پاکستانی ڈاکٹر کا تیار کردہ سافٹ ویئر چوری کرکے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیا گیا

رپورٹ : شہزاد ملک

بین الاقوامی کمپنی سیمنز ہیلتھ نے پاکستانی ڈویلپر کا تیا رکردہ ‘‘ہاسپٹل مینجمنٹ سافٹ ویئر ’’سرنر کمپنی کو ایک ارب 50کروڑڈالر میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے،

ڈاکٹر اقبال رضا نے سافٹ ویئر 10سال کے عرصہ میں بنایا ہے ،ریسرچ کے دوران ڈاکٹر اقبال نے کروڑوں روپے خرچ کئے ہیں ،عالمی دنیا میں پذیرائی کے بعد تخلیق کار کا ستائشی انعامات سے بھی نوازا جاچکا ہے ،سافٹ ویئر فروخت کرنے کے معاملے پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کردی ہیں ۔

معروف بین الاقوامی کمپنی سیمنز ہیلتھ نے پاکستانی سافٹ ویئر ڈویلپر ڈاکٹر اقبال رضا کا بنایا ہوا ہاسپٹل منیجمنٹ سافٹ ویئر سرنر کمپنی کو خفیہ طور پر ساز باز کرکے ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر میں فروخت کر دیا،تاہم سافٹ ویئر بنانے والے ڈاکٹر اقبال رضا کو اس وقت خبر ہوئی جب سیمنز کمپنی ان کے بنائے ہوئے ہاسپٹل منیجمنٹ سافٹ ویئر کو امریکی سرنر کمپنی کو ڈیڑھ ارب ڈالر میں بیچ چکی تھی، اس سے پہلے ڈاکٹر اقبال رضا جنہوں نے یہ سافٹ ویئر بنایا تھا، اس کو بنانے میں تقریباً دس سال کی محنت لگی تھی جبکہ ریسرچ کے دوران ڈاکٹر اقبال رضا نے اس پر کروڑوں روپے بھی خرچ کئے تھے۔ تب جاکر ہاسپتل منیجمنٹ سافٹ ویئر تخلیق ہوا تھا.

سیمنز کمپنی نے ایک رات میں یہ سافٹ ویئر ایک دوسری کمپنی سرنر کو ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر میں فروخت کردیا ،اس سے پہلے ڈاکٹر اقبال رضا نے اپنے سافٹ ویئر کو مختلف نمائشوں میں بھی پیش کیا، بے شمار انعامات کے حقدار بھی ٹھہرے ،جبکہ ڈاکٹر اقبال کے بنائے ہوئے اس شاہکار سافٹ ویئر کو پوری دنیا سے پذیرائی بھی ملی، نمائش کے دوران سیمنز کمپنی کے سافٹ ویئر ڈویلپر نے ڈاکٹر اقبال رضا کے بنائے ہوئے سافٹ ویئر کو انتہائی سنجیدگی سے لیا، جبکہ انہوں نے ڈاکٹراقبال رضا کے بنائے ہوئے اس سافٹ ویئر کو اس کے بعد چوری کرلیا.

چوری ہونے کے بعد ڈاکٹر اقبال نے سیمنز کمپنی پر کیس کر ڈالا جبکہ اس دوران سیمنز کمپنی نے ڈاکٹر اقبال رضا کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے عوض کیس واپس لینے کو کہا اور درخواست کی کہ یہ سب سافٹ ویئر آپ کا ہی ہے ،لہذا ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر جو آپ کے کیس کے اخراجات کی مد میں ہیں، لے لیں اور کیس واپس کرلیں، سیمنز کمپنی کی درخواست پر ڈاکٹر اقبال رضا نے ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر وصول کرلئے اور مقدمہ واپس لیا .

ڈاکٹر اقبال رضا کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مکارانہ چال تھی، جس میں آگیا اور اس کے چند ہفتوں بعد سیمنز کمپنی نے کمال مکاری سے ہاسٹپل ڈویلپمنٹ سافٹ ویئر ایک دوسری کمپنی سرنرکو ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر میں فروخت کردیا جبکہ یہ سافٹ ویئر کی دنیا میں ایک بہت بڑی ڈیل ھی جو کہ منٹوں میں طشت ازبام ہوگئی جبکہ ڈاکٹر اقبال رضا ایک دفعہ پھر عدالت‘ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور پراپرٹی رائٹس میں اپنا مقدمہ لے کر پہنچ گئے ہیں .

اس حوالے سے سیمنز کمپنی نے ایک مرتبہ پھر عدالت میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ سافٹ ویئر ہم نے خود بنایا ہے جبکہ ڈاکٹر اقبال رضا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ،لیکن ایک ہی سوال میں ان کا جھوٹ سامنے آگیا جب عدالت نے پوچھا کہ چلیں آپ سافٹ ویئر کی ریسرچ پیش کردیں تو ہم جان لیں گے یہ سافٹ ویئر سیمنز کمپنی کی ملکیت ہے لیکن تاحال سیمنز کمپنی اپنی ریسرچ عدالت میں پیش کرنے سے قطعی طو رپر قاصر رہی ہے،

ایف آئی اے میں بھی معاملے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ابھی تک سیمنز اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ٹھوس دلیل یا ثبوت دینے سے عاری ہے ،جبکہ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے اس حوالے سے سیمنز ہیلتھ کیئر کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد کے نمبرز پر بار بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں موصول نہیں ہوا ہے ،

معلوم رہے کہ دنیا بھر میں فائیو اسٹار اسپتالوں کے مالکان ہاتھوں ہاتھ اس سافٹ ویئر کو لیں گے کیوں کہ اس وقت دنیا بھر میں اس جیسا سافٹ ویئر تخلیق نہیں ہوا ہے ،اس سافٹ ویئر میں ایک چھوٹے سے چھوٹے اوربڑے سے بڑے آلے ،دو ا اور اس کے اجزاتک سیکنڈ میں سامنے کی صلاحیت ہے اور اسپتال کے کس حصے میں کس مرض کا علاج کرنے میں بہتری اور کہاں کون سی مشینیں رکھنی ہیں یہ سافٹ ویئر خود تیار کرتا ہے ،دنیا بھر کی بڑی سے بڑی اسٹینڈرڈ کی اسپتالوں کا ڈیٹا اس میں محفوظ ہو سکتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *