جمعرات, فروری 22, 2024
ہومبلاگاجڑا روٹ ، ہائے میری W11 --- وقت کی تیز رفتاری...

اجڑا روٹ ، ہائے میری W11 — وقت کی تیز رفتاری نے تجھے مارا

اب تو کراچی میں بسیں اور ویگنیں کہاں رہی ہیں جو ان کے روٹس باقی رہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں ویگنوں کے روٹ میں W11 کی دھوم تھی ۔ اس کے مسافروں کو اس سے عجیب سی انسیت تھی ۔ یہ شہزادی فراٹے بھرتی اللہ والی نیو کراچی سے کیماڑی تک جاتی تو ہٹا بچو کی آوازیں آتیں ۔ اس کی روڈ کو چھوتی سجاوٹی پٹیوں سے نکلتی پازیب جیسی جھنکار ، مثل چیتا رفتار اور ہارن سے آتی للکار نے ہم جیسوں کو تیرا دیوانہ بنائے رکھا ۔

یہ اپنے کام میں مشاق تھی ، اس لیے ہم اس کے عشاق تھے ۔ اس کا روٹ بڑا برکتی تھا ۔ اس کے زمینی پائیلٹس یکتا و یگانہ تھے ۔ ہنر مندی ان پر ختم تھی ۔ اسپیڈ ، بریک اور ٹرن کاٹنے پر بلا کی گرفت تھی ۔ ایک ایک انچ کیا ایک ایک سوت کے فاصلے کا پتہ ہوتا. کسی کی سانس رکے تو رکے مگر یہ مطمئن ہوتے۔

میرا خیال ہے کہ شہر کے بہترین زمینی پائیلٹس اس روٹ پر ہوا کرتے تھے ۔ جب یہ کبھی آپس میں ریس لگاتے تو بھی ظالم مسکرا رہے ہوتے اور ہلکے دل والوں کے سینے دل کی دھک دھک سے باہر نکل رہے ہوتے ۔ جو ان کی ڈرائیوگیری کے معترف ہوتے وہ بے فکر ہوتے اور اس ریس کے خوب مزے لیتے. ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے کبھی کسی W11 کا کوئی بڑا ایکسیڈنٹ کبھی نہیں دیکھا۔

کنڈیکٹر بھی اپنے کام میں اعلی و ارفع تھے۔ چلتی ویگن میں گیٹ پر کھڑے ہوں تو زمیں پر پیروں کو چھوتے. سیٹیاں مارتے, اسپیڈ ذرا ہلکی ہو تو چھلاوے کی طرح ایک دروازے سے دوسرے دروازے جا پہنچتے۔ ایک ہاتھ میں نوٹ ہوتے تو دوسرے ہاتھ سے گیٹ پر لٹکے کرایہ وصول کر رہے ہوتے اور ساتھ ساتھ پہلے سے بھری ویگن میں مسافروں کو آگے جانے کا حکم نامہ بھی دے رہے ہوتے. اس دوران تو تڑاخ بھی ہو جاتی. کوئی دل جلا مسافر کہہ دیتا :یہاں سانس لینے کی جگہ نہیں آگے تو نے کیا پلنگ بجھایا ہوا ہے میرے لیے؟

اس زمانے میں W11 کی اندرونی سجاوٹ انتہا یہ تھی کہ اس میں سونے کی chains تک لٹکی ہوا کرتی تھیں. آپس میں سجاوٹ کے مقابلے ہوا کرتے ۔ سیٹیں آرام دہ ، کھڑکیوں پر اعلی پردے پڑے ہوتے. مجال ہے کہ کسی کھڑکی کا کوئی شیشہ ٹوٹا ہوا. سردیاں ہوں تو اسے بند کر لیجئے اور سفر کے ایک ایک لمحے لطف اٹھایئے. باپر سے اس پر جو ڈیزائن بنے ہوتے اور پتلی سنہری پلیٹوں سے بنے جو ” زیورات ” اسے پہنائے جاتے وہ کسی دلہن سے کم نہ ہوتے. نئے پرانے گانوں کے ساتھ ساتھ نعتوں ، قوالیوں کے کیسٹس بھی بڑی تعداد میں ہوتے. ربیع الاول اور محرم کی مناسبت سے انتخاب موجود ہوتا ۔

اس روٹ کی شہرت روڈ پر دوڑتے ہوئے آسمانوں کو چھو رہی تھی۔ اس کے نام پر مزاحیہ کیسٹ نکلے۔ کینیڈا میں اس کی کاپی کی گئی. میوزیم میں رکھی گئی. مبلبرن کی سڑکوں پر رواں دواں ہوئی. دن کے 24 گھنٹے میں سے 20 یا 18,19 گھنٹے چلنے والا یہ روٹ اب رات گیارہ بارہ بجے تک بند ہو جانے کی اطلاع ہے.

مسافروں سے لدی پھندی W11 میں مسافروں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے. مسافروں کی کمی اور ویگنوں کی زبوں حالی کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کی تیز رفتاری سے بے رغبتی اور کنڈیکٹروں کی نحیف و زار آوازیں اجڑے روٹ کی بپتا سبا رہی ہیں۔ مسافروں سے ہر وقت بھرا رہنے والا یہ امیر ترین روٹ اب اپنی غربت کی داستان سنا رہا ہے.

مجھے یاد ہے کہ میں جب کبھی کالج یا آفس سے واپسی پر دس نمبر سے اس میں سوار ہوتا تو کونے کی سیٹ پر بیٹھ جاتا. تیز ہوا کے جھونکے اور اس پر اونچی آواز میں گانے مزا دے جاتے. لتا منگیشکر کا یہ گانا میں نے پہلی مرتبہ W11 میں سنا تھا.

دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے
اپنے ہی گراتے ہیں نشمین پہ بجلی
غیروں نے آ کے پھر بھی ہمیں تھام لیا ہے

ایک زمانے میں W11 کے روٹ پر ہی W16 کے روٹ کا اعلان ہوا۔ یہ W11 کے لیے کسی طبل جنگ سے کم نہ تھا ۔ W11 کی ہر ویگن میں جنگ کے ہارن بجا دیئے گئے ۔ نئی کراچی سے کیماڑی تک اس کی طاقت کو چیلنج کیا جا رہا تھا ۔ ایک شہزادی وہ بھی نخروں والی یہ برداشت کہاں کرتی کہ کوئی اس کے مقابلے پر آئے۔ W16 پر عام سی سادہ ویگنیں تھیں ۔ W11 نے وہ وقت ڈالا کہ یہ روٹ کچھ عرصے بعد بند ہی ہو گیا۔

ویگن W11 کراچی کا ایک بڑا روٹ تھا اس لیے اس کی سیٹنگ بھی بڑی تھی۔ بسوں پر مخصوص نام لکھے ہوتے جس کا مطلب ہوتا کہ انہیں نہ روکنا. ممکن ہے کچھ لوگوں کو W11 پر ” فخر حبیب ” لکھا یاد ہو. میں یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اس بابت ایل اخبار یا رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ سنا ہے پہلےاس روٹ پر صرف قریشی برادری کی ویگنیں چلا کرتی تھیں۔ اب ان کے مالکان نے چنجیاں خرید لی ہیں جو F12 کے نام سے چلتی ہیں۔ W11 کے ساتھ غریب کی جورو سب کی بھابھی وا معاملہ ہو گیا ہے جو چاھے اس روٹ پر اپنی ویگن لے آئے. وقت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جس W11 نے اپنی ہم وزن اور ہم روٹ W16 کو چند دنوں میں روڈ سے چلتا کردیا۔ اب خود ایک 6 سیٹوں والی چنجی سے ہار رہی ہے. واقعی وقت کی رفتار سب سے تیز ہے اس سے کوئی نہیں جیت سکتا۔۔۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں