خادم رضوی کے بھائی سمیت 86 ٹی ایل پی کارکنوں کو سزا

علامہ خادم رضوی کی گرفتاری پر ہنگامہ آرائی، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور مار پیٹ کے مقدمے میں مجرموں کو بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں ۔ راولپنڈی کی ایک عدالت نے جمعرات کی رات تحریک لبیک پاکستان کے 86 کارکنوں کو 2018 میں پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے پر 55، 55 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کے بھائی اور بھتیجے سمیت 86 افراد کو مجموعی طور پر 4 ہزار 738 سال قید کی سزا سنا دی ، راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج شوکت کمال ڈار نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے رات گئے فیصلہ سنایا جس کے بعد تمام مجرمان کو جیل منتقل کردیا گیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں خاص طور پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے احتجاج اور دھرنے دیے گئے تھے۔ دوران احتجاج ملک کے اعلیٰ اداروں، ان کے سربراہان کے بارے میں نامناسب اور اشتعال انگیز گفتگو کی گئی تھی جبکہ مختلف مقامات پر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ پنڈی گھیب میں درج کیا گیا تھا۔

نومبر 2018 میں خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، پولیس مزاحمت اور دہشت گردی کے ساتھ دیگر الزامات کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ان کے بھائی امیر حسین اور بھتیجے محمد علی سمیت 80سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

سزا پانے والوں میں پارٹی کے سربراہ علامہ خادم رضوی کے بھائی علامہ امیر حسین رضوی بھی شامل ہیں۔ مجرموں کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 29 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا، بصورت دیگر انھیں مزید 146 سال قید کاٹنا ہو گی۔ عدالتی فیصلے سنائے جانے کے بعد پولیس نے مجرموں کو اٹک جیل بھجوا دیا۔پارٹی کے سینیئر رہنما پیر اعجاز اشرفی نے کہا ہے کہ سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

اشرفی نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں انصاف نہیں ملا لہٰذا وہ اپیل دائر کریں گے۔ علامہ خادم رضوی کی گرفتاری پر ہنگامہ آرائی، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور مار پیٹ کا یہ مقدمہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا۔

ٹی ایل پی کی مختصر تاریخ

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل پولیس اہلکار کو سزائے موت ملنے کے بعد ان کے ایک بہت بڑے جنازے کا اہتمام کیا گیا۔ جنازے کے بعد کچھ مذہبی رہنماؤں نے اسلام آباد کا رخ کرتے ہوئے ڈی چوک پر دھرنا دیا۔

اس واقعے نے تحریک لبیک پاکستان کو جنم دیا اور بعد ازاں پاکستانی سیاست میں ختم نبوت کے معاملے نے ایک بار پھر اہمیت اختیار کر لی۔ 2017 میں انتخابی اصلاحات کے باعث انتخابی فارم میں ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم پر تحریک لبیک متحرک ہوئی اور ایک بار پھر دھرنا دیا۔

تحریک لبیک پاکستان نے 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا اور سندھ اسمبلی میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی۔جب سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کو توہین رسالت کے ایک مقدمے سے بری کیا تو ٹی ایل پی نے ملک بھر میں دھرنے دے کر نظام زندگی مفلوج کر دیا۔

دھرنوں کے دوران شعلہ بیان علامہ خادم رضوی نے پرجوش تقاریر کیں اور کارکنوں اور ہمدروں کو احتجاج پر اکسایا، جس کے بعد انھیں گرفتار کرتے ہوئے ان کا میڈیا بلیک آؤٹ کر دیا گیا تھا۔ مئی، 2019 میں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو دو ساتھیوں سمیت جیل سے رہا کردیا گیا، جس کے بعد انھوں نے دوبارہ پرتشدد راستہ نہیں اپنایا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں