جمعہ, اپریل 19, 2024
ہومتازہ تریناسرائیل فلسطین جنگ: موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟

اسرائیل فلسطین جنگ: موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟

تحریر : سید عزیز الرحمن

ہر حادثہ انسان کے لیے ایک سبق اور درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اسی انسان پر منحصر ہے کہ کبھی وہ درس گاہ جا کر بھی علم حاصل کرنے میں کام یاب نہیں ہوتا اور کبھی وہ راہ چلتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے۔

مقدس سرزمین کے موجودہ قبضے میں بھی ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں، جنہیں ہم یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس سلسلے میں چند گزارشات پیش ہیں:

الف: مسلم امہ کا تصور موجودہ حالات میں ایک بار پھر واضح ہو کر سامنے آیا ہے، یہ ایک بہت بڑی کام یابی ہے، لیکن یہ محض کام یابی کی طرف جانے والا راستہ ہے،خود منزل نہیں، اس تصور کو مزید پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بغیر کسی رد عمل کا شکار ہوئے اور بغیر لبرلزم کے طعنوں کو خاطر میں لائے، پوری ایمانی قوت کے ساتھ اور پورے جذبہ اخوت اسلامی کے تحت اس فکر کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام تحریر اور تقریر کے ذریعے رسمی درس گاہوں کے ساتھ ساتھ غیر رسمی گفت گو میں بھی اس موضوع کو سمو کر سہولت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

ب: نسل نو تک بھی یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے کہ جدید ریاستی تصورات کے تحت امت مسلمہ کی وحدت اور اخوت کو پامال نہیں ہونا چاہیے، اور چوں کہ ہم بہ ہرحال ایک امت واحدہ کا حصہ ہیں، اس لیے ہمیں کم سے کم کے درجے میں بھی اپنے بھائیوں کے دکھ کو اپنادکھ سمجھتے ہوئے محسوس کرنا چاہیے۔

ج: موجودہ صورتِ حال نے پوری دنیا میں موجود ی ہ و د کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، اس جنگ کے کئی ایک فریق ہیں، اس میں ایک بڑا فریق دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ی ہ و د ی آبادی ہے، وہ اس وقت سخت پریشان ہیں اور انتہائی خوف زدہ بھی،یا کم از کم مستقبل کے حوالے سے فکر مند ضرور ہیں۔ انہیں اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ حقیقتیں باور کرائی جا سکتی ہیں، یا کم از کم ان کے سامنے رکھی جا سکتی ہیں، مثلاً یہی کہ اس قسم کی صورتِ حال سے ان کا مستقبل کس قدر مخدوش ہو سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا کس قدر نقصان ہو رہا ہے۔ اسی طرح ان حالات میں ان کی وہ کام یابی بھی سراسر معرض خطر میں پڑ سکتی ہے جو انہوں نے کوئی 100 برس کی ریاضت کے بعد حاصل کی ہے اور دنیائے انسانیت میں اپنے آپ کو اچھوت قرار دینے کے بعد پھر ایک بار گنجائش پیدا کی ہے.

د: ایک کام تو حکومتوں کے کرنے کا ہے کہ وہ اس کا پرامن اور پائیدار راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں، اور اس سے بھی پہلے اس وقت موجود مسلمانوں کی ضرورتوں کی ایسی تکمیل کر سکیں کہ وہ انسانی المیہ جو جنم لے رہا ہے، بل کہ جنم لے چکا ہے، مزید نقصانات سے بچ سکے یا نقصانات کی شرح کم سے کم ہو سکے۔ تھنک ٹینکس، سوچنے والے دماغ، اور سول سوسائٹی کے لوگ اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال سکتے ہیں، اس مقصد کے لیے میڈیا کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ملاقاتوں کے ذریعے بھی حکومتی ذمے داروں کو توجہ دلائی جا سکتی ہے۔ پبلک اوپینین کے لیے پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

ھ: ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہمیشہ کی طرح اس جنگ میں بھی ہماری اصل ناکامی بنیادی طور پر میڈیا کی ناکامی ہے، میڈیا میں ہر ہر اعتبار سے ان ہی کا زور ہے، جن کی جانب سے یہ حالات ہم پر مسلط ہیں۔ اس صورت حال میں بڑے بڑے دماغوں کو اور ان سے بھی بڑے سرمایہ داروں کو اس جانب توجہ کر کے مستقبل کی تیاری کرنی ہو گی،اور ایسی انویسٹمنٹ کرنی ہوگی،جو مستقبل میں ان کے بالمقابل ہمارا اپنا میڈیا کھڑا کر سکے. چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی تگ و دو اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑے۔

و: اس موقع پر غاصب قوتوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی ایک موثر ہتھیار ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے دو تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک تو برانڈ متعین کرنے ہوں گے، جو واقعی بہ راہ راست فریق کے برانڈ شمار کیے جا سکتے ہیں، پھر ان کے متبادل برانڈز کو بھی، جو ہر اعتبار سے قابل اعتماد ہوں،متعارف کرانا ہوگا۔ پھر عوامی سطح پر اپنی مصنوعات پر اعتماد بھی پیدا کرنا ہوگا۔سرمایہ دارانہ ذہنیت نے جو پوری قوم کو برانڈ کانشس بنا دیا ہے،اس ذہنیت سے بھی باہر نکلنے کی سخت ضرورت ہے۔لیکن یہ عمل محض اخباری بیانات اور جمعہ کے خطبات سے نہیں ہو سکتا نہ اس کے لیے محض جلوس مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ان کے لیے ایسے مقامی سطح پر گروپس کی تشکیل دینی ہوتی ہے جو بڑے اسٹورز میں جا کر انہیں اس کا قائل کر سکیں۔ اگر پاکستان بھر میں متعارف 10،15 بڑے سٹورز ہی 15، 20 بڑے برانڈز کا بائیکاٹ کرنے میں ہمارے ہم نوا بن جائیں تو اس کے مؤثر نتائج آ سکتے ہیں، لیکن کسی ایک علاقے میں ایک دکان پر مثال کے طور پر لیز کے پیکٹس نہ رکھنے میں بائیکاٹ کا کوئی افادی پہلو نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب تک بائیکاٹ کے پاکستان میں کچھ اثرات نظر نہیں آتے.

ز: ان حالات میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مالی مدد بھی ایک بہت اہم طریقہ ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس نوعیت کی فنڈ ریزنگ ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہتی ہے پھر یہ حقیقت بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس پوری مدت میں محض 20 ٹرک جی ہاں صرف 20 ٹرک ہی اندر پہنچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کو دنیا بھر میں اس عنوان پر فنڈ ریزنگ کتنے ہزار اور کتنے لاکھ ٹرکوں پر مشتمل ہوگی۔ اس لیے اگر کسی کا کسی ادارے پر اعتماد ہے تو اسے اس میں ضرور حصہ لینا چاہیے، لیکن عمومی طور پر جو حضرات یہ سب نہ کر سکیں، اور ہم جیسی پوزیشن کے حامل ہوں تو ان کے لیے وہ تمام نکات بہت اہمیت رکھتے ہیں،جن کا اوپر ہم نے ذکر کیا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں