Home تازہ ترین کتاب کے ساتھ وقت گزارنا، پسندیدہ مشغلہ

کتاب کے ساتھ وقت گزارنا، پسندیدہ مشغلہ

0
57

تحریر: مدیحہ ضرار

کابوس کو ختم کر نے کی مجھے بہت جلدی تھی اسلیے جس دن کتاب موصول ہوئی تو فوراً ہی رات کو پڑھنا شروع کر دی۔ لیکن سٹوڈیو کے کام کی شدید مصروفیت اور تھکن کے باعث مجھ سے پہلے دن دو افسانوں سے زیادہ کتاب پڑھی نہیں گئی۔ اگلے دن بھی کوشش کی لیکن بہت فوکس کے باوجود ناکام رہی۔ پھر میں نے یہ کام ویک اینڈ کے لیے رکھ چھوڑا جو بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔ کتاب کو جلدی میں پڑھنا بھی کتاب کے ساتھ زیادتی ہے اور مکمل یکسوئی کے ساتھ بھی نہ پڑھا جائے تو وہ حق ادا نہیں ہوتا جس کی کتاب مستحق ہوتی ہے۔

ویک اینڈ پر آرام سے وقت نکال کر میں نے کابوس کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ مسلم انصاری صاحب نے بہت ہی بہترین انداز سے ہر افسانہ میں کوئی نہ کوئی احساس کو منفرد طریقے سے بیان کیا ہے۔ کئی مقام پر میں نے رُک کر سوچا کہ ایسا ہی تو ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں۔۔۔! یہ سب ہمارے اردگرد کی کہانیاں اور احساس ہی تو ہیں۔ ہم سب ان احساسات کو بالکل ایسے ہی تو محسوس کرتے ہیں لیکن ان کو بیان کرنے کا آرٹ مسلم انصاری صاحب کے پاس آیا ہے۔ ماشاءاللہ

میری نظر میں کتاب کی یا مضمون کی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو ایک نیا زاویہ یا سوچ دے جائے اور کابوس نے ایک دو افسانوں میں مجھے ایک نئی سوچ دی ہے۔

کابوس افسانوں کا مجموعہ ہے۔
میری نظر میں افسانہ لکھنا ناول لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔

"کھوئے ہوئے شہر کی گڑیا” ,”چڑیا دا چمبا”, "ناکارہ چھچھڑا” میرے پسندیدہ افسانے بن چکے ہیں جس کی مرکزی خیال بہت ہی شاندار ہیں.. بہترین کتاب اور عمدہ فلسفہ جو کہیں کہیں بہت سادگی سے بہت کچھ بیان کر جاتے ہیں. ہر تخلیق کار کی ایک پہنچان ہوتی ہے جو کہ اس کی تحریروں سے بخوبی سمجھ آجاتی ہیں اور کابوس میں مجھے معاشرے کے لیے اداس احساس واضح نظر آیا ہے.

"ہمیشہ ایک ایسا راستہ ہونا چاہیے جو کہیں نہ جاتا ہو! "

"جب کرنے کو کچھ نہیں بچتا تو جو چیز سب سے پہلے انسان کا گھیرا تنگ کرتی ہے وہ ہے سوچ”

” لڑکیوں کا تو چڑیاں دا چمبا گھر ہوتا ہے، بابا میں بھی ایک روز بابل کے گھر سے اڑ گئی تھی، میں سوچ رہی تھی مردوں کا چڑیاں کا چمبا کیا ہوتا ہے؟” صغیر نے بتایا کہ: "جس دن مرد کمانے جاتا ہے وہ اپنے چمبے سے اڑ جاتا ہے۔”

بطور لکھاری میں نے مسلم انصاری کے اسلوب سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے اور جانتی ہوں کہ ان کا ذوق ادبی ہے جو ان کی تحریروں میں نمایاں ہے۔۔۔!

خوشی ہوئی کہ کابوس کو ایوارڈ کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔ ماشاءاللہ
اللہ کرے یہ کتاب اس سے بھی زیادہ پذیرائی حاصل کرے۔
آمین