Home تازہ ترین وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ اردو کے تحت ”مسئلہ فلسطین : ادبی ،سیاسی...

وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ اردو کے تحت ”مسئلہ فلسطین : ادبی ،سیاسی و عالمی جہات “ کے عنوان سے مذاکرہ

0
65

 کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیر اہتمام ”مسئلہ فلسطین: ادبی ،سیاسی و عالمی جہات “کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مذاکرے کے شرکاء میں معروف صحافی مظہر عباس،صحافی و ادیب انور سن رائے، مصنف و شاعر فراست رضوی،صحافی و سیاسی وسماجی شخصیت صابر ابو مریم اور صحافی تابان ظفر شامل تھے۔ موڈریٹر کے فرائض صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات،وفاقی اردو یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر دشتی نے انجام دیے۔ نظامت ایم فل اسکالرز انیلہ تبسم اور منظور احمد نے کی تقریب کی سرپرستی صدر شعبہ اردو ،رٸیس کلیہ لسانیات ڈاکٹر یاسمین سلطانہ کررہی تھیں۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ مذاکرے کا آغاز صابر ابو مریم کی گفتگو سے ہوا ان کا کہنا تھا کہ سرزمین فلسطین تمام مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ ہمارے لیے تمام انبیاءقابلِ احترام ہیں۔ یہ لڑائی مسلمانوں اور یہودیوں کی نہیں ہے۔ یہ جنگ نہیں اسلام کےخلاف سازش ہے۔ ہر ملک کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے مگر فلسطینیوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے فلسطینیوں کی منشاء کے بغیر ان کی زمین پر قبضہ کر کے اسرائیل بنایا۔ اور پراپیگنڈا کرتے رہے کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینیں بیچی ہیں۔ جبکہ انھیں ان کی زمین سے زبردستی نکالا گیا۔ انصاف کے بغیر فلسطین میں امن قائم نہیں ہوگا۔

انور سن رائے کا کہنا تھا کہ اردو ادب میں مسئلہ فلسطین پر بہت کام ہوا ہے۔ ادب میں کسی بھی مسئلے کے انسانی پہلو کو دیکھا جاتا ہے۔ادیب دنیا کے کسی بھی خطے سے ہو وہ مسئلہ فلسطین سے چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھاکہ فلسطینیوں کو ہم نے تنہا چھوڑ دیا۔ فلسطینیوں کے حق میں آنسو بہانے اور جذباتی نعرے لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حقیقت کی دنیا میں رہ کر عملی و سیاسی جدوجہد کرنی ہو گی۔

مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے معروف صحافی مظہر عباس نے کہا کہ معروف ادیب ایڈورڈ سعید مذہباؒ عیسائی تھے لیکن فلسطین کاز کے لیے عملی طور پرجنگ میں حصہ لیا۔ مسئلہ فلسطین کو سمجھنے کے لیے ان کی کتاب پڑھنی ضروری ہے۔ جہاں مزاحمت ہوئی وہاں مزاحمتی ادب بھی پیدا ہوا۔ سوویت یونین کا ٹوٹنا مزاحمتی تنظیموں کی موت ثابت ہوا۔ آج ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی امریکہ کا اتحادی بننا ہے ۔ فلسطین آج تنہا ہے۔ حماس اور حزب اللہ بھی تب کامیاب ہوں گے جب انھیں سیاسی حمایت حاصل ہو۔ مسئلہ فلسطین دو ریاستی حل کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ حماس کے طریقہ کار پر اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر وہ دراصل اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہی ہے کسی کی اور کی آزادی سلب نہیں کر رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ سے پیدا ہونیوالے انسانی المیے کو روکا جائے ۔

معروف مصنف اور شاعر فراست رضوی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے دو پہلو ہیں ایک انسانی اور دوسرا اسلامی۔ یہودی دراصل تابوت سکینہ پر دسترس چاہتے ہیں۔ اور گریٹر اسرائیل کے حصول کی کوشش میں ہیں۔ آج مسلمانوں کو کوئی لیڈر نہیں۔ او آئی سی ناکام پلیٹ فارم ہے۔ عرب لیگ نے بھی فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔

معروف صحافی تابان ظفر نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ انسانی ہے۔ کیا حماس کو اندازہ تھا کہ اس حملے کا ردعمل کیا ہوسکتا ہے ؟ حماس کو سوچنا چاہیے تھا کہ ردعمل انتہاٸی ہوگا جس میں بچے ،بزرگ، عورتیں عام لوگ مارے جاٸیں گے۔ بیس ہزار عام لوگ شہید ہو چکے ہیں ۔اس المیے کو جلد از جلدروکنا ہو گا۔ تقریب میں ڈاکٹر فراست رضوی ،سارا فاونڈیشن کی سربراہ صبیحہ اخلاق، اور ایم فل اسکالر خالد حسین نے فلسطین کے حوالے سے نظمیں پڑھیں۔

مذاکرے کے اختتام پر صدر شعبہ اردو اور رٸیس کلیہ لسانیات ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے مہمان شرکاء سے اظہار تشکر کرتے کہا کہ مسئلہ فلسطین ایک سلگتا ہوا موضوع ہے۔ شعبہ اردو نے ہمیشہ اس نوعیت کے موضوعات پر تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ مذاکرے کا مقصد مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلووں کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اظہار یکجہتی اور آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اختتام پر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے مذاکرے کے شرکاء کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیں۔