سورج گرہن آج لگے گا ،مساجد میں نماز کسوف کے اجتماعات منعقد ہونگے ،

محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2019 میں 3 سورج جبکہ 2 چاند گرہن تھے ۔ تیسرا سورج گرہن اب سال 2019 کے آخر میں دسمبر کی 26 تاریخ کو ہوگا۔ پاکستان میں 26 دسمبر کو رواں سال کا آخری سورج گرہن دیکھا جائے گا اور اس حوالے سے ماہرین نے شہریوں کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال کے سورج گرہن کو ’رنگ آف فائر‘ کا نام دیاگیا ہے جو پاکستان میں بھی نظر آئے گا۔

ماہرین کی شہریوں کیلئے ہدایات

ماہرین نے شہریوں کو سورج گرہن کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست نہ دیکھیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہیں کہ سورج گرہن کو حفاظتی چشمہ لگا کر دیکھا جا سکتا ہے۔

سورج گرہن سے متعلق وہم کی تردید
ماہرفلکیات نے سورج گرہن سے متعلق وہم کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ سورج گرہن ایک سائنسی عمل ہے اور اس کا کسی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

2019 کا آخری سورج گرہن پاکستان میں کب دیکھ سکیں گے؟اس سال کے آخری یعنی تیسرے سورج گرہن کو ’رنگ آف فائر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سورج گرہن سے متعلق علمائے کرام کی رائے

سورج گرہن کے حوالے سے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سورج یا چاند گرہن کا کسی کی موت یا زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہ قدرت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، حضور پاک صلی اللہ و علیہ وسلم اس دوران نوافل ادا کرتے تھے۔

علمائے کرام کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا ہے کہ کل سورج گرہن کے دوران ملک کی مختلف مساجد میں نماز کسوف کے اجتماعات ہوں گے ،

سورج چاند اور قرآنِ

1۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ اور سورج اپنے لئے مقرر کردہ راستے پر چلتا ہے، یہ (راستہ) غالب علم والے (اللہ) کا مقرر کردہ ہے۔(يسين)

2۔ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا۔(التکوير)

3۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ سورج اور چاند معلوم اور مقررّہ (فلکیاتی) حسابات کے مطابق (محوِ حرکت) ہیں۔(الرحمن)

سورج چاند اور احادیث

1۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا یہ دونوں تواللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اس لئے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو۔(صحیح بخاری:1041)

2۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے دن سورج کو گرہن ہوا ، بعض لوگ کہنے لگے: گرہن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا: گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا ، البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔ (صحیح بخاری)

3۔ جب رسول اللہﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا،( اَلصَّلٰاۃُ جَامِعَۃ)ٌ ’’لوگو ! نماز کھڑی ہونے والی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

4۔ نبی اکرمﷺ کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا تو آپﷺمسجد میں آئے ،اور کھڑے ہوکر تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپؐکے پیچھے صفیں بنا لیں۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم)

5۔ رسول اللہﷺنے فرمایا:سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ ان کو گرہن کرکے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔(صحیح بخاری: 1048)

6۔ نبی اکرمﷺنے نماز کسوف کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔(صحیح بخاری :1050)

7۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو نماز کسوف کے سجدے سے لمبا سجدہ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ۔(صحیح بخاری: 1051)

سورج اور چاند گرہن کی نماز

نماز کسوف: جب سورج گرہن ہو تو چاہئے کہ امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھے جن میں بہت لمبی قرات ہو اور رکوع سجدے بھی خوب دیر تک ہوں، دو رکعتیں پڑھ کر قبلہ رُو بیٹھے رہیں اور سورج صاف ہونے تک اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔
نیت : دل میں نیت کریں دو رکعت نماز نفل کسوفِ شمس کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے اور امام کے ساتھ اللہ اکبر کہیں۔

نمازِ خسوف: چاند گرہن کے وقت بھی چاند صاف ہونے تک نماز پڑھتے رہیں، مگر علیحدہ علیحدہ اپنے گھروں میں پڑھیں، اس میں جماعت نہیں۔
نیت : دل میں نیت کریں دو رکعت نماز نفل خسوف قمر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، ﷲُ اَکْبَر۔

جہالت: بہت سی ویڈیوز میں بہت سے بے وقوفی کے مشورے دئے جاتے ہیں حالانکہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت یا انسانوں کی نفسیات یا کائنات میں ردوبدل سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہم سب چاند اور سورج گرہن کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں، البتہ نماز ادا کرنا ہمارے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے جس پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *