پاکستان میں سنسر شپ اپنے انتہا پر ہے ، نجمنہ عثمان

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز ”اردو فکشن۔ معاصر منظر نامہ“ کے موضوع پر منعقد سیشن کی مجلس صدارت اسد محمد خاں، حسن منظر اور مسعود اشعر نے کی ‌.

اس موقع پر برطانیہ سے آئی ہوئی نجمہ عثمان نے”ا ردو فکشن انگریزی فکشن کے تناظر میں“ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ افسانے نے کئی منازل طے کی ، پہلا افسانہ ہندوستان میں منشی پریم چند نے لکھا تھا، تقسیم سے پہلے جو افسانے لکھے گئے اس زمانے میں راشد الخیری نے پہلا افسانہ لکھا جو اصلاحی اور سماجی نوعیت کا تھا، اسی دوران ”عصمت“ کی ایڈیٹر آمنہ نے بھی افسانے لکھے، منشی پریم چند کے بعد جدیدیت کا دور آیا مگر یہ دور زیادہ نہیں چل سکا، پھر اس کے بعد افسانے نے ایک نئی راہ اختیار کی جس میں جمالیاتی تصور بھی افسانے میں شامل ہونے لگا.

قرة العین حیدر نے مشرق اور مغرب کا بہت خوبصورت امتزاج پیش کرکے کئی افسانے تحریر کیے، اس کے بعد عصمت چغتائی آئیں اور پھر راجندر سنگھ بیدی، یہ سب اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے ہی لکھتے رہے ، عرفان جاویدنے ”فکشن کیوں پڑھا جائے“کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ روسی دانشور انتون چیخوف سے کسی نے پوچھا کہ تم کہانی کیوں لکھتے ہو ناول کیوں نہیں لکھتے تو اس نے جواب دیاکہ میں اپنی چھوٹی سی زندگی میں وہ سب کہانیاں سنا دینا چاہتا ہوں جو میں سنانا چاہتا ہوں، چیخوف 44سال کی عمر میں ہی انتقال کرگیا تھا.

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کئی زندگیاں جی لے تو اسے چاہیے کہ وہ فکشن پڑھے، فکشن کا ادیب ایک دنیا تخلیق کرکے قاری کو دعوت دیتا ہے، فکشن کے مطالعے سے ذہن کے دریچے کھل جاتے ہیں، اخلاق احمدنے ”جدید افسانے میں عصری حسیت“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ادب اپنے سماج کا آئینہ نہیں ہوگا تو ادب ہی کیوں کہلائے گا، ہمارا زمانہ کہنے کو تو ایک ہے مگر دراصل یہ دو زمانے ہیں، لکھنے والوں کے دو متوازن زمانے، ایک ان کے لیے جو آزاد معاشرے میں لکھتے ہیں اور ایک ہمارے لیے کہ جہاں سانس لینا بھی مشکل ہے.انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کے تقریباً 28سال صحافت میں گزارے ہیں مگر یہ بات میں بہت ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ جیسی خاموش سنسر شپ آج ہے ایسی ہم نے کبھی نہیں دیکھی، قدغن لگانے والے سارا کام کررہے ہیں اور سامنے کوئی بھی نہیں ہے.

اسلام آباد سے آئے ہوئے اختر رضا سلیمی نے ”اردو میں ناول کی کمی: ایک بحث“ پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ شائع ہونے والے ناولوں کی فہرست مرتب کروں، 1869ءسے آج تک انگریزی کے ناول کی عمر150سال ہوچکی ہے جبکہ اردو ناول کی عمر اس سے آدھی ہے، انگریزی ہر جگہ بولی جاتی ہے، اردو دنیا کی 5بڑی زبانوں میں سے ایک ہے مگر ہم اس کو اپنے ہی ملک میں قومی زبان نہیں بناسکے، اردو اپنے ہی ملک میں دربدر ہے.

لاہور سے آئے ہوئے خالد محمود سنجرانی نے ”جدید افسانہ اور سماجی معنویت“ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہماری کلاسیکی کہانیاں ڈھول پر تھاپ جیسی ہیں،جو فرق ڈھول اور ڈرم میں ہے وہی فرق کہانی کی کلاسیکی اور جدید صورت میں سامنے آیا ہے، کہانی ایک آزاد پنچھی ہے جس کی آنکھوں میں جھیلیں ہوتی ہیں، شہروں کی فصلیں اس کے سینے پر، دریا اس کی لہر میں اور وسیع میدان اس کے پَروں میں مگر ظلم یہ ہوا کہ اس پنچھی کو جدیدیت کے پنجرے میں ڈال دیا گیا .

ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ”اردو افسانے، ۱۱/۹ کے تہذیبی وسیاسی اثرات“ پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کا خیال آتے ہی جو الفاظ ذہن میں آتے ہیں ان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم برداشت شامل ہیں مگر اب یہ سادہ الفاظ نہیں رہے، بلکہ اصطلاحات بن چکے ہیں، دہشت گردی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی تعریف متعین نہیں کی جاسکتی .

جاپان کے شہرٹوکیو سے تعلق رکھنے والے ٹوکیو یونیورسٹی کے سویامانے یاسرنے ” جاپان میں اردو افسانے کا مطالعہ “ پر اپنے مخصوص اور دل نشین انداز میں اردو زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرانے جاپان میں ” عالم “ کا مطلب بدھ مت کا پیرہوا کرتا تھا،پہلی جنگ عظیم کے بعد ہم عصر برصغیر کا مطالعہ شروع ہوا، ٹوکیو اور اوساکا میں اسکول آف فارن اسٹڈیز قائم ہوئے اور وہاں شعبہ ہندوستانی بنایا گیا. دوسری جنگ عظیم سے پہلے ” ادارہ دنیائے اسلام “ قائم ہوا اس ادارے سے ” باغ و بہار“ کا ترجمہ شائع ہوچکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدجدید ادب کا مطالعہ شروع ہوا،انہوں نے بتایا کہ جاپان میں اب تک 200سے زائد اردو افسانوں کا جاپانی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے، صبا اکرام نے ”روشن خیالی اور ہم عصر افسانہ“ پراظہارِ خیال کرتے ہوئے مختلف افسانہ نگاروں کے طرزِ تحریر پر روشنی ڈالی۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارہویں عالمی اُردو کانفرنس کے تیسرے روز ”پاکستانی ثقافت، تخلیقی و تنقیدی جائزہ“ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ثقافت سید سردار احمد نے کہا کہ برصغیر میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں زبان کے تحفظ کے لئے پہلی یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے۔ قومی ثقافتی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ وفاق تمام یونٹوں سے مشاورت اور اتفاق کرے یہ ممکن نہیں کہ پالیسی کوئی اور بنائے اور مجھ سے کہا جائے کہ میں اس کا سپاہی بن جاﺅں.پاکستان پانچ قومیت کا ملک ہے جن کا ہزاروں سال پرانا ثقافتی ورثہ ہے اُن کو محفوظ کرنا بھی ضروری ہے، آج کا پاکستان وادی سندھ کا حصہ ہے جہاں مختلف لہجوں کے ساتھ ایک ثقافت رہی ہے، اس کو مزید جوڑنے کی ضرورت ہے جس کے لیے انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے، سندھ نے تقسیم کے بعد بھی ثقافت پر دست برداری نہیں کی۔ قومی ثقافتی پالیسی کے لئے مشاورت لازمی ہے۔

امجد اسلام امجد نے کہا کہ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ اس خطہ کی تاریخ ہے کہ حملہ آوروں نے اس خطہ کو بار بار روندا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ تاریخ کے فیصلے نہ پسندیدہ بھی ہوں اس کو ماننا ہو گا اور جو غلطیاں ہوئیں اس کا ازالہ کرنا ہو گا۔ اس ترتیب نو میں انصاف سے کام لینا ہو گا کہ جو حق اپنے لئے مانگتے ہیں دوسرے کے لئے بھی مانگنا چاہیے۔اگر یہ کام کر لیں تو آئندہ دس سال بعد صورت حال مختلف ہوگی۔ قاسم بگھیو نے کہا کہ ثقافت لوگوں سے ہوتی ہے اور یہاں کے علاقوں میں رہنے والوں نے ہمیشہ نئی نئی ثقافتیں پروان چڑھائیں۔ پاکستان کی ثقافت کی خصوصیت یہ ہے اس کو ہم سب نے مل کر پروان چڑھائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم سب اپنی ثقافتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے پاکستان کی ثقافت کو مضبوط کر سکیں گے۔ رواتیں ترقی کرتی ہیں تو اس کے ساتھ ثقافتیں بھی تبدیل ہوتی ہیںمگر قومی سطح کی ثقافتی پالیسی کی ضرورت ہے۔

غازی صلاح الدین نے کہا کہ ہم اس وقت تہذیبی پسماندگی کا شکار ہیں اس کو دور ہونا ضروری ہے۔ اس کے لئے جمہوری آزادیوں کا ہونا لازمی ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیائی ملک ہے اس کو رد کیا جاتا ہے۔ جب تک برصغیر میں امن نہیں ہو گا ایک مضبوط شناخت بن نہیں سکتی۔ ثروت محی الدین نے کہ کہ ثقافت رہن سہن کے طریقہ کار سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گزرنے کے ساتھ ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے اس کے اثرات ثقافت پر بھی پڑتے ہیں۔ رہن سہن کے طریقے تبدیل ہوتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں لسانی گروپ رہتے ہیں۔ موسم کے مطابق بھی ثقافت کا تعلق ہوتا ہے لہٰذا جغرافیائی صورت حال کی وجہ سے پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت مختلف ہے مگر ایک دوسرے کو سمجھ کر انہیں جوڑا جائے۔

اباسین یوسف زئی نے کہا کہ ہماری الگ الگ پہچان ہے، یہی ہمارے معاشرے کی پہچان ہے۔ ادیب سب کے لئے لکھتے ہیں۔ سب ثقافتوں میں بہت ساری چیزیں مشترک ہےں روحانیت کے ذریعے ہم بہت جلد ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیںاگر ہم نے اپنی زبانوں کو نہیں پڑھیں گے تو ماضی سے کٹ جائیں گے۔اسلام آباد میں تمام ثقافتوں کے مرکزی دفاتر قائم ہونا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ زبانیں تمام قابل احترام ہوتی ہیں مادری زبان ماں ہوتی ہے۔ نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ فطری ارتقاءکے سامنے غیر فطری دیوار کھڑی کرنے سے دیوار بار بار گرے گی اس کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف ثقافتیں رکھنے والی قومیں ایک دوسرے کا منہ نوچتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے بہت شکایتیں ہیں مگر ہم کسی اور کے مفاد کے لئے استعمال ہوئے۔ اس میں ہم درجہ بندیوں میں تقسیم ہوئے اور احساس برتری اور احساس کم تری میں مبتلا ہوئے۔ مگر اب ہم سب یہ سمجھ گئے کہ ہم سب استعمال ہوئے اس میں سب سے زیادہ ادیب ہی استعمال ہوئے۔

افضل مراد نے کہا کہ جس خطہ سے میرا تعلق ہے وہاں کے لوگ اجنبیت محسوس کرتے ہیں حالاں کہ بہت کچھ مشترک ہیں۔ ان سب کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔افضل ندیم سید نے کہا کہ کوآپریٹ سیکٹر نے تہذیبوں کو نقصان پہنچایا ہر چیز فروخت ہو رہی ہے اس کی نشاندہی غالب نے بہت پہلے کر دی تھی۔ اس خطہ کے میوزک کی الگ الگ شناخت تھی عالمگیریت نے تو سب چھوٹی تہذیبوں کو کھا لیا۔نذیر لغاری نے کہا کہ دریائے سندھ کے اطراف میں رہنے والے ایک تہذیب کا حصہ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ سارے خطے ایک وفاق رہے ہوں اس کے باوجود تہذیبی طور پر وادی سندھ ایک تہذیب ہی رہی۔ اس کی قدیم تہذیب ڈیرہ غازی خان کے کھتران قبیلے کی زبان سے ملتی ہے۔اجلاس کی نظامت سید جعفر احمد نے بخوبی انجام دی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *