کراچی :بلدیہ کراچی کو لوٹ کا مال سمجھنے اور زمینوں کو ٹھکانے لگانے کا عمل جاری ہے ۔ لانڈھی مزبح خانے کی زمین ٹھکانے لگانے کا عمل شروع ہو گیا ۔ 31 ایکڑ زمین بائیو گیس پلانٹ کی آڑ میں نمٹا دی گئی ۔ 101 ایکڑ پر محیط سلاٹر ہاؤس کی جگہ پر جسکا نقشہ موجود ہے جس میں واضع ہے کہ میکنیکل ، سلاٹرنگ، 360 ٹن کا کولیسٹرول بھی موجود ہے۔ پوری مارکیٹ بھی موجود ہے۔ اس جگہ مصطفی کمال نے 20 کروڑ لگا کر رینویشن کی تھی۔ شہید ذاولفقار علی بھٹو نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ چیکو سلواکیہ رشیا کی اسٹیٹ نے تین سلاٹر ہاؤس گفٹ دیئے تھے ۔ ایک کراچی میں دوسرا لاہور میں تیسرا ڈھاکہ میں لگایا۔ یہ 1967 میں ہوا تھا۔ جس جگہ کو محکمہ نے مسترد کیا وہاں میونسپل کمشنر افضل زیدی براہ راست ملوث ہوئے جس جگہ میکنیکل سلاٹر ہاؤس بنا ہوا ہے اور جسے فروخت کر دیا گیا ۔
اس کی مالیت 5 ارب ہے اور یہاں مارکیٹ سمیت تمام سلاٹر ہاؤس کے لوازمات، کولڈ اسٹوریج وغیرہ بھی موجود ہیں۔ کام صرف اسلامی نکتہ نظر کے حلال کئے بغیر سلاٹرنگ نہ ہو منصوبہ تاخیر کا شکار تھا کیونکہ سلاٹرنگ مشینوں سے ہونی تھی ۔ حیرت انگیز امر ہے کہ بائیو گیس پلانٹ اور ساری سہولیات موجود ہیں۔ افضل زیدی نے محکمے کی جانب سے سلاٹرنگ کو مسترد کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا کر دوسری پارٹی جس سے کروڑوں روپے رشوت لی گئی ۔ پروپوزڈ پارٹی کو دینے کی ہدایت کی گئی ۔ جو بائیو گیس کے نام پر فراڈ ہے بلکہ یہ زمین چائنا کٹنگ کی نذر کر دی گئی ہے جو میگا کرپشن میں آتا ہے۔ نوٹ شیٹ میں میونسپل کمشنر نے واضع طور پر ویٹرینری ڈپارٹمنٹ کاپروپوزل مسترد کر دیا ہے۔ تین چار سال سے یہاں کی مشینری اور قیمتی سامان افضل زیدی کی ٹیم جس کو جگہ دی گئی مسلسل نکال کر لے جارہی ہے۔ جب کہ محکمہ نے سلاٹر ہاؤس کو ٹیک اوور بھی نہیں کیا ۔
سینئر ڈائریکٹر افتخار احمد اور افضل زیدی نے اربوں کی مشینری بیچ کراور اربوں کی وصولی کر کے سلاٹر ہاؤس کی حیثیت ختم کر دی ۔ لاکھوں روپے کا لوہا بھی نکال کر بیچ دیا گیا ہے ۔ میکا نزم کا گیٹ بند کر دیا گیا ہے ۔ اس جگہ لینڈ گریبر کرپٹ افضل زیدی کی منشاء سے اس کی پارٹی بلڈنگ بنا رہی ہیں۔ چار دیواری پر قبضہ کر کے پرائیوٹ گارڈ بٹھا دیئے گئے ہیں۔
یہ کراچی کا واحد سلاٹر ہاؤس ہے جو صحت کے اصولوں کے مطابق گوشت فراہم کر رہا ہے ۔ اس سلاٹر ہاؤس کی 101 ایکڑ جگہ کو 40 ایکڑ چائنا کٹنگ کر کے من پسند پارٹی کو ہینڈ اوور کر دی ۔ پرانی جگہ ڈمپنگ کی محکمہ نے کہا تھا کہ دینی ہے تو یہ دے دیں لیکن مرکزی جگہ کے ایم سی اور شہریوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے قبضہ کرلی ہے جس کی ڈی مارکیشن بھی کر لی گئی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ماسٹر پلان جو بنے ہیں میگا سٹی کے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ توہین عدالت بھی کی گئی ہے۔ 101 ایکڑ زمین سو سال کے لئے دی گئی ہے جو کے ایم سی کا استحقاق ہے اور کسی نجی مقصد کے لئے استعمال نہیں ہو سکتی۔ یہاں خالی جگہوں پر کے ایم سی مویشی منڈی لگا کر ریونیو حاصل کرتی رہی ہے وہ بھی محروم کر دیا گیا ۔
اس جگہ پر جانور کٹنے ہوتے ہیں وہ ہفتہ ہفتہ بھر یہیں کھڑے کئے جاتے ہیں۔ جس کی تعداد 22 سے 24 ہزار ہوتی ہے۔ اس جگہ قبضے کے بعد شہر بھر میں غیر قانونی سلاٹرنگ شروع ہو گئی ہے۔ جو میونسپل کمشنر کی اجازت اور سینئر ڈائریکٹر کی رشوت ستانی سے ہو رہی ہے رشوت کا نیا کھاتہ شہریوں کو مضر صحت گوشت کی فراہمی پر ہو رہا ہے۔
واضع رہے کہ لانڈھی سلاٹر ہاؤس کیس میں متعدد افسران نیب کیس میں گرفتار اور سزا تک پہنچ چکے ہیں۔ وسیم شیخ، روشن شیخ، سابق سیکریٹریز، فضل الرحمان لالا، صباح الاسلام، سیف عباس، شارق الیاس، محمد حسین سید، نجم الزماں، طاہر جمیل درانی، پی ڈی لائنز ایریاز بھی اس کیس میں گرفتار ہو چکے ہیں ۔ جب کہ طاہر جمیل درانی نے سات سال سزا کاٹی اور نا اہل بھی ہو گئے۔ عدالت سے اپیل بحالی ملازمت بھی مسترد ہو گئی ۔ لیکن شہنشاہ کرپشن افضل زیدی نے انہیں بابر مارکیٹ اسپتال میں چھپر میں تنخواہ کرا دی۔ اور ریٹائرمنٹ بھی کردی گئی۔ جو مئیر کراچی اور میونسپل کمشنر سمیت تمام دستخط کرنے والوں کا مجرمانہ عمل ہے۔ اب اس زمین کو آئی واش کر کے نمٹانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
جب کہ بھینس کالونی کی ایکڑوں زمین پر مذید تیاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔اس ضمن میں تمام دستاویزات بھی منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ اس کھیل کے پیچھے پی ڈی بس ٹرمینل فیصل رضوی ا و دیگربھی شامل ہیں جنکے پرپوزلز پر کھیل رچایا جا رہا ہے۔ جبکہ نقشے اور کے ڈی اے و ماسٹر پلان میں جدید سلاٹرہاؤس اور دیگر واضع ہیں لیکن الہ دین پارک کی چار ایکڑ زمین کی طرح 31ا یکڑ زمین بھی ڈائریکٹر لیگل سے مرضی کا جواب لکھوا کر چھو منتر کردی جائے گی۔
بلدیہ کراچی فنی طریقے سے چائناکٹنگ کر رہی ہے اور کھربوں کی آمدنی کے ایم سی کے بجائے سسٹم کو جائے گی۔ یہ بھی واضع رہے کہ سسٹم کے خلاف ایس بی سی اے میں افسران کھل کر بغاوت پر آگئے کے ایم سی میں بھی انسداد کرپشن آفیسرز ایکشن کمیٹی متحرک ہے لیکن مئیر اور افضل زیدی دھونس دھمکی اور ایف آئی آر کی سیاست کرتے ہیں اس لئے یہ کمیٹی کرپشن حساس اداروں کو بھیج رہی ہے۔
افضل زیدی انتہائی متنازعہ ہو چکے ہیں اور کراچی کو نوچ نوچ کو لوٹنے کا عمل جاری ہے۔ جبکہ مئیر کراچی نے اپنے فرنٹ مین کرپٹ افضل زیدی کو صدر پاکستان اور وزیر اعلی سندھ کی مدد سے کلیئرنس دلا دی ہئے اور وہ ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ مذبح خانہ کی انتہائی قیمتی زمین کو حساس اداروں نے مانیٹر کرنا شروع کردیاہے۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق زمین فروخت کردی گئی ہے جسکی تفصیل جلد جاری کی جائے گی ۔
