Home پاکستان جامعہ کراچی میں گو وی سی گو ،کے نعرے، قلم چھوڑ ہڑتال...

جامعہ کراچی میں گو وی سی گو ،کے نعرے، قلم چھوڑ ہڑتال شروع کرنے کا اعلان

4

کراچی : جامعہ کراچی میں مالی بحران، واجبات کی عدم ادائیگی اور ملازمین کو درپیش مسائل کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے تحت ستھرویں روز بھی جاری رہی ہے ۔ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن انجمن اساتذہ ، آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور سمیت مختلف ملازمین گروپس نے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی ۔ ملازمین نے گو وی سی گو کے نعرے بلند کیئے ۔

پیر کی صبح 10 بجے جامعہ کراچی کے اساتذہ، افسران اور ملازمین ایڈمن بلاک کے سبزہ زار میں جمع ہوئے ، نیوٹرل ایمپلائز گروپ جامعہ کراچی کے صدر شفیق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی جدوجہد کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں متوقع سنڈیکیٹ اجلاس کا مؤخر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اساتذہ، افسران اور ملازمین متحد ہیں اور اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اضافی ہاؤس سیلنگ، لیو انکیشمنٹ اور ایوننگ پروگرامز کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ مزید انہوں نے بد عنوانیاں اور کرپشن عروج پر ہے اس کی، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

برہان صدیقی نے کہا کہ انتظامیہ کی مسلسل بے حسی افسوسناک ہے، تاہم تمام ملازمین متحد ہیں اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری اشفاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے بعض انتظامی معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کو بائی پاس کر کے ایک ریٹائرڈ ٹرانسپورٹ افیسر جامعہ کا لیگل ایڈوائزر بنا ہوا ہے ۔ ریٹائرڈ ہونے کے، باوجود جامعہ کا گھر اور گاڑی استعمال کر رہا ہے ۔انہوں نے مزید کرپشن کی نشاندہی کی اور فوری، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

ملازمین اتحاد کے صدر فرحان خان نے کہا کہ ملازمین ، افسران اساتذہ اور کا اتحاد جامعہ کراچی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملازمین کا انتظامیہ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں بلکہ تمام جدوجہد صرف جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہے۔

آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن کے صدر سراج احمد بھٹو نے بھی جامعہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے حکومتِ سندھ سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے ۔ انصاف پسند گروپ کے رئیس الحسن نے شرکاء کے لیے نظم پیش کی اور ملازمین پر زور دیا کہ وہ اتحاد اور نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔

ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن جامعہ کراچی کے صدر زاہد حسین بلوچ نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر کی پریس کانفرنس میں مطالبات کو غیر قانونی قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین افسران اوراساتذہ، کے تمام مطالبات آئینی، قانونی اور جائز ہیں سنڈیکیٹ اور سینٹ سے منظور شدہ ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطلبہ کیا ہے کہ جامعہ کراچی کے موجودہ بحران اور ملازمین کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ فوری مطالبات منظور کیے جائیں اور کل سے جامعہ میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرتا ہوں جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے قلم چھوڑ ہرتال جاری رہے گی ۔

انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر غفران عالم نے خطاب کرتے ہوئے ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مؤقف کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ انجمن اساتذہ کے جنرل باڈی اجلاس میں بھی پیپرز کے بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ، افسران اور ملازمین کی مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی۔

مقررین نے واضح کیا کہ تمام مسائل کا حل افہام و تفہیم، مذاکرات اور سنجیدہ اقدامات میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس مشترکہ اور پرامن جدوجہد کو سنجیدگی سے لے اور فوری طور پر ملازمین کے جائز مطالبات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔

NO COMMENTS