ہری پور : صحافی حارث سواتی کو سینئر سول جج و اسپیشل میجسٹریٹ FIA/NCCIA ایبٹ آباد مجیب الرحمن نے ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر ضمانت پر رہا کر دیا ہے ۔ جب کہ این سی سی آئی اے کیخلاف ایف آئی اے کی رپورٹ رواں ہفتے عدالت میں جمع کرا دی جائے گی ۔
تفصیلات کے مطابق ہری پور کے صحافی حارث ایوب سواتی کیخلاف ضلعی پولیس افسر ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور کی درخواست پر بدست ایس ڈی پی او سٹی سعید یدون نے این سی سی آئی اے کو درخواست دی جس کے خلاف 22 اپریل کو انکوائری شروع کی گئی تھی ۔ حارث سواتی نے ملزم گلباس پر سٹی پولیس اسٹیشن میں تشدد کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا ۔ این سی سی آئی اے حکام نے حارث سواتی کو انکوائری کا نوٹس بھیجے بغیر گرفتار کیا تھا ۔
بعد ازاں 5 مئی کو NCCIA ایبٹ آباد نے مقدمہ نمبر 44/2026 درج کر کے حارث ایوب سواتی کو کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں ان کے دفتر سے اٹھایا تھا ، قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی اتارے لیئے گئے تھے ۔ تاہم دوسری دکان کے سی سی ٹی وی کیمرے دوسرے روز ایک اور صحافی کی مخبری کے بعد این سی سی آئی اے نے اتارے تھے ۔ حارث سواتی کو ہری پور سٹی تھانے منتقل کیا گیا تھا ۔ جہاں مبینہ طور پر بابر نامی شخص سمیت دیگر سادہ لباس اہلکاروں نے صحافی پر تشدد کیا اور ویڈیو بھی بناتے رہے ۔
بعد ازاں ایبٹ لے جاتے ہوئے سرائے صالح تھانے کے سپاہی زبیر نے بھی کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں بیٹھ کر حارث سواتی پر تشدد کیا ، شاہ مقصود سے این سی سی آئی اے کی خاتون افسر پاکیزہ اور اس کے گارڈ نے بھی حارث سواتی پر تشدد کیا اور رات گئے ایبٹ آباد NCCIA کی حوالات میں بھی تشدد کیا جاتا رہا ہے ، جس میں حارث سواتی کی کمر ، بائیں کان اور پیٹھ پر زخم بھی آئے ۔
6 مئی کو حارث سواتی کو ایبٹ آباد سینئر سول جج و اسپیشل میجسٹریٹ FIA/NCCIA، ایبٹ آباد مجب الرحمن کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جہاں کیس کا آئی او پیش ہی نہیں ہوا ۔ NCCIA حکام نے حارث سواتی کا 14 روز کا ریمانڈ مانگا ، تاہم جج نے ریمانڈ کے بجائے حارث سواتی کا میڈیکل بورڈ منعقد کرانے کا حکم دیتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا ۔جس کے بعد حارث سواتی کو 7 مئی کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔
میڈیکل بورڈ کی تصدیقی رپورٹ کے بعد حارث سواتی کی استدعا پر عدالت نے تحریری طور پر حکم جاری کیا کہ خصوصی میڈیکل بورڈ، BBS ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار کو واقعی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کو ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 4(ہ) کے تحت شکایت کے طور پر سمجھتے ہوئے ۔ مدعی کی بیان حلفی کو سیکشن 200 ض۔ف کے تحت درج کرتے ہوئے تشدد اور حراستی موت (پیشگیری اور سزا) ایکٹ 2022 کے سیکشن 5 کے تحت عدالت وفاقی تحقیقاتی (FIA) کو حکم دیتی ہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (ڈپٹی کمشنر)کی نگرانی میں میڈیکل رپورٹ میں موجود واضح نتائج کی روشنی میں مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔
عدالت نے کمیشن برائے انسانی حقوق اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سردار اللہ بابر کو حکم دیا ہے کہ وہ مکمل تفتیشی رپورٹ اس عدالت میں 21 مئی سے پہلے پیش کرے ۔ تفتیشی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیس قانون کے مطابق ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو منتقل کیا جائے گا ۔ قانون کے مطابق سیشنز کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہونگے کہ وہ مذکورہ جرائم کے تحت مدعی کو انصاف مہیا کرے اور بغیر کسی تاخیر کے کیس کا ٹرائل کیا جائے گا تاکہ 30 روز میں کیس کا فیصلہ ہو سکے ۔
دریں اثنا 13 مئی کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کی ہدایت پر جیل میں حارث سواتی کا بیان قلمبند کیا گیا ، جس میں مکمل تفصیلات ، سابقہ عدالتی فیصلے ،ہیول گاڑی، میڈیکل رپورٹ مہیا کی گئی ہے ۔ادھر حارث ایوب سواتی کے وکلا نےدرخواست ضمانت دائر کی جس میں ڈی ایس پی سٹی سعید یدون نے عدالت سےوکالت نامہ فائل کرنے کیلئے 4 روز کا وقت مانگا تھا ، عدالت نے مسترد کر کے ایک روز کا ٹائم دیا ۔ جس کے بعد جمعرات 14 مئی کو وکالت نامے فائل کرنے کے بعد 18 مئی کو بحث کے بعد سینئر سول جج و اسپیشل میجسٹریٹ FIA/NCCIA ایبٹ آباد محب الرحمن نے ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا جس کے بعد حارث سواتی کی جانب سے مچلکے جمع کرائے گئے اور حارث سواتی ایبٹ آباد جیل سے رہا ہو گئے ہیں ۔



