی سزا پندرہ روز سے کم نہ ہوگی مزید اسے جرمانہ کے طور پر پچیس ہزار سے ایک لاکھ تک کی رقم بھی ادا کرنا ہوگی۔دفعہ نمبر٣٥ کے تحت اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے فردسے عدالت غلط طریقے سے اکٹھا کیا گیا فنڈ ضبط کر سکتی ہے یا غلط طریقے سے خرچ کیا گیا فنڈواپس وصول کر سکتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *