بدھ, مئی 22, 2024
ہومپاکستانزنا اور چھیڑ خانی میں ملوث ملزم طارق محمود کی درخواست ضمانت...

زنا اور چھیڑ خانی میں ملوث ملزم طارق محمود کی درخواست ضمانت منظور

کراچی : ایڈیشنل سیشن جج ساؤتھ نے زنا اور چھیڑ خانی کے مقدمہ میں ملوث ملزم طارق محمود کی درخواست ضمانت منظور کر لی ۔

تفصیلات کے مطابق ملزم طارق محمود کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 3 کراچی ساؤتھ نے مبلغ پچاس ہزار روپے میں منظور کی ۔ ملزم طارق محمود کے خلاف دلدار علی نے ایف آئی آر نمبر 77/2024 زیر دفعہ 354 کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا ۔

ملزم طارق محمود پر پر الزام ہے کہ اس نے مدعی مقدمہ کہی بیٹی فرح بتول عرف (چندا) کے ساتھ چھیر خانی کرنے کا الزام ہے ۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم خود پولیس کے پاس سرنڈر ہوا جس پر پولیس نے ملزم طارق محمود کو گرفتار کر لیا ، کسی کی بعد ازاں جوڈیشنل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 13 کراچی ساؤتھ نے مبلغ 30 ہزار روپے میں منظور کی ۔

اسی دوران تفشیشی افسر نے فائنل چالان میں سیکشن 354 کو حذف کر کے سیکشن (3)376(بی)377 تعزیرات پاکستان کا اِضافہ کرکے چالان عدالت میں جمع کرایا ۔ جوڈیشنل مجسٹریٹ نے ملزم طارق محمود کو تاریخ پرکسٹڈی میں لیکر شوکاز نوٹس جاری کیا اور جیل بھیج دیا۔

لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملزم طارق محمود بے گناہ ہے اس پر مدعی مقدمہ نےجھوٹا الزام لگایا ہے ۔ ملزم طارق محمود عرصہ دو سال سے مدعی مقدمہ کے گھر پانی کی بوتلیں سپلائی کررہا ہے۔ جس کی کوئی بھی شکایت نہیں ہے ۔

لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس نے سیکشن 354 میں مقدمہ درج کیا تفشیشی افسر نے رشوت مانگی نہ ملنے پر سیکشن ،،(3)376(,بی،)377 کا اضافہ کیا ۔ متاثرہ لیڈی کا کوئی میڈیکل بھی پولیس نے نہیں کروایا ہے ۔

لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنے پانی سپلائی کے پیسے مانگے جس پر جھگڑا ہوا ہے جس پر مدعی مقدمہ نے جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا ہے ۔ ایڈیشنل سیشن نے ملزم طارق محمود کی پچاس ہزار روپے میں درخواست ضمانت منظور کرتے ہوے نمٹا دی ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں