اُمت مسلمہ کی مہلک بیماری (ماہ نور جاوید)

حسد کیا ہے؟ وہ گناہ جس کے لیے شریعت میں عذاب کی وعید بنائی گئی ہے۔ حسد یہ ہے کہ انسان دوسرے کے پاس کوئی نعمت نہیں دیکھ سکتا اور چاہتا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ صاحب شرایع فراتے ہیں’’مومن سے حسد اور دشمنی گناہ ہے اور اس کا ظاہر کرنا گناہ کبیرہ ہے۔‘‘

حسد کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ حضرت زبیرؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ’’رسول کریم ﷺنے فرمایا :اگلی امتوں کی مہلک بیماری یعنی حسد اور بعض تماری طرف آرہے ہیں۔یہ بالکل صفایا کردینے والی اور مونڈ دینے والی ہے۔

نبی کریمؐ نے اپنا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا ،میرے اس فرمانے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بالوں کو مونڈنے والی ہے بلکہ یہ خصلت اور بری عادت دین کو مونڈ ڈالتی ہے اور بالکل صفایا کردیتی ہے۔‘‘حسد آگ کی طرح ایمان کو کھا جاتا ہے۔ ایک مقام پر حضرت امام باقر ؒ فرماتے ہیں ’’ انسان غصے کے وقت ہر قسم کی عجلت ظاہر کرتا اور خود کو کافر بنالیتا ہے۔ لیکن حقیقت میں حسد ایسی چیز ہے جو ایمان کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ یہ تو ظاہر ہے کہ حسد نعمت پر ہی ہوا کرتا ہے۔ حضرت سیدنا آدمؑؑ کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس ہے اور یہ حاسدین کا قائد ہے۔
ایک حاسد کسی خاص شخص کے حسد میں مبتلا ہوجاتا ہے اور تب تک سکون سے نہیں بیٹھتا جب تک اپنے مدمقابل کو براہ راست طنزیہ جملے نہ کہہ دے۔ یہ اپنی باتوں اور اپنے ریمارکس سے مدمقابل کو پریشان کرکے خوش ہوتا ہے۔ اس طرح کی حرکتوں اور باتوں سے متاثرہ شخص بعض اوقات اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے اور اس میں خود اعتمادی کی کمی آجاتی ہے۔

حاسد کو اس وقت خوشی ہوتی ہے جب اس کے مدمقابل کسی معاملے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ اگر مدمقابل کا کوئی نقصان ہوتا ہے تو حاسد کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ درحقیقت حسد ایک عذاب ہے جو دنیا اور دین دونوں میں تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ حسد اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں اظہار ناراضگی ہے اور جو چیزیں رب ذوالجلال نے اپنے بندے کو عنایت کی ہیں ،حاسد ان سے انکار کرتا ہے اور اس جلن میں ابلیس کا شریک بن جاتا ہے۔

حسد کرنے والوں کی نفسیات

حسد کے لغوی معنی ہیں کسی دوسرے شخص کو نعمت ملنے پر ناخوش ہونا۔ ناخوشی کے نتیجہ میں حاسد اس شخص کو ملنے والی نعمت یا خوبی کا زوال چاہتاہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جب دیکھتا ہے کہ اس کے بھائی کے پاس کار آگئی ہے تو وہ آرزو کرتا ہے کہ کاش یہ کار اس سے چھن جائے۔ اس کی کار کو کوئی نقصان ہوجائے تاکہ اس کی راحت میں اضافہ ہو۔ ماہرین کے مطابق دوسرے لوگوں کے لیے منفی سوچ، حسد اور جلن میں مبتلا افراد میں فالج کے حملوں کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ فالج اور انسانی نفسیات کے مابین گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔

نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ فالج کے حملوں کی وجوہ میں اہمیت نفسیاتی خصوصیات کی بھی ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ حاسد اپنی آگ میں خود جلتا ہے جبکہ محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے لیے ضروری ہے کہ وہ حاسد کے تکلیف دہ رویے کو نظر انداز کرے کیونکہ حاسد خود قابل رحم ہے۔ ہر انسان میں کسی نہ کسی درجہ حسد موجود ہے مگر مومن حسد نہیں کرسکتا کیونکہ حاسد مومن نہیں ہوتا۔

حسد کی مختلف اقسام

ہماری سوسائٹی میں حسد عام طور پر مندرجہ ذیل صورتوں میں پایا جاتا ہے جن میں کسی کی اچھی چیزوں سے جلنا، اچھے کپڑے، مکان، موبائل، کار اور دیگر سامان تعیش وغیرہ شامل ہیں۔

٭… کسی کے ظاہری اوصاف سے حسد جس میں اچھی شکل و صورت، وجاہت یا شخصیت کے ظاہری خدوخال شامل ہیں۔

٭… کسی کی باطنی خصوصیات سے حسد جن میں خوش اخلاقی، ملنساری، ہردلعزیزی، دینداری و عبادت گزاری شامل ہیں۔

٭… کسی کی مالی ترقی سے جلن جیسے کاروبار کی ترقی، اعلیٰ تعلیم یا اچھی ملازمت وغیرہ۔

٭… کسی کی اولاد بالخصوص اولاد نرینہ سے حسدیا اولاد کی ترقی پر جلن۔

٭… کسی کی شہرت، عزت، قابلیت یا عہدے سے حسد۔

٭… کسی کی صحت، تندرستی، اطمینان، خوشی اور راحت سے حسد اور جلن۔

٭… اجتماعی معاملات میں ترقی یافتہ قوموں اور ممالک سے جلنا اور ان کی تباہی کی امید کرنا۔

اس کے علاوہ وہ بھی حسد کرنے کی لامحدود صورتیں ہیں ۔

حسد کے نقصانات

حسد کے بے شمار دنیاوی اور آخروی نقصانات میں سے چند ذیل یہ ہیں:

٭… حسد نفرت کی آگ میں جلاتا ہے۔

٭… حسد کئی نفسیاتی مرائض کا باعث ہے جیسے غصہ، ڈپریشن، احساس کمتری، چڑچڑاپن وغیرہ۔

٭… حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی جانب لے جاسکتی ہے جس سے پھر اور معاشرے میں فساد پھیل سکتا ہے۔

٭… حسد دیگر اخلاقی گناہوں کا سبب بنتا ہے جن میں غیبت، بہتان، تجسس اور جھوٹ شامل ہیں۔

حسد آخرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے۔یہ ایسا جذبہ ہے جس سے ہم مختلف مواقع پر دوچار ہوتے ہیں۔ حسد وہ جذبہ ہے جو تمام جذبوں پر حاوی آسکتا ہے۔ حاسد لوگ اس حقیقت کو قبول ہی نہیں کرپاتے کہ صرف محنت اور لگن سے ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ دوسرں کی ترقی کے بارے میں غلط اندازے لگاتے ہیں اور یہ سارے اندازے اور شکوک ان کی اپنی ذہنی اختراع ہوتی ہے۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کو حسد اور جلن اپنا شکار بنالیتی ہے۔

حسد کا کوئی فائدہ ہے؟

ایک حاسد کسی خاص شخص کے حسد میں مبتلا ہوجاتا ہے اور تب تک سکون سے نہیں بیٹھتا جب تک اپنے مدمقابل کی دل آزاری کے لیے براہ راست چند طنز جملے نہ کہہ دے۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے ’’اگر مجھے کامیابی حاصل نہ ہوئی تو دوسرے کو بھی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ بہرحال یہ تو طے ہے کہ حاسد شخص کبھی فاتح نہیں ہوتا۔ حسد سے بچنے کے لیے آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے اردگرد ایک حفاظتی حصار قائم کریں۔ کبھی غلط ریمارکس کا اثر قبول نہ کریں اور نہ انہیں اہمیت دیں۔ آپ کو خود بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں آپ بھی حسد میں مبتلا تو نہیں!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *