اگرآنسو گیس کی شیلنگ ہوتی ہے توآپ نے کیا کرنا ہے ؟

تحریر : قاضی نصیر عالم

اگر آپ دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں تو یہ تحریرآپ کے لئے ہی لکھی گئی ہے .

دھرنے کے لئے نکلنے والے احباب نوٹ کرلیں کہ آپ اپنے ساتھ نمک کی تھیلی اور گڑ لازمی رکھیں ، آنسو گیس کی شیلنگ کے دوران دونوں چیزیں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں ۔ مار کھانے کے بعد یا پیدل سفر کے دوران نمک کی ٹکور بھی جادوئی اثرات رکھتی ہے۔ آنسو گیس کی شیلنگ ہجوم کو منتشر کرنے کا موثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے اور جب ہجوم ایک بار منتشر ہو جائے تو اس کی مثال میدان جنگ سے بھاگنے والے لشکر کی سی ہوتی ہے جو پولیس کی لاٹھیوں اور لاتوں کی زد پہ ہوتا ہے ، لہذاہ شیلنگ کے اثرات مکمل طور پر زائل کرنے کے لیے پرانی بوریوں کو گیلا کر کے رکھیں اور جہاں شیل گرے اس پہ ڈال دیں ۔ شیل وہیں بفضل تعالی پُھس ہوجائے گا .

اپنے ساتھ پی ٹی آئی کے کلر والے بلے رکھیں ۔ آنسو گیس کا شیل پروجیکٹائل موشن میں سفر کرتا ہے اور ایک خاص فاصلہ طے کرنے کے بعد ٹپہ کھا کر گرتا ہے ، بس یہ سب سے سنہری موقع ہوتا ہے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے اسے واپس ماریں اسی رفتار سے پھینکنے والوں کی طرف واپس جاتا ہے۔ بلوں کی تعداد کم رکھیں ، کسی انہونی کی صورت میں اسی سے مار پڑنے کا بھی امکان موجود ہے۔

جس جگہ رکاوٹ ہو پہلی فرصت میں سڑک پر یا اس کے کنارے پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بنائیں یا پانی کی بالٹیاں رکھیں اور شیل کو گیلی بوری یا بلے سے روک کر اس پانی میں ڈال دیں اس کی یوں موت واقع ہوتی ہے جیسے ناخن پر جوں مرتی ہے۔ گیلے رومال منہ پر باندھے رکھیں اور اسے بار بار پانی سے تر کرتے رہیں ، آنسو گیس کی شدت اسی فیصد کم ہو جائے گی اور آپ شیل اٹھا کر واپس بھی پھینک پائیں گے .

اگر آپ ایک شیل اٹھا کر واپس پھینکنے میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانئیے آپ دو درجن پھینکیں بغیر چین نہیں پائیں گے۔ ۔واپسی پر آپ کے محبوب لیڈر کی تقریر کسی کو یاد نہیں ہو گی لیکن یہ پتہ ہو گا کہ آپ نے کتنے شیل واپس پھینکے تھے . آپ کی بہادری کے چرچے ہوں گے۔

سردی ابھی شروع نہی ہوئی لیکن پھر بھی لمبی جیکٹ پہنیں لاٹھی کی ضرب نہ ہونے کے برابر محسوس ہو گی اور جیبوں میں موجود گڑ اور خشک میوہ جات انرجی اور شوگر لیول مینٹین رکھیں گے۔ خواہ کیسے بھی حالات ہوں اجتماعیت نہ چھوڑیں اور مجموعے کے ساتھ رہیں ، یقین جانیں اگر اطراف میں آپ پولیس والوں کے ہاتھ چڑھ گئے آپ جہنم کے داروغوں کا بیان کرنے میں یکتا ہو جائیں گے۔

اگر اسلام آباد پہنچ جائیں تو اجتماع گاہ کو چھوڑ کر اسے مفتوحہ شہر سمجھ کر مٹر گشت کرنے ہر گز نہ نکلیں ۔ آپ گنتی پوری کرنے کے کام آئیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *