پاکستان میں ہرسال لیپروسری کے اوسطا ً 400 نئے مریض رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں ،

رپورٹ : اختر شیخ

پاکستان میں ہر سال اوسطا ً 400 نئے مریض رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں۔صوبہ سندھ میں نئے مریضوں کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں ذیادہ ہے۔ پچھلے سال 143نئے مریض صوبہ سندھ میں رجسٹر کئے گئے تھے جو کُل مریضوں کا 42% بنتے ہیں۔ اِن نئے مریضوں میں تقریباً 59% مریض کراچی میں رجسٹر کئے گئے۔ سندھ کے بعد خیبر پختونخواہ میں 11% اور پنجاب میں 9% مریض رجسٹر کئے گئے۔جبکہ دیگر صوبوں میں یہ شرح بتدریج کمی کی طرف مائل ہے۔

جذام کا مرض مکمل قابو میں ہے اور عام لوگوں کے لئے یہ کسی خطرہ کا باعث نہیں۔ ان خیالات کا اظہار ماری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹرکے چیف ایگزیکوٹیو آفیسر مارون لوبو، ڈائریکٹر ٹریننگ ڈاکٹر علی مرتضی، ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز/ایڈمنسٹریشن سیویو پریرا نے جذام کے عالمی دن کے موقع پر پریس بریفینگ میں کیا۔

چیف ایگزیکوٹیو آفیسر مارون لوبو نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ماری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹرگزشتہ 6 دہائیوں سے جذام مرض کے خاتمے کے لئے سرگرم ِعمل ہے۔ اب تک پورے پاکستان میں 58,490 جذام کے مریض رجسٹرڈ کئے جاچکے ہیں۔ن میں سے 99%مریض اپنا علاج مکمل کرچکے ہیں جبکہ91% مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر نارمل زندگی بسر کر رہے ہیں۔زیر علاج مریضوں کی تعدادبھی بتدریج کم ہو کر اب تقریباً 450 رہ گئی ہے۔

جذام کے خاتمہ سے متعلق WHO کی جاری کردہ حکمتِ عملی برائے سال 2016 – 2020 میں تین اہم اہداف مقرر کئے گئے ہیں جس کے لئے ہم سب کو مشترکہ طور پرکوششیں کرنی ہونگی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ پاکستان میں ماری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹرگزشتہ 6 دہائیوں سے جذام کے خاتمے کے لئے سرگرم ِعمل ہے۔ہر سال اِس دن کے حوالے سے عوام الناس کی آگاہی کے لئے مختلف پروگراموں کو ترتیب دے کراِس دن کو قومی سطح پر منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

1996میں پاکستان میں جذام مرض پر قابو پایا جا چکا ہے۔اور اب یہ بیماری عام آدی کی صحت کے لئے خطرہ نہیں رہی تاہم اس بیماری کا خاتمہ ابھی باقی ہے۔جذام کے خاتمہ کے بیشتر اہداف حاصل کئے جا چکے ہیں مثلاًنئے مریضوں کے ملنے کی شرح ایک لاکھ افراد میں ایک یاایک سے کم، زیرِعلاج مریضوں کی شرح دس ہزار افراد میں ایک یا ایک سے کم، نئے مریضوں میں معذوری کی شرح دس لاکھ افراد میں ایک یا ایک سے کم، نئے مریضوں میں بچوں میں معذوری کی شرح 0%۔

یہ وہ اہداف ہیں جن کو عالمی ادارہ صحت WHO نے مقرر کررکھا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے اِس مقرر کردہ پیمانے کے تحت پاکستان میں اب نئے مریضوں کے ملنے کی شرح 0.16، زیرِعلاج مریضوں کی شرح 0.02، نئے مریضوں میں معذوری کی شرح0.23 جبکہ، نئے مریضوں میں بچوں میں معذوری کی شرح 0.01% ہے۔ اِس بیماری کے خاتمہ میں دو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ایک یہ کہ اس بیماری کا incubation period یعنی جراثیم کا جسم میں داخل ہونے اور علامات کے ظاہر ہونے کا دورانیہ عام بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جو تقریباً 3 تا 5 تا 20 سال ہے۔

دوسری یہ کہ لوگوں میں اِس بیماری کے بارے میں معلومات کا بھی فقدان ہے اور لوگ اس مرض میں مبتلا ہونے پر اِس کو چھپاتے ہیں۔ اب بھی پاکستان میں ایسے مریض موجود ہیں جو دوسروں میں اس بیماری کو پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ ُان کا بروقت علاج کر کے اِس بیماری کے مکمل خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے۔ جذام کے خاتمہ سے متعلق WHO کی جاری کردہ حکمتِ عملی برائے سال 2016 – 2020 میں تین اہم اہداف مقرر کئے گئے ہیں: Zero Transmission, Zero Disability in children cases, Zero Discrimination جس کے لئے ہم سب کو مشترکہ طور پرکوششیں کرناہونگی۔

جذام مرض پر کامیابی سے قابو پانے کے بعد اب لیپروسی ٹیم اس کے خاتمہ کے لئے بھی اُسی تندہی سے کام کر رہی ہے۔ لیپروسی کنٹرول پروگرام میں ٹی بی، بلائنڈنس کنٹرول، ماں اور بچوں کی صحت اور افراد باہم معذوری کی بحالی جیسے پروگراموں کو بھی شامل کر لیاگیاہے۔تاکہ ان پروگراموں کے سہارے جذام کے کام کو جاری رکھا جاسکے۔ اس میں کارپوریٹ سیکٹر ہمارابھرپورساتھ دے رہا ہے اور مالی معاونت سے پروگرام کو جاری رکھنے کاذریعہ فراہم کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا تعاون بھی ہمیں حاصل ہے۔اسی طرح سالانہ تقریباً 50,000 حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کو صحت کی سہولیات بھی مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ ان میں وہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو غذا کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ تھرپارکر جیسے قحط زدہ علاقوں میں کیمپس کے ذریعے یہ خدمات دی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ معذوری کا شکار افراد کی بحالی کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ کراچی میں تقریباً 4,000 ایسے افراد کو جو کسی معذوری کا شکار ہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کی معاونت کرکے ان کی بحالی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *