پاکستان کے طاقتور افسر فواد حسن فواد آج جیل میں ریٹائر ہوں گے ،

رپورٹ : شہزاد ملک

پاکستان کی بیوروکریسی کے ایک طاقت ور افسر فواد حسن فواد نومبر2015 سے جون 2018 تک وزیر اعظم آفس میں پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے ہیں ۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ دو وزرائے اعظم کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر رہے ہیں ، جن میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔

چھ جولائی 2018 کو قومی احتساب بیورو نے انہیں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا ۔ فواد حسن فواد کا شمار میاں شہباز شریف کے معتمد ترین افسران میں ہوتا تھا .ایف بی آر کے اعلی افسران خصوصی طورپر ان کا نشانہ رہے ہیں جبکہ انہوں نے بے تحاشا دولت بھی کمائی ہے .اعلی عہدوں پر ترقیاں اور تعیناتیاں ان کا مفید مشغلہ بھی رہا ہے .

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری اور ملک کے ایک انتہائی طاقتور سمجھے جانے والے بیوروکریٹ فواد حسن فواد آج 14 جنوری 2020 کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں لیکن اپنی زندگی کا یہ سنگ میل وہ جیل میں دیکھیں گے ۔فواد حسن فواد پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 22 ویں گریڈ کے افسر ہیں اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہونے کے ناطے اس طاقتور عہدے پر وہ ڈیفیکٹو پرائم منسٹر بھی کہلاتے تھے ۔

انہوں نے اپنی تعیناتی میں اعلی ترین قیادتوں کے قریب وقت گذارا ہے

فواد حسن فواد 14 جنوری 1960 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور تیس سال افسر شاہی میں گزارنے کے بعد وہ اپنی سالگرہ کے دن ہی جیل میں ریٹائرڈ ہو جائیں گے . فواد حسن فواد کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ انہوں نے بیوروکریسی کے بعض اعلی افسران کو بری طرح نقصان پہنچایاہے .

مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہونے کے بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی آف پاکستان لگا دیا گیا۔ فواد حسن فواد سب سے پہلے شہ سرخیوں میں تب آئے جب وہ پنجاب میں سیکرٹری ہیلتھ کے عہدے پر تھے اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بااعتماد افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں انہیں شریف فیملی کے دونوں بڑوں کے ساتھ کام کا موقع ملا .

فواد حسن فواد کیوں جیل میں ہیں؟
جیسے ہی مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو فواد حسن فواد کا پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ بھی ختم ہو گیا اور انہیں ڈی جی سول سروسز اکیڈیمی تعینات کر دیا گیا۔ اس دوران چھ جولائی 2018 کو قومی احتساب بیورو نے انہیں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی کا آشیانہ اقبال (سرکاری ہاوسنگ کالونی) کی تعمیر کا کنٹریکٹ منسوخ کروایا جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ اسی گرفتاری کے دوران نیب نے ان پر ایک اور مقدمہ آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی بنا دیا۔

فواد حسن فواد 17 ماہ سے جیل میں ہیں

فروری 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کر لی جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں وہ ابھی جیل میں ہیں۔ فواد حسن فواد جو 17 ماہ سے جیل میں ہیں نے ایک مرتبہ پھر اپنی ضمانت کے لیےلاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ،اپنی ضمانت کی درخواست میں انہوں نے کہا ہے ’میرے پاس اپنا ذاتی گھر تک نہیں ہے ان کی فیملی ابھی بھی سرکاری گھر میں رہ رہی ہے وہ جلد ریٹائرڈ ہو جائیں گے تو سرکاری گھر بھی وہ واپس کر دیں گے۔

ضمانت کی درخواست میں انہوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ ’میں کسی جرم کی پاداش میں جیل میں نہیں ہوں بلکہ ریاستی مشینری کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے پر مجھے سزا دی جا رہی ہے۔عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ اور اس پر سماعت کی ریٹائرمنٹ کے ایک روز بعد 15 جنوری کو ہو گی .

ادھر الرٹ نیوز کے مطابق فواد حسن فواد اور ان کے بھائی وقار حسن اربوں روپے مالیت کی ہاوسنگ سوسائٹیز کے بھی مالک بتائے جاتے ہیں ۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کیسے ارب پتی بنا اس کا نیب نے سراغ لگا لیا ہے ۔ فواد حسن فواد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں میں نیب نے مزید شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں ۔ فواد حسن فواد نے 2004 سے 2008 میں 640 ایکٹر بیش قیمت زمین حاصل کی ۔ نیب ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد اور ان کے بھائی نے یہ زمین سوسائٹی بنانے کے لیے حاصل کی ۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد حسن فواد کے بھائی وقار حسن اربوں روپے مالیت کی رہائشی سوسائٹی لاہور موٹروے سٹی کے مشترکہ پاٹنر بھی ہیں ۔

نیب لاہور نے روالپنڈی میں واقع اربوں روپے مالیت کے پلازے کے بارے بھی پتہ لگا لیا ۔ 15 منزلہ پلازے کے 50 فیصد شیئرز وقار حسن، فواد حسن فواد کی اہلیہ کے نام 25 فیصد شیرز ہیں جبکہ فواد حسن فواد کی قریبی عزیزہ ڈاکٹر انجم حسن کے بھی 25 فیصد شیئرز کے مالک ہیں ۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد حسن فواد اور ان کے فیملی ممبران کے نام پر 14 بنک اکاونٹس کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی جن میں کڑوروں روپے موجود ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے فواد حسن فواد کے فیملی ممبران کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “پاکستان کے طاقتور افسر فواد حسن فواد آج جیل میں ریٹائر ہوں گے ،

  1. طاقت کانشہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے اور ان صاحب کا توضرور ختم ہوا ہوگا کیوں یہ سروس ختم ہو گئی اور موصوف کو فیئرول کے بجائے جیل ملی۔اللہ تعالی سب کو اپنی امان میں رکھے

اپنا تبصرہ بھیجیں