بدھ, مئی 22, 2024
ہومتازہ ترینیہودیوں کا تانا بانا (حصہ ششم و آخر)

یہودیوں کا تانا بانا (حصہ ششم و آخر)

تحریر: مسعود انور

دیکھنے میں یہ بات عجیب و غریب نظر آتی ہے کہ عیسائیوں نے یہودیوں کو مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا مگر یہودی دشمن مسلمانوں کے ہیں ۔ بالکل اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کو صلیب پر چڑھانے میں یہودیوں کا کردار کلیدی تھا ۔ اس کے باوجود عیسائی یہودیوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ اس سوال کا جواب بوجھنے سے قبل ایک بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ مذکورہ دونوں ادیان اسلام کے مقابلے میں اپنی معدومیت کے خطرے سے دوچار رہے ہیں ۔ پھر یہ دونوں ادیان ہی اسلام سے وہ شکست کھا چکے ہیں کہ بھولے نہیں بھولتے ۔

 

آج بھی صہیونی تڑپ کے نعرہ لگاتے ہیں کہ خیبر کو ہم نہیں بھولے ۔ اگر خیبر میں یہودیوں کو شکست نہ ہوتی تو وہ پورے عرب کو اور پھر آس پاس کے علاقوں کو کنٹرول کررہے ہوتے ۔ شکست خیبر کے بعد انہیں در بہ در پھرنا پڑا جس کا نتیجہ انہوں نے یورپ میں عظیم انخلا کی صورت میں بھی بھگتا ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال عیسائیوں کے ساتھ ہے کہ صلیبی جنگوں کے زخم روز ہرے ہوجاتے ہیں ۔ اگر صلیبی جنگوں میں شکست نہ ہوتی تو آج عیسائی ہی دنیا میں ہوتے اور مسلمان عملی طور پر ختم ہوچکے ہوتے ۔ ان کے نزدیک اس وقت مشترکہ دشمن مسلمان ہے تو پہلے کیوں نہ اس بڑے خطرے سے نمٹ لیا جائے ، اس کے بعد آپس میں بھی نمٹ ہی لیں گے ۔

تاریخ اٹھا کر دیکھیں ۔ یہودی کبھی بھی جانباز قوم نہیں رہے ۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے بھی کہا کہ تم اور تمہارا خدا ان سے لڑے ، ہم میں تو طاقت نہیں ہے ۔ انہوں نے جالوت کے مقابلے میں بھی حضرت طالوت سے بھی کہا کہ ہم میں تو آج لڑنے کی طاقت نہیں ہے ۔ تم خود ہی ان سے لڑلو ۔ یہ صرف معجزات کے انتظار میں رہنے والی قوم ہے جو دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر مطلب براری کرنے کی عادی ہے ۔ انہوں نے انبیاء کو خود بھی قتل کیا اور سازشیں کرکے قتل بھی کروایا۔ یہ خوب جانتے ہیں کہ ان کے معاملات اللہ تعالیٰ کے پاس کتنے گڑ بڑ ہیں ۔ اسی لیے یہ بیساکھیاں ڈھونڈتے ہیں کہ اللہ کے محبوب انبیاء ان کی شفاعت کروادیں گے اور اگر انہیں سزا بھی ہوئی تو علامتی ہوگی ۔ یہ ساری باتیں دل کو بہلانے کی ہیں ۔ ورنہ حقیقت سے یہ خود بھی خوب واقف ہیں ۔ اسی لیے موت سے ڈرتے ہیں ۔

عیسائیوں کی صورتحال یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کا بدلہ انہوں نے گزشتہ بیس برسوں میں مسلم دنیا سے خوب دل بھر کے نکالا ہے ۔ مگر یروشلم اب بھی ان کے دل میں بستا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ایک دفعہ یروشلم سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا جائے اس کے بعد یہودیوں کو دیکھا جائے گا کہ یہ ہیں ہی کتنے ۔ ہم نے پہلے بھی پورے یورپ میں یہودیوں کو فٹ بال بنا کر رکھا تھا ، اب پھر سے یہی کھیل کھیل لیں گے ۔

عیسائیوں میں ہی evangelical نامی فرقہ نے گزشتہ بیس برسوں میں زور پکڑا ہے ۔اس فرقہ کا وجود تو 1940 میں عمل میں آیا تھا تاہم نائن الیون کے بعد سے اس میں شدت پید اہوئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی دنیا میں واپسی کے لیے ضروری ہے کہ دنیا پر شیطان کا غلبہ مکمل ہو تو کیوں نہ شیطان کی مدد کی جائے تاکہ اس کا غلبہ جلد از جلد مکمل ہو اور حضرت عیسیٰؑ فوری طور پر دنیا میں آ کر ایک عالمگیر عیسائی حکومت کا قیام عمل میں لائیں ۔ اس لیے بھی وہ صہیونیوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں ۔

ایک لمحے کے لیے آپ عیسائی حکومتوں کو اسرائیل کے مددگاروں کی فہرست میں سے نکال دیں تو دیکھیں گے کہ اسرائیلی یا یہودی کچھ بھی نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے ، اسرائیل پر کوئی فرق نہیں پڑتا مگر امریکا میں ہارورڈ یونیورسٹی میں ہونے والا طلبہ کا ایک مظاہرہ اس کی راتوں کی نیند اڑا دیتا ہے ۔ عیسائی دنیا کو یہودیوں نے اپنے بینکاری نظام ، قرضوں اور ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے قابو تو کیا ہوا ہے مگر انہیں پتا ہے کہ جس دن عام عیسائی بیدار ہوگئے ، ان کے پیروں تلے زمین کھسک چکی ہوگی ۔ اس کے لیے وہ ہر روز پیش بندی کرتےہیں ، بھرپور پروپیگنڈا کرتے ہیں ، اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرتےہیں ، عیسائی دنیا کو آسائشات کا عادی بناتے ہیں اور ان آسائشات کی فراہمی کے لیے ان سے غلاموں کی طرح دن و رات مشقت لیتےہیں کہ ان کے پاس سوچنے سمجھنے کا وقت ہی نہ رہے ۔

اب آتے ہیں آخری سوال کی طرف کہ مسلمانوں کے لیے اس عذاب سے نکلنے کی صورت کیا ہے ۔ اس سوال کا جواب جتنا سادا ہے ، طاقتور بننا ۔ اس پر عمل اتنا ہی مشکل ہے۔ کسی بھی دشمن پر حملہ کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کے اندر کمزور اہداف تلاش کرنا ہوتے ہیں اور پھر ان پر منظم حملہ کرنا ہوتا ہے ۔ تو سب سے پہلا کام یہی کرنا چاہیے کہ عیسائی دنیا میں سے اسرائیل کی حمایت کم از کم درجے تک لائی جائے ۔ اس کے لیے گرجوں کی مدد حاصل کی جائے ۔ یہ پادری یہودیوں کے خلاف جو کام کرسکتے ہیں ، وہ کوئی نہیں کرسکتا ۔ یہ سمجھ لیں کہ سود کے خلاف ، ان کی جعلی فارما انڈسٹری کے خلاف ، عیسائی دنیا پر ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بدمعاشی کے خلاف عیسائی دنیا کو کھڑا کرنا ہے ۔ یہاں سے اسرائیل کی کمر ٹوٹے گی ۔

دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلمان اب بستر چھوڑ دیں اور ہڈ حرامی کی عادت ترک کردیں ، کام کی عادت اپنائیں ۔ نہ صرف کام کرنے کی بلکہ ایمانداری سے کام کرنے کی ۔ جس روز مسلمان استاد اور مسلمان والدین نے اپنا کام ایمانداری سے شروع کردیا ، انہیں کوئی نہیں توڑ سکے گا ۔ جس روز مسلمان انجینئر نے اپنا کام شروع کردیا ، مسلمان ادویہ ساز نے دوسروں پر انحصار کے بجائے اپنی تحقیق شروع کردی ، مسلمان صحافی نے دوسروں کی فیڈنگ کے بجائے اپنا تحقیقی کام شروع کردیا وغیرہ وغیرہ ، سب کچھ ازخود ٹھیک ہونا شروع ہوجائے گا۔ اس میں ایک اہم ترین کردار عدلیہ کا ہے ۔ اسے درست کرنے کے لیے جس روز سب نے کمر کس لی اور اسے راہ پر لے آئے ، یقین مانیے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی خود بہ خود درست ہوچکی ہوگی ۔ جب عوام میں بیداری آئے گی تو ترکی کی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی کچھ نہیں کرسکے گی ۔ یہ نسخہ صرف پاکستان کے لیے نہیں ہے بلکہ پوری امہ کے لیے ہے ۔ یعنی انفرادی سطح پر اپنے آپ سے جہاد شروع کریں اور پھر ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر پریشر گروپ بنائیں تاکہ یہودیوں اور اسرائیلیوں کے ایجنٹوں سے نجات حاصل کرسکیں ۔

سمجھ لیں کہ اب یا کبھی نہیں کا مقام آچکا ہے ۔ یا تو اٹھ کھڑے ہوں یا پھر سقوط ہسپانیہ کی تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہوجائیں جہاں پر ایک ایک کرکے سارے زیر ہوگئے اور پھر وہ قتل و غارتگری ہوئی کہ وہاں اب نام کے مسلمان بھی باقی نہیں رہے ۔ پہلے یہ کھیل صرف ہسپانیہ میں کھیلا گیا تھا مگر اب اس کی منصوبہ بندی پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے کی گئی ہے ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں