کراچی میں عالمی کتب میلہ شروع ہو گیا ،پہلے ہی روز رش بڑھ گیا .

ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں عالمی کتب میلا تازہ ہوا کا جھونکا ہے ،آج کتابوں سے دوری پیدا ہوگئی ہے حالانکہ کتاب سے اچھا کوئی دوست نہیں ،کتب میلے کی طرز پر سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی کتابوں کی نمائش ہونی چاہئے ،ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی کتب میلے کا آغاز ،صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار نے افتتاح کیا.

کراچی ایکسپو سینٹر میں چودہواں کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2018ء کاباقائدہ آغاز ہو گیا ،صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے جمعہ کے روز کتب میلے کا باقائدہ افتتاح کیا ،گورنر سندھ عمران اسماعیل اور متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینئر عامر خان اور ایم کیوایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن سمیت مختلف علمی و ادبی شخصیات نے نمائش کا دورہ کیا اور کتابوں میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ۔

پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت منعقد کیا جانیوالا پانچ روزہ چودہوا ں سالانہ کر اچی بین الاقوا می کتب میلے کا افتتا ح وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کیا ۔افتتاحی تقریب میں کنوینر کے آئی بی ایف اویس مرزاجمیل ، پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد، ڈپٹی کنوینر وقار متین خان، ندیم مظہر، ایم اقبال غازیانی، اقبال صالح محمد، ندیم اختر، کامران نورانی، سلیم عبدالحسین اور سید ناصر حسین،معروف ادبی علمی شخصیات ،سیاسی ،مذہبی اور سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت لگائی جانیوالی بک فیئر25 دسمبر 2018 تک جاری رہے گی ۔نمائش کا افتتاح دوپہر کو ہونا تھا مگر جمعہ کی صبح سے ہی ایکسپو سینٹر کے باہر طلبا و طالبات ،والدین اور شہریوں کا بے پناہ رش لگ گیا جس کی وجہ سے نمائش کووقت سے قبل ہی عوام کیلئے کھول دیا گیا ۔والدین اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے اپنی پسند کے پبلشرز سے ڈسکاؤنٹ قیمت پر کتابیں خریدیں اور نمائش کے انعقاد کو سراہا ۔

عالمی کتب میلے کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں یہ عالمی کتب تازہ ہوا کا جھونکا ہے ، ہمار نئی نسل کتابوں سے دور ہوتی جارہی ہے، اردو کا استعمال ہمارے لئے باعث فخر ہونا چائیے مگر ہمیں ہرزبان کو فروغ دینے کی ضروت ہے ۔گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ یہاں ہر قسم کی کتابیں موجود ہیںیہاں اردو ادب کو بہت فروغ کیا جارہا ہے اردو زبان ہمارے لئے باعث فخر ہونا چائیے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہمیشہ کتاب سے پڑھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ کتاب کی الگ اہمیت ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کیلئے ایک بڑی رقم مختص کی گئی ہے کراچی میں چار پروجیکٹ کرنے جا رہے ہیں ۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینیئر عامر خان کاکہناتھا کہ یسے حالات میں جب ہر طرف مایوسی پھیلی ہوئی ہو کراچی بین الاقوامی کتب میلے کا انعقاد خوش آئند ہے۔ جو لوگ کتابوں کا شوق و ذوق رکھتے ہیں اور کتابوں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں یہ نمائش امید کیلئے ایک کرن ہے جب تک اس طرح کی نمائش ہوتی رہے گی کراچی کی روشنی برقرار رہے گی۔ کراچی جو علم و ادب کاشہر ہے اس طرح کے ایونٹ ہوتے رہنے چاہیے۔ آج کتابوں سے دوری پیدا ہوگئی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ کتاب سے اچھا کوئی دوست نہیں ہے

ایم کیوایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ عالمی کتب میلے کی طرز پر سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی کتابوں کی نمائش ہونی چاہئے ۔ حکومت سندھ موبائل لائبریریوں کو فروغ دے کتابوں سے دلچسپی بڑھا سکتی ہے ایم کیو ایم کتاب دوستی پر یقین رکھتی ہے۔ اس شہر کوعلم و آگاہی کی ضرورت ہے ۔خواجہ اظہار الحسن نے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس نمائش میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوں اور اس موقع سے استفادہ کریں ۔ علم کا ذوق و شوق رکھنے والوں کے لیے ہر طرح کی کتب موجود ہے۔ یہ بک فیئر کراچی کیلئے لازم و ملزوم ہے۔ کراچی میں کتابوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اس پر ہمیں فخر ہے

علاوہ ازیں نمائش کے پہلے دن آئے ہوئے ادیب ، شاعر، سماجی اور سیاسی شخصیات نے اس کتب میلہ کو کراچی شہر کے لیے خوش اائند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائش کراچی کے امیج کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ کتب میلہ میں اسکولوں کے بچوں نے اپنی پسند کی کتب خریدیں۔میلہ میں اردو، سندھی ، فارسی، پنجابی ، گجراتی سمیت ملک بھر میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ انگریزی اور دیگر زبانوں کی کتابوں اور رسائل میں عوامی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔کتب میلے میں تمام پبلشرز کے اسٹالوں پر طلبہ و طالبات اور والدین کا رش دیکھنے میں آیا.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *