Home پاکستان ایف بی آر ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز میں قانونی سقم ہونے...

ایف بی آر ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز میں قانونی سقم ہونے کا انکشاف

6

کراچی : ایف بی آر کے افسران کی ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن (IRSOA) کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں بہت ساری قانونی سقم پائی جاتی ہیں ، قانون کی بالادستی اور آئین کی بالادستی و تحفظ کے لیئے ماہرین قانون سے اپیل کی گئی ہے وہ اس معاملے میں مداخلت کریں ۔

تفصیلات کے مطابق ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن (IRSOA) کی جانب سے جاری کردہ 17 جنوری کی پریس ریلیز میں حاضر سروس کمشنر ان لینڈ ریونیو کے ساتھ مبینہ طور پر “یکجہتی” کا اظہار کیا گیا ہے ۔ جس میں فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 22-A کے تحت لائیرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ، 2023 کے تحت ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا گیا ہے ، جو سنگین آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی خدشات کو جنم دیتا ہے، جس کی وکلا برادری سے سخت مذمت کا متقاضی ہے ۔ کیوں کہ یہ تنقید کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کے مفاد میں ہے۔

عدالتی احکامات ایسوسی ایشنز کی منظوری یا ناپسندیدگی کے محتاج نہیں ۔ آئین پاکستان کے تحت عدالتی احکامات قابلِ نفاذ ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی سروس ایسوسی ایشن خواہ کتنی ہی قابلِ احترام کیوں نہ ہو ، اس بات کی مجاز نہیں کہ وہ کسی عدالتی حکم پر تبصرہ کرے، مشکوک بنائے یا اس کے اثرات کو کمزور کرےش، خصوصاً جب وہ حکم دفعہ 22-A ضابطہ فوجداری کے تحت مجاز عدالت نے صادر کیا ہو۔

عدالتی حکم کو IRSOA کی توثیق کی ضرورت ہے نہ ہی “یکجہتی” کے عوامی بیانات کے ذریعے اس کی حیثیت کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ عدالتی حکم کے تحت درج ہونے والی ایف آئی آر کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا ناقابلِ قبول ہے ۔

پریس ریلیز میں بلاواسطہ طور پر ایف آئی آر کی کارروائی کو “بدنیتی”، “انتقامی کارروائی” یا “ہراسانی” سے تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ اس ضمن میں کوئی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ۔یہ طرزِ عمل قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ: دفعہ 22-A کا حکم عدالتی غور و فکر کے بعد کیا جاتا ہے ۔ عدالت صرف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیتی ہے، سزا کا نہیں ۔ تفتیش اور جرم کا تعین قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے ۔ کسی شکایت کو عوامی سطح پر پہلے ہی مشکوک قرار دینا، عدالتی جانچ کی جگہ ادارہ جاتی رائے مسلط کرنے کے مترادف ہے، جو آئینی طرزِ حکمرانی کے منافی ہے ۔

کوئی شخص اپنے ہی معاملے میں منصف نہیں بن سکتا ۔ عدالتی احکامات کے خلاف اجتماعی دباؤ ادارہ جاتی طور پر خطرناک ہے ۔  کسی طاقتور افسران کی ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتی حکم کے ردعمل میں اجتماعی پریس ریلیز کا اجرا، فوجداری نظامِ انصاف پر دباؤ کا ناگزیر تاثر پیدا کرتا ہے۔ ایسا طرزِ عمل عدالتوں پر عوامی اعتماد کو مجروح ، جائز شکایت کنندگان کو خوفزدہ اور عدالتی نگرانی کے خلاف ادارہ جاتی مزاحمت کا اشارہ دیتا ہے ۔ آئینی جمہوریت میں ریاستی عہدیداران قانون کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں، ایسوسی ایشنز کے ذریعے محفوظ نہیں ۔

آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 25 بغیر کسی عہدے اور امتیاز کے قانون کے سامنے برابری اور قانونی عمل کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے ۔ قانون کی حکمرانی اطاعت مانگتی ہے تبصرہ نہیں ۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک ہفتے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی حالانکہ حکم ایک مجاز عدالت نے صادر کیا ہے اور پولیس آئینی طور پر اس کی پابند ہے ۔ بلاجواز تاخیر بذاتِ خود توہینِ عدالت اور فرائض سے غفلت کے زمرے میں آتی ہے ۔

عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے بجائے، ایسوسی ایشن نے ایک عوامی دفاعی بیانیہ اختیار کیا، جس سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل سے توجہ ہٹا دی گئی ۔ یہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کو پریس ریلیز کے ذریعے مؤخر، متنازع یا کمزور کیا جا سکتا ہے، تو قانون کی حکمرانی میں کیا باقی رہ جاتا ہے؟

لائیرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ، 2023 کوئی علامتی قانون نہیں ، لائیرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ، 2023 خاص طور پر  وکلاء کو ہراساں کرنا، دھمکانا اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے ، ریاستی عناصر کی جانب سے قانونی احتساب کی مزاحمت کرنے پر نافذ العمل ہوتا ہے ۔ شہریوں/وکلاء اور ریاستی مشینری کے درمیان طاقت کا عدم توازن اور اس قانون کے تحت شروع ہونے والی کارروائی کو کمزور کرنے اور پارلیمان کی قانون سازی کے مقصد کو ناکام بنانے اور قانونی برادری کو خطرناک کے لیئے لاگو نہیں ہوتا ۔

قانونی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ معزز وکلاء اور ٹیکس کنسلٹنٹس ، ٹیکس بار ایسوسی ایشنز ، ہائی کورٹ، ضلعی اور صوبائی بار کونسلز ، عدلیہ کی آزادی ، عدالتی احکامات کی لازمی تعمیل ، آئین کی بالادستی ،  تمام سرکاری عہدیداران کی مساوی جوابدہی کیلئے اجتماعی آواز بلند کریں ۔  اس مرحلے پر خاموشی، ادارہ جاتی دباؤ کے ذریعے عدالتی احکامات کی مزاحمت کو معمول بنانے کے مترادف ہو گی ۔ جو آئینی حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے۔

NO COMMENTS