وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ساہیوال واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکار زیرحراست

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر پولیس نے ساہیوال میں مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ساہیوال کے مشکوک مقابلے میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا جس کے بعد پولیس نے ان اہلکاروں کو تحویل میں لے لیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انتظامیہ کو واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو مشکوک مقابلے میں ہلاک افراد کے لواحقین سے مذاکرات کریں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نے بیان میں کہا کہ ‘وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کرکے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پرساہیوال پہنچیں اور حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ اس کے مطابق کارروائی کی جائے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر سی ٹی ڈی کا موقف درست نہیں ہوا تو قانون کے مطابق انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا اور اگر ان کا موقف درست ہوا تو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے گا’۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم کے حکم پر فوری طور پر ساہیوال کی طرف روانہ ہوگئے اور واقعے کی تحقیقات کی نگرانی بھی وہ خود کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال میں ٹیچنگ ہسپتال پہنچے اور زخمی بچوں کی عیادت کی۔آئی پنجاب کے ہمرا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اے آئی جی پولیس جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کا قصور ثابت ہوا تو عام مجرموں کی طرح سزا دیں گے اور قیام امن سے متعلق اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، میرا وعدہ ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے بعد انصاف فراہم کریں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ زخمی بچوں کی کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے اور سرکار انتظام کرے گی۔

پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) پولیس سید اعجاز حسین شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔جے آئی ٹی کے دیگر دو اراکین میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے شامل ہیں۔

جے آئی ٹی 3 روز میں تفتیشی رپورٹ محکمہ داخلہ میں جمع کرادے گی۔خیال رہے کہ ساہیوال کے قریب ٹول پلازہ میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بارے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دہشت گرد تھے جبکہ زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہوگیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں جبکہ پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔فائرنگ کے دوران کار میں موجود بچے بھی زخمی ہوئے جنہوں نے ہسپتال میں بیان میں کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جارہا تھا کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔

بچے کا کہنا تھا کہ کار میں مارے جانے والے افراد میں ان کے والدین، بڑی بہن اور والد کے دوست تھے۔ان کا کہنا تھا کہ والد کا نام خلیل احمد تھا اور وہ گاڑی چلا رہے تھے، جنہوں نے فائرنگ سے قبل اہلکاروں سے درخواست کی تھی کہ ہم سے پیسے لے لو لیکن فائرنگ نہیں کرو لیکن اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *