Home بلاگ پاکستان میں منظم مزدور یونینوں کے بدترین حالات

پاکستان میں منظم مزدور یونینوں کے بدترین حالات

5

رپورٹ: خالد حسنین

ترجمہ: اسرار ایوبی
سابق پی آر او EOBI
ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان

لاہور: مزدور/ٹریڈ یونینیں ایک طویل عرصے سے شدید بحران کا شکار ہیں کیونکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مزدوروں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں منظم مزدوروں کی شرح نہایت کم ہے، جس کے نتیجہ میں انہیں کم از کم اجرت سمیت اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔مزدور رہنما موجودہ صورتحال کو پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور قرار دیتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مزدوروں سے متعلق تمام مسائل، خصوصاً ٹریڈ یونینوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے کیونکہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے زیر اثر نظام میں یونینوں کی کوئی آواز نہیں۔

متحدہ لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل حنیف رامے کہتے ہیں کہ“ صوبہ پنجاب کو دیکھیں، جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں 600 ٹریڈ یونینیں رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے 200 کو سی بی اے (اجتماعی سودے کاری کے نمائندہ) کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب میں منظم مزدوروں کی شرح صرف ایک فیصد ہے”۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ “ لاہور کی قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ، جہاں 400 صنعتی یونٹس قائم ہیں، وہاں صرف ایک مزدور یونین فعال ہے، جب کہ باقی صنعتوں میں کوئی فعال یونین موجود نہیں”۔ ان کے مطابق پنجاب میں یونینوں کی غیرفعالیت کے باعث مزدور قوانین کی خلاف ورزیوں اور صنعت کاروں کی زیادتیوں کو روکنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ حکومت کی مبینہ عدم توجہی کے باعث، خاص طور پر غیر رسمی صنعتی شعبے میں مالکان بلا خوف مزدوروں کو ان کے حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔

وہ ایک مثال دیتے ہیں کہ “ حال ہی میں لاہور میں تقریباً 700 مزدوروں پر مشتمل بیکری، مٹھائی اور ڈیری مصنوعات کا کاروبار کرنے والی ایک بڑی فوڈ کمپنی نے یونین بنانے کی پاداش میں متعدد کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا۔ یونین کے عہدیداران نے حکومت سے رجوع کیا، جس پر انکوائری ہوئی اور حکومت کو جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصدیق ہوئی”۔ ان کے مطابق اکثر یونین عہدیداران کو اداروں میں یونین بنانے یا مزدوروں کو منظم کرنے کی پاداش میں اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ “ صرف 20 فیصد مزدوروں کو سرکاری مقررہ کم از کم اجرت (تقریباً 40,000 روپے ماہانہ) میسر ہے، جبکہ باقی 80 فیصد غیر رسمی شعبے میں مزدور ہر طرح کے جبر اور استحصال کا شکار ہیں”۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ مزدوروں کی وفات اور مزدوروں کی بچیوں کی شادی کی گرانٹس کی درخواستیں دو سے تین سال تک التوا کا شکار رہتی ہیں، جبکہ EOBI پنشن صرف 11,500 روپے ماہانہ ہے، جو موجودہ حالات میں ناکافی ہے۔

ٹیکسٹائل سیکٹر میں وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں

حال ہی میں لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے نیدرلینڈز کی ایک تنظیم اریسا(ARISA) کے تعاون سے تحقیق کی، جس میں ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ صنعت میں مزدوروں کے حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ تحقیق کے مطابق، عالمی فیشن برانڈز ری سائیکل شدہ کپڑوں کی صنعت کو فروغ تو دے رہے ہیں، لیکن انہیں ان مزدوروں کے حالات اور اجرتوں کا علم نہیں جو اس سپلائی چین میں کام کر رہے ہیں۔فیصل آباد اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مزدور یومیہ 12 گھنٹے تک اور ہفتے کے سات دن کام کرتے ہیں ان کے پاس ملازمت کا کوئی باقاعدہ معاہدہ یا تنخواہ کی رسید نہیں ہوتی، انہیں اجرتوں کی نقد ادائیگی کی جاتی ہے اور ان کی قلیل اجرتیں ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہ پر صحت و حفاظت کی صورت حال بھی انتہائی ناقص ہے۔ مزدور کام کے دوران مسلسل دھول، گرمی اور خطرناک کیمیکلز کے زیراثر رہتے ہیں، جبکہ انہیں تازہ ہوا کی مناسب نکاسی اور حفاظتی سامان بھی میسر نہیں، جس کے نتیجہ میں کارکنوں میں سانس، جلد اور آنکھوں کے امراض پیدا ہو رہے ہیں، کارکنوں میں بغیر ضروری تربیت کے مشینری کا استعمال بھی صنعتی حادثات کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔

مزدور رہنماؤں کی شدید تنقید

سینئر مزدور رہنما محمد اکبر کہتے ہیں کہ“ میں پاکستان میں مزدوروں کی موجودہ حالت کو 1886 کے شکاگو کے مزدوروں کے حالات سے بھی بدتر سمجھتا ہوں، جب مزدوروں کو احتجاج کرنے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا ”۔ ان کے مطابق “ اس وقت نہ ٹریڈ یونینیں ہیں، نہ مزدوروں کے حقوق، اور نہ ہی مزدور قوانین پر عملدرآمد ہو رہا ہے”۔ وہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم از کم اجرت کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں وہ ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پنجاب لیبر کوڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو ان کے مطابق مزدوروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔

جب کہ پنجاب کے محکمہ محنت اور انسانی وسائل کے سیکریٹری دانش افضل کا کہنا ہے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں “ کچھ خامیاں ضرور ہیں، لیکن بڑی صنعتیں مزدور قوانین اور کم از کم اجرت پر عمل کر رہی ہیں۔ اصل مسئلہ غیر رسمی شعبے میں ہے، جس کی نگرانی لیبر انسپیکشنز کے ذریعہ کی جا رہی ہے”۔ان کے مطابق حکومت کی توجہ کے باعث سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد میں 150,000 کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 12 لاکھ ہو گئی ہے۔وہ مزید بتاتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے کے روشن پروگرام کے تحت 12 لاکھ مزدوروں کو ماہانہ 3,000 روپے دیئے جا رہے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ لیبر انسپیکشنز کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تیار کردہ نظام کے ذریعہ دستاویزی شکل بھی دی جا رہی ہے۔

NO COMMENTS