واٹر بورڈ‌ کے نو تشکیل شدہ بورڈ کے مقاصد کیا ہیں ؟

رپورٹ : اختر شیخ

وولڈ بینک کی ایما پر قائم واٹر بورڈ کا 15 رکنی بورڈ اجلاس وقت کی کمی کے باعث تعارفی سیشن بھی مکمل نہ کرسکا،7 اکتوبر کو قائم نئے بورڈمیں 7 سرکاری اور 8 پرائیویٹ سیکٹر کے ممبر بنائے گئے ہیں،60 فیصد بیرونی ماہرین کی موجودگی میں ادارے کی نمائندگی دب کررہے گی ، اگلے اجلاس میں باہر سے ایم ڈی بھرتی کرنے کی منظوری دی جائے گی جس کے بعد بورڈ میں واٹر بورڈ کا اپنا کوئی نمائندہ نہیں ہو گا ، نئے بورڈ میں پرائیویٹائزیشن کی فضا کو تقویت ملے گی۔

الرٹ کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کورآرڈینیشن کے سیکشن آفیسر CIVغلام عباس ملک نے چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ کے حکم پر 7 اکتوبر کو نوٹی فکیشن نمبر No.SO(C-IV)SGA&CD/4-27/10 جاری کیا تھا جس میں واٹر بورڈ میں اہم فیصلے کرانے والے بورڈکی از سر نو تشکیل کی تھی جو واٹر بورڈ کے افسران کے نزدیک متنازع بورڈ تھا ، تاہم واٹر بورڈ کے ایم ڈی سمیت ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرز جعلی دستاویزات اور خلاف ضابطہ ترقیاں حاصل کرکے اربوں پتی بن چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ سندھ حکومت یا محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران کے سامنے بے بس ہیں۔

نئے بورڈ کے لئے جاری کیا جانے والا نوٹی فکیشن کا عکس

اسی لئے مذکورہ جانبداربورڈ کی تشکیل کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی جبکہ اس کے برعکس واٹر بورڈ کی لیبر یونیز نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس بورڈ میں کل 15ممبران بنائے گئے ہیں جن میں 8ممبران پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین پر مشتمل ہے جبکہ 7سرکاری افسران ہیں جن میں گروپ کے 7 افسران میں
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ ،
میئر کراچی وسیم اختر ،
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ روشن علی شیخ ،
سیکرٹری فنانس ڈیپارٹمنٹ،
سیکرٹری پلاننگ ڈیپارٹمنٹ،
چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل
اورمنیجنگ ڈائریکٹر واٹر بورڈ اسداللہ خان شامل ہیں .
جب کہ گروپ بی میں شامل ماہرین میں ڈاکٹر نعمان احمد ،
بیرسٹر عبدالستار پیرزادہ ،
محمد رضوان رؤف ،
طارق حسین ،
اسدعلی شاہ ،
سیمیں صدف کمال،
سابق ایم ڈی واٹر بورڈ محمد سلیمان چانڈیو اور صدر کے سی سی آئی شامل ہیں۔

نئے بورڈ کے لئے جاری ہونے والا نوٹی فکیشن

ان میں گروپ بی کے تمام ممبران کو چار سال کے لئے بنایا گیا ہے کہ ایک سال یا تین سال کا رولز اس سے قبل رہا ہے،اس میں ڈی ایم سی کا نمائندہ صرف مبصر کے طور پر موجود رہے گا جس کے بعد بورڈ میں 70 فیصد نمائندگی پرائیویٹ سیکٹر پر مشتمل ہو گی۔اس بورڈ کو اختیار ہو گا کہ وہ ادارے کے رولز میں ترمیم یا نئے رولز بنا سکے گا،ادارے سے باہر کے کسی بندے کو واٹر بورڈ کا ایم ڈی تعینات کرسکے گا.

چا ر سال کے لئے آنے والے بورڈ ممبران حیرت انگیز طورپر 5سال کی پلاننگ بنانے کا مجاز ہو گا،بورڈایم ڈی کے علاوہ انٹرنل آڈیٹر کا تقرر،ریفارم منیجر کا تقرر،بورڈ کے ماتحت کمیٹیز کا قیام،سالانہ بجٹ بنانے اور 100ملین کے اخراجات کی اجازت بھی دے گا،ادارے کے تمام احکامات بورڈ جاری کرسکے گا،بورڈ ادارے کے 1996 کے رولز میں ترمیم کا اختیار رکھتاہے اور یہ ترامیم بھی کرے گا،اس کے لئے تعاونی کمیٹیاں قائم کرے گا،بورڈ ایک سال میں کم از کم 10 اجلاس منعقد کرے گا،اس اجلاس کا کورم نصف اور ایک ممبر کی موجودگی سے مکمل ہو جائے گا۔

انتہائی متنازعہ ٹی او آرز کے باجوود ادارے کے افسران میں سے کسی نے بھی عدالت سے اس کے خلاف رجوع نہیں کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے سربراہ دہری شہریت رکھنے کے علاوہ خلاف ضابطہ تقرری اور آمدن سے زائد اثانوں جیسے اہم کیس کی زد میں آنے کے خوف سے اس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکے ہیں اور ایم ڈی شپ بھی جانے دے رہے ہیں تاہم انہوں نے خلاف ضابطہ پر ڈی ایم ڈی شپ کا کنٹرول تاحال اپنے پاس رکھا ہوا ہے،جبکہ دوسری جانب ڈی ایم ڈی ہیومن ریسورس کی تقرری سے لیکر ترقی تک غیر قانونی ہے اوروہ بھی تین عہدوں پر براجمان ہونے کی وجہ سے کوئی ردعمل نہیں رہے ہیں جبکہ دیگر ڈی ایم ڈیز بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کھلنے سے خوف سے خاموش ہیں .

تاہم اس حوالے سے لیبر یونینز تشدید تشویش میں ہیں اور اس کے خلاف عدالت جانے کی تیاری کررہی ہیں۔ادھر بورڈ کا اجلاس رواں ماہ کے شروع میں منعقد ہونا تھا جس ناگزیر وجوجات کی بنا پر موخرکرکے گزشتہ روز وزیر بلدیات کے دفترکے ساتھ کمیٹی روم میں منعقد کیا گیا جس میں تمام ممبران شریک ہوئے تھے۔اس نئے بورڈ کا پہلا تعارفی دن گیارہ بجے شروع کیا گیا جس میں سابقہ بورڈ اجلاس کے منٹٹس کی منظور ی دی گئی جس کے بعد ایم ڈی اسداللہ خان نے نئے ممبران کو ادارے کی پری زنٹیشن دی جو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ روشن علی شیخ کو پہلے دی گئی اور ان کی منظوری کے بعد بورڈ اجلاس میں دکھائی گئی اس جلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بورڈ کے ممبران کو بتایا کہ واٹر بورڈ کی نجکاری نہیں کی جارہی ہے۔

بورڈ کے پہلے اجلاس میں بار بار نجکاری کی نفی کرنے کے طریقہ کار بتائے جاتے رہے اور اجلاس میں کم از کم 14بار کہا گیا کہ نجکاری بھی نہیں کی جارہی اور موجودہ میں ماہرین کو شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ اس بات میں بھی صداقت نہیں کہ یہ ممبران جانبدار ہیں۔ایم ڈی اسداللہ خان کی پری زنٹیشن ممکمل ہی نہیں ہوئی تھی کہ نماز جمعہ کی وجہ سے اجلاس ختم کردیا گیا جس کے بعد اگلے اجلاس میں پری زنٹیشن مکمل کی جائے گی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *