اسلام آباد پہنچ کر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے دھرنا دینا ہے یا نہیں ؟ مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی میں آزادی مارچ اور یوم یکجہتی کشمیر کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو جانا ہوگا ،استعفٰی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے ، حکومت کی مزاکراتی ٹیم ہم سے این آر اولینے آئی تھی ، ہمارے حکمرانوں نے کشمیر پر سودا کیا ہے ہم اس سودے کو ہر صورت رد کرتے ہیں ، کشمیر کے مسئلے پر سب پاکستانی ایک پیج پر ہیں، او آئی سی سمیت عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کو واپس کیا جائے .

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں کشمیر یکجہتی ریلی و آزادی مارچ سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پوری قوم سے وعدہ کیا تھا کہ 27 اکتوبر کو قوم پورے ملک میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی منائی گی ، اس طرح نہیں چلتا کہ قوم پر ظلم و ستم ہوتا رہے اور ہم خاموش رہیں . ہم قطعاً خاموش نہیں رہیں گے .

میں 27 اکتوبر کے مجاہدین کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانی دی اور کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑی تھی ، ہم کشمیر کے حوالے سے موجودہ حکومت کے معاہدات اور سودے کو تسلیم نہیں کرتےآج کی ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گی . آج عوام کی یکجیتی سے ہندوستان کی ظالم حکومت کو پیغام مل رہا ہے .

عام آدمی کی زندگی تین ماہ سے اجیرن ہے لوگوں کی شخصی اور انفرادی زندگی برباد کی گئی ہے ، ہم او آئی سی سمیت عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کو واپس کیا جائے ، ہماری بھی کوتاہیاں ہیں مگر دنیا کو پیغام دیتے ہیں کشمیر کے مسئلے پر سب پاکستانی ایک پیج پر ہیں .

ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیاگیا ہے، ہم نے پوری زندگی ملک کےساتھ وفاداری کی ہے ۔ ہم نے شدت پسندوں کا مقابلہ کرکے جید علماء کی شہادتیں دی ہیں ، مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ عمران خان نےکہا تھا اتنے لوگ جمع کرلیں تو استعفیٰ دے دیں گے . اب یہ تو صرف کراچی نے جمع کردیا، پورا ملک جمع ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟.

حکومت کی مزاکراتی ٹیم ہم سے این آر او لینے آئی تھی ہم عمران خان کے استعفیٰ سے دستبردار نہیں ہوئے ، عمران خان کو جانا ہوگا، ہم حکمرانوں کے استعفی سے دستبردار نہیں ہونگے ، عمران خان جبری اور دھاندلی کی بنیاد پر آیا ہے، ہم نہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں نہ اس کے نتیجے میں بننے ہونے والے اس وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں .

مزید ہم کیا کریں گے یہ اسلام آباد پہنچ کر فیصلہ کریں گے ہم نے عدلیہ کا احترام کیا اور اسی روشنی میں دھرنادیں گےمولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایسے موقع پر جب پوری قوم اسلام آباد کی طرف چل پڑی ہے ، انہوں نے ایسے فیصلے کیے ہیں جو مضحکہ خیز ہیں ،ہمارے ان حکمرانوں نے حافظ حمداللہ کے حوالے سے مضحکہ خیز فیصلہ کیا ، کوئی پختون ہے تو اسے آپ افغانی کہیں گے ؟ ہم حافظ حمداللہ کی رکنیت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے ، کیا وہ افغانی ہے، جو شخص نسلوں سے پاکستان کی خدمت کررہا ہے اسے آپ نے غیر ملکی قراردے دیا .

جو شخص غیر ملکی وفادار ہے اسے لاکر پاکستان کا حکمران بنا دیا گیا .معین قریشی کس ملک کا شہری تھا؟ جس کو تم نے وزیراعظم بنایا۔ شوکت عزیز کس ملک کا شہری ہے جو پاکستاں کا وزیراعظم بنا۔؟ اسلام آباد پہنچنے پر ایک غیرت مند شہری کی طرح حافظ حمداللہ ہمارے ساتھ ہونگے، تمہارے یہ اوچھے ہتکھنڈے انشاءاللہ تمہارے گلے پڑیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *