مردم شماری نتائج کے بغیر ہی کنٹونمنٹ بورڈ کی حلقہ بندیاں شروع

رپورٹ : الرٹ نیوز

ملک بھر میں 42 کنٹونمنٹ بورڈ ز کی 199 جنرل نشستوں پر بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے ،مگر متعلقہ افراد کے پاس چھٹی مردم شمار ی 2017ء حتمی نتائج کی تفصیلی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے حکام اور عملے کو شدید مشکلات کا سامناہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ملک بھر کے 42 کنٹونمنٹ بورڈز کے 199 وارڈز کو نئی حلقہ کے لئے تین مختلف کیٹگریوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ پہلی کیٹگری کلاس نمبر 1 کے جس میں 11 کنٹونمنٹ ایریاس آتے ہیں ۔ کلاس نمبر 1 کے کنٹونمنٹ بورڈ 12 وارڈز ممبر ان پر مشتمل ہوگا، جن میں 10 جنرل ، ایک کسان مزدور اور ایک اقلیتی ممبر ہے اور کلاس نمبر 1 میں ایک لاکھ سے زائد سول آبادی ہونا ضروری ہے۔

کلاس ون میں کے وارڈز کی کل تعداد 110 اور کل ممبران کی تعداد 132 ہوگی۔کلاس 2 میں 7 کنٹونمنٹ بورڈز ہیں اور کلاس ٹو کا کنٹونمنٹ 7 بورڈ ممبران پر مشتمل ہوگا، جن میں 5 جنرل ، ایک کسان مزدور اور ایک اقلیتی ممبر شامل ہے۔ کلاس ٹو کے 7 کنٹونمنٹ کے وارڈز 36 اور کل ممبران کی تعداد 50 ہے ، جن میں 36 جنرل نشستوں اور 14 مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونگے۔ کلاس تھری کے کنٹونمنٹ بورڈز کی تعداد 24 ہے اور وارڈز کی تعداد 53 ہے ، جبکہ کلاس تھری کے کل ممبران کی تعداد 67 ہے ، جن میں 53 جنرل نشستوں اور 14 مخصوص نشستوں کے ہونگے۔

ذرائع کے مطابق کلاس ون میں ایک لاکھ سے زائد، کلاس ٹو میں 50 ہزار سے ایک لاکھ تک اور کلاس تھری میں 50 ہزار سے کم آبادی ہونا ضروری ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 10 سے 17 فروری تک حلقہ بندی کمیٹیوں کا ارکان حلقہ بندیاں مکمل کرکے آویزاں کرنی ہے، تاہم چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کا اجراء نہ ہونے کے باعث نہ صرف شدید مشکلات کا سامنا ہے ، بلکہ بروقت کا کی تکمیل بھی ناممکن ہے۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *