بدھ, مئی 13, 2026

پنکی کون ہے ؟

تحریر : نیاز احمد کھوسہ

پنکی کون ہے ؟

پنکی اصل میں کراچی کے ابو لصفانی روڈ، گلشن اقبال، اے ون کمپلیکس کی رہنے والی میٹرک پاس لڑکی ہے۔ یہ 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اب 31 سال کی ہے۔

پنکی نے اپنے تین بھائیوں نثار، ریاض اور شوکت کے ساتھ رہائش رکھی۔ اس نے شروع میں خود منشیات استعمال کرنا شروع کیں۔ شراب کے زیادہ استعمال کی وجہ سے جب شراب کا اثر کم ہونے لگا تو اس نے کوکین کی ایک خاص مقدار شراب میں شامل کر کے پینا شروع کیا، تو اس کا مزہ دوبالا ہو گیا۔ اسی دوران منشیات فروش رانا اکرم نے پنکی سے شادی کر لی، اور پنکی نے اپنے فارمولے کو خود پر آزمائش کر کے ڈرگز کی سپلائی مارکیٹ میں شروع کر دی۔

پنکی کے فارمولے پر بنی ہوئی ڈرگز مارکیٹ میں بہت جلد مقبول ہو گئی۔ پنکی نے اپنے شوہر رانا اکرم اور تینوں بھائیوں کی مدد سے یہ کام اینٹی نارکوٹکس، ایکسائز اور پولیس کی نظر میں آئے بغیر کافی سالوں تک چلایا۔

سال 2021 میں درخشان پولیس نے منشیات سپلائی کرنے والے ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا۔ ڈیلیوری رائیڈرز کی گرفتاریاں 2022 تک جاری رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درخشان پولیس نے کئی بار پنکی کو گرفتار کیا، مگر پنکی ہر بار لین دین کے بعد آزاد کر دی گئی۔ کیونکہ پنکی کے بقول، وہ جب کراچی یا لاہور میں کسی کام کی وجہ سے باہر نکلتی تو اپنے ساتھ دو کروڑ لے کر نکلتی تھی تاکہ پکڑے جانے کی صورت میں موقع پر ہی ڈیل کر کے نکل جائے — اور کئی بار ایسا ہوا۔

ساوتھ پولیس کی طرف سے ایک سال میں دس بار رائیڈرز کی گرفتاری کے بعد پنکی نے لاہور منتقل ہونے اور وہاں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پنکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ لاہور میں کام کرنا کراچی میں کام کرنے سے نسبتاً آسان ہے۔ پنکی لاہور میں خیابان ظفر سوسائٹی رائونڈ روڈ لاہور میں رہتی اور اپنا نیٹ ورک کامیابی سے چلاتی رہی مگر لاہور پولیس کو کان و کان خبر نہ رہی

اسی دوران پنکی کو لاہور پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے گرفتار کر لیا، مگر اس گرفتاری کا اختتام پنکی اور ڈی ایس پی صاحب کی آپس میں شادی پر ہوا۔

پنکی 2022 سے لاہور اور کراچی میں منشیات کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک چلاتی رہی، مگر حیرت انگیز طور پر وفاقی ادارے اے این ایف اور دونوں صوبوں کے ایکسائز ڈپارٹمنٹ پنکی کے نیٹ ورک سے لاعلم رہے۔ چلیں، ساوتھ پولیس کو پنکی کے نیٹ ورک کا علم تھا، مگر لاہور پولیس کے ڈی ایس پی (جس کا نام میں نہیں لکھنا چاہتا) سے شادی کے بعد لاہور پولیس بھی پنکی کے نیٹ ورک سے لاعلم رہی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے والے نیٹ ورک سے تین ادارے کیسے لاعلم رہ سکتے ہیں؟

وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب اور ایکسائز سندھ و پنجاب کے وزرا صاحبان کو منشیات ختم کرنے والے اداروں اے این ایف اور ایکسائز سے ان کی کارکردگی پر بازپرس کرنی چاہیے۔ پولیس اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کب تک ان کا کام کرتی رہے گی؟ اور کب یہ ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے؟ کیسے یہ بدنام زمانہ عورت خاموشی سے لاہور اور کراچی میں نیٹ ورک چلاتی رہی؟

کل ریمانڈ لینے کے وقت ایک ساوتھ پولیس کے انسپکٹر نے ذاتی طور پر ریمانڈ کی نگرانی کر رہا تھا۔ پنکی کا پولیس ریمانڈ نہ ملنے پر اُس انسپکٹر نے پنکی کو مبارک باد دی اور بتایا کہ اُس کی کاوشوں سے پنکی کا پولیس ریمانڈ نہیں ملا — اور عید سے پہلے پنکی سے پانچ لاکھ عیدی لے لی۔

پنکی کی گرفتاری ایک خفیہ ادارے آئی بی کی وجہ سے عمل میں آئی۔ جیسا کہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی کراچی جناب آزاد خان کافی عرصہ کراچی میں آئی بی سندھ کے جوائنٹ ڈائریکٹر رہے ہیں، اُنہوں نے اپنی سابقہ معلومات کے مطابق آئی بی سے تعاون حاصل کر کے آئی بی ہی سے پنکی کو گرفتار کروایا۔ یہ اُسی طرح ہے جب اے وی سی سی کراچی نے کئی دن ارمغان کو مہمان کی حیثیت میں رکھنے کے بعد اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے، تو سوشل میڈیا اور عوام کے دباؤ پر اُس وقت کے آئی جی سندھ غلام نبی میمن صاحب نے ملزم ارمغان کو آئی بی کے حوالے کیا — تو تین گھنٹوں میں ارمغان بریک ہو گیا اور بلوچستان سے مصطفیٰ عامر کی لاش برآمد کر لی گئی۔

ساوتھ پولیس نہ صرف کراچی بلکہ سندھ پولیس کا چہرہ ہے۔ اگر جسم کتنا بھی خوبصورت ہو اور چہرہ داغ دار ہو تو کوئی آدمی اُس عورت کو قبول نہیں کرتا۔ یہ بات بڑے افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ ساوتھ پولیس میں کراچی پولیس کے بدنام اور نااہل ترین افسران اور ملازمین کو صرف ایک ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے جمع کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے آئے دن پولیس کی بدنامی کی وجہ وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی پریشان نظر آتے ہیں۔

ساوتھ پولیس کا قبلہ تو درست نہیں ہو سکتا، مگر وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ساوتھ پولیس میں آپریشن کلین اپ کرنا پڑے گا، ورنہ ساوتھ پولیس کی وجہ سے یہ بدنامی ہوتی رہے گی۔ کچھ ہی دن پہلے ایک بدبودار سب انسپکٹر نے ایک خاتون ایس ایس پی کے بیٹے کے ساتھ جو رویہ رکھا، وہ اِس مہذب معاشرے میں کسی طرح قابل قبول نہیں۔ کل جس انسپکٹر نے پنکی سے عیدی لی، ایسے بندوں اور ایسے کئی بدنام ترین افسران اور ملازمین کی ایک ٹرین بھر کر شکارپور / کشمور روانہ کی جائے تاکہ اُن افسران کا دماغ ٹھکانے لگے۔

آئی جی صاحب، ایسے کراچی پولیس کے ناسوروں کو بی کمپنی نہ بھیجیں، بلکہ بی کمپنی کا ہیڈکوارٹر شکارپور اور کشمور میں رکھیں، تاکہ سندھ پولیس روز روز کی بدنامی سے باہر آ سکے۔ رہا پنکی کو بغیر ہتھکڑی کے عدالت میں پیش کرنے کا سوال تو مندرجہ ذیل قانون کے تحت کسی بھی خاتون کو ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی ۔

The core rule is Section 46(12) of the Pakistan Prison Rules, 1978 (though often cited as Rule 584 in some versions). It explicitly states:

"A woman or civil prisoner is not liable to the imposition of any forms of handcuffs.”

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسکhttps://alert.com.pk/
Alert News Network Your Voice, Our News "Alert News Network (ANN) is your reliable source for comprehensive coverage of Pakistan's social issues, including education, local governance, and religious affairs. We bring the stories that matter to you the most."
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں