کراچی میں قائم ایک مذہبی و تعلیمی تنظیم کے ذیلی ادارے کے اشاعتی منصوبے سے متعلق مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ ٹیکس چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ تنظیمی حکام نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بلیک میلنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر ثبوت کے موقف دینا ممکن نہیں ۔
دعوتِ اسلامی کیا ہے؟
دعوتِ اسلامی پاکستان سے شروع ہونے والی ایک غیر سیاسی، عالمگیر اسلامی تبلیغی تحریک ہے، جس کی بنیاد 1981 میں مولانا محمد الیاس عطار قادری نے رکھی۔ تنظیم کے مطابق اس کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا اور امتِ مسلمہ کی اصلاح ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ 200 سے زائد ممالک میں 100 سے زیادہ شعبہ جات کے ذریعے کام کر رہی ہے۔
اسی تنظیم کے تحت دارالمدینہ انٹرنیشنل اسکولنگ سسٹم کام کرتا ہے، جو مختلف ممالک میں اسکول چلا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کے مالی معاملات کی نگرانی کے لیے شورائی نظام اور آڈٹ کا باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے۔
’پروجیکٹ 102‘ اور کاپیوں کی اشاعت
دستاویزات کے مطابق 16 دسمبر 2025 کو دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس کے تحت ’پروجیکٹ 102‘ شروع کیا گیا، جس کے لیے اردو، انگریزی، ریاضی کی کاپیوں اور ہوم ورک ڈائریوں کی اشاعت کے لیے مختلف وینڈرز سے کوٹیشن طلب کی گئیں۔
دعوے کے مطابق:
- اردو کی 90 ہزار کاپیاں (160 صفحات)
- انگریزی کی 25 ہزار کاپیاں (160 صفحات)
- ریاضی کی 10 ہزار کاپیاں (160 صفحات)
- ہوم ورک ڈائریاں 16 ہزار (152 صفحات)
کے لیے بولیاں جمع ہوئیں ۔ کوٹیشن جمع کروانے والوں میں ڈیپتھ پبلشر، فیضان سیفی بک بائنڈر اور رضا کاپی ہاؤس پنجاب سمیت دیگر شامل تھے۔ دستاویزات کے مطابق مختلف کمپنیوں نے فی کاپی 90 سے 98 روپے تک اور ڈائری کے لیے تقریباً 105 تا 106 روپے ریٹ دیئے۔
الزام ہے کہ بعض کمپنیوں نے اپنے ریٹس میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس شامل کیا، جب کہ ڈیپتھ پبلشر نے مبینہ طور پر بغیر ٹیکس کٹوتی کے ریٹ دیے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ٹھیکہ اسی کمپنی کو دے دیا گیا، جو ٹیکس قواعد اور پیپرا/سیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ڈیپتھ پبلشر پر سوالات
دستاویزات کے مطابق ڈیپتھ پبلشر کا نام پہلی مرتبہ اسی منصوبے میں سامنے آیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹر محمد اویس معیاری کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں دارالمدینہ کے ایک منصوبے سے وابستہ رہے اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے بعد علیحدہ ہوئے۔
مزید الزام ہے کہ:
- کمپنی کو 70 فیصد ادائیگی پیشگی کی گئی۔
- تقریباً 94 لاکھ روپے کے چار چیک مبینہ طور پر بغیر نام کے اوپن کراس چیک کی صورت میں جاری کیے گئے۔
- کمپنی کے کوٹیشن اور ورک آرڈر پر دفتر کا واضح پتہ درج نہیں۔
- ایف بی آر میں درج پتے پر عملی طور پر دفتر موجود نہیں پایا گیا۔
اسی طرح یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمپنی کی رجسٹریشن اور اس سے منسلک دیگر کاروباری پتے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
دیگر وینڈرز کا مؤقف
فیضان سیفی بک بائنڈر کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ ادارے کے ریگولر وینڈر ہیں اور اس بار کم ریٹ دینے کے باوجود انہیں ٹینڈر نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 70 فیصد پیشگی ادائیگی کی پیشکش انہیں کی جاتی تو وہ مزید کم ریٹ دینے کو تیار تھے۔ اور فی کاپی میں 6 روپے مذید کم کر سکتے تھے ۔
انتظامیہ کا ردِعمل
دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس کے ہیڈ آفس میں سی ای او ڈاکٹر دانش اقبال گوڈیل، ڈائریکٹر ایجوکیشن سہیل اور سی ای او فیضان اسلامک اسکول زبیر مدنی سے اس معاملے پر سوالات کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان پر بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی ہے اور جب تک ثبوت فراہم نہیں کیے جاتے یا معلومات کے ذرائع نہیں بتائے جاتے، وہ تفصیلی موقف نہیں دیں گے۔ ٹینڈر کی تفصیلات، پیشگی ادائیگی اور چیکس کے اجرا سے متعلق سوالات پر بھی انتظامیہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔
ڈاکٹر دانش اقبال گوڈیل کی ماہانہ تنخواہ سے متعلق سوال پر ادارے کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح زبیر مدنی کے ذاتی کاروباری مفادات سے متعلق سوالات کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
چیکس کی منتقلی کا دعویٰ
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری کیے گئے چار چیکس مبینہ طور پر 27 جنوری 2026 کو ڈیپتھ پبلشر کے بجائے دیگر اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ اس حوالے سے بھی متعلقہ افراد سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم جواب موصول نہیں ہوا۔
ممکنہ تحقیقات
اطلاعات ہیں کہ اس معاملے پر اندرونی آڈٹ اور ٹیکس حکام کی سطح پر بھی جانچ پڑتال متوقع ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
دعوتِ اسلامی شفافیت اور امانت داری کے اصولوں پر کام کرتی ہے اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو تنظیمی ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
