ڈی جی FIA بشیر میمن کا سابق ڈائریکٹر FIA کے خلاف مقدمے کا حکم ،زونل ڈائریکٹر کا انکار

رپورٹ : شہزاد ملک

ایف آئی اے زونل ڈائریکٹر نے ڈی جی ایف آئی اے کے حکم کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی ، ڈائریکٹر جنرل نے نئے تعینات ہونے والے زونل ڈائریکٹر کو عدالتی حکم امتناع سے لا علم رکھ کر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ،سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے انعام غی نے جانبدارنہ انکوائری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناع لے رکھا ہے جس کی وجہ سے زونل ڈائریکٹر نے مقدمہ درج نہیں کیا ہے ۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے انعام غنی پر ایف آئی آر درج کرنے کے لیئےزونل ڈائریکٹر فخر سلطان کو حکم دیاتاہم زونل ڈائریکٹر ایف آئی اے فخر سلطان نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشراممنح کو صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انعام غنی اور دوسرے آفسریز کے خلاف معاملہ عدالت مںئ ہونے کی وجہ سے مقدمہ درج نہںٹ کر سکتا کیونکہ اس وقت انعام غنی اور ساتھووں پر ایف آئی آر دینا قانونی معاملات کو پیچد ہ اور خراب کرنے کے مترادف ہو گا .

کیونکہ انعام غنی ان کے ساتھیوں کے حوالے سے جو انکوائری کی گئی ہے ،اس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا جس پر انہیں حکم امتناع دیا گیا ہے . لہذا جب تک حکم امتناع ختم نہں ہو جاتا، ایف آئی آر نہں دی جا سکتی۔ سیئئر اور معتبر ذرائع کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو ان معاملات کا بخوبی علم تھا، لیکن انہوں نے حکم امتناع ہونے کے باوجود حال ہی میں تعینات ہونے والے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر فخر سلطان کو ایف آئی آر کے لئے فائل اس لئے بھیجوائی کہ فخرسلطان ابھی نئے ہیں اور انہں ابھی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی قانونی اور تفتیشی معاملات کا علم نہں ہے ،لہذا بشیر میمن نےجلدی میں فائل اپنے آرڈر کی ساتھ ایف آئی آر کے لئے زون آفس بھیجوا دی کہ ایف آئی آر دے دی جائے،

لیکن فخر سلطان نے جب فائل کو مکمل سٹڈی کیا تو پتہ چلا کہ ایف آئی آر کی لئے آنے والی فائل انکوائری پر اسلام آباد ہائکویرٹ میں باقائدہ طور پر سٹے چل رہا ہے ، جس میں واضع طور پر لکھا ہے کہ جب تک عدالت کا موجودہ سٹے برقرار ہے، مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ، لہذا فخرسلطان نے اپنے باس ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو واپس لکھا کہ معاملہ عدالت میں ہیں لہذا عدالت سے جب تک حکم امتناع خارج نہیں ہو جاتا ایف آئی آر نہیں دی جا سکتی ۔

واضع رہے کہ انعام غنی اور ان کی ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر کاغذات کے افغانیوں کو انگلینڈ پہنچایا تھا جبکہ اس کیس کی انکوائری بد نام زمانہ آفیسر اور موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم کیپٹن شعیب نے کی تھی جبکہ کیپٹن شعیب نے ایک ہی رات مںر انکوائری مکمل کی اور رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بھیجوائی، حیرت کی بات یہ ہے کہ رپورٹ پہلے ہی دن مکمل کر کے ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجوا دی گئی جبکہ انعام غنی اور ساتھیوں کو بعد میں نوٹسز جاری کر کے انکوائری میں شامل ہونے کا کہا گیا تھا .

جبکہ آخری سماعت میں معزز عدالت نے بھی ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے علی شیر جاکھرانی کو پوچھا کہ آپ کے کیسں اور انکوائری رپورٹ مں مکمل جانبداری نظر آ رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انکوائری مکمل اگست میں ہو رہی ہے جبکہ انکوائری میں شامل ہونے کے لیئے انعام غنی کو نوٹس نومبر میں دیاجا رہا ہے یہ کیسی انکوائری ہے ، یہ کیسی تحقیقات ہیں ؟ جو کہ کیپٹن شعیب نے کی ہیں اس میں آپ نے اور کیپٹن شعیب نے مکمل جانبداری برتی ہے ،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے علی شی جاکھرانی کو کہا کہ میں نے پوری فائل پڑھی ہے ، اس انکوائری میں مجھے انتقام اور بدلے کی بو آ رہی ہے ، مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ کس کے کہنے پر انعام غنی کے خلاف ایف آئی آر دینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے جواب میں ڈائریکٹر لا ایف آئی اے علی شیر جاکھرانی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈائریکٹر اسلام آباد زون فخر سلطان نے ڈی جی آیف آئی اے کو خط کی ذریعے بتا دیا کہ اس وقت یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے ہوتے ہوئے انعام غنی کے اوپر مقدمہ درج کرنا تو ہین عدالت ہو گا لہذا جب تک آرڈر موجود ہے بطور زونل ڈائریکٹر اسلام آباد ایف آئی آر نہں دے سکتا .

اس حوالے سے سینئر ذرائع ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ انعام غنی کی حوالے سے پچھلے زونل ڈائریکٹر شکیل درانی کے اوپر بھی ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے دباؤ ڈالا تھا لیکن انہوں نے بشیر میمن کو جواب دے دیا تھا کہ فرمائشی ایف آئی آر نہں دی جا سکتی جبکہ آپ اسی کو ایف آئی آر درج کرنے کا کہیں جس نے کیس کی انکوائری کی تھی۔اس حوالے سے بات کرنے کے لئے علی شیر جاکھرانی سے بار بار بات کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *