جامعہ اردو میں ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں کا معاملہ مشکوک ہو گیا

وفاقی اردو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اور ایم فل ؍ ایم ایس کے داخلوں میں طلبہ و طالبات کی اکثریت ناکام ہونے سے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اور ایم فل سطح ہونے والے تعلیم میں اس سال بحرانی صورت حال کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے نتائج کے مطابق مجموعی طور پر صرف ۳۷ فیصد طالب علم کامیاب ہو سکے ہیں جبکہ ۵۷ فیصد طالب علم داخلہ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہو گئے۔

ایم فل ؍ ایم ایس کےداخلوں میں ۵۷ فیصد طالب علم ناکام ہو گئے جبکہ صرف ۳۳ فیصد کامیاب ہو سکے۔ شعبہ ابلاغ عامہ میں ۴۶، مائیکرو بائیولوجی میں ۲۸، کیمیسٹری میں ۵۴، اینوائرمنٹ سائنس میں ۱۲، کمپیوٹر سائنس میں۲۸، فزکس میں ۴۴، بائیو کمسٹری میں ۶، زولوجی میں ۱۰، بین الاقوامی تعلقات میں ۴۶، اردو میں ۲۵، بوٹنی میں ۹، میتھمیٹکس سائنس میں ۱۳، عربی میں ۴ اور سندھی میں ایک طال علم ناکام ہوا۔

شعبہ ابلاغ عامہ کے پی ایچ ڈی پروگرام میں صرف 3، کمپیوٹر سائنس میں2، فزکس میں6، بین الاقوامی تعلقات میں5، اردو، بوٹنی میں صرف ایک، ایک طالب علم کامیاب ہوسکا ہے جبکہ کیمسٹری، فزکس اورمیتھمیٹکس میں کوئی بھی طالب علم پاس نہیں ہوسکا۔مجموعی طور پر پی ایچ ڈی میں42 فیصد طالب علم داخلہ ٹیسٹ میں ناکام ہو گئے۔

داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کرنے والے بیشتر طالب علموں نے داخلہ ٹیسٹ کے لیے تیار کئے گئے پرچوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ داخلہ ٹیسٹ کے بعد طالب علموں کو ان کی کاپی فراہم نہیں کی گئی اورنہ امتحان کے آخر میں درست جواب فراہم کئے گئے جس سے ایم سی کیوز امتحان کے شفاف ہونے پر کڑے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ دیگر یونیورسٹیوں کے داخلہ ٹیسٹ کے بعد طالب علموں کو ان کے جوابات کی ایک کاپی اور درست جواب فراہم کئے جاتے ہیں جس سے طالب علم اپنا اسکور خود ہی معلوم کرسکتے ہیں۔ لیکن اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے امتحان کے سارے عمل کو خفیہ رکھا جس سے امتحان کا غیر شفاف ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔

اردو یونیورسٹی کے داخلہ امتحان میں10 نمبر انگریزی،10 نمبر جنرل سائنس ،10 نمبر معلومات عامہ اور 70 نمبر موضوعاتی سوالات پر مشتمل تھا۔ طالب علموں کا کہنا ہے کہ70 فیصد حصہ میں بیشتر سوالات کا تعلق بیرون ملک موجود سہولیات، اداروں کے نام اور غیرمعیاری اور غیر تصدیق شدہ معلومات پر مبنی تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انٹر نیٹ پر موجود غیر معروف ویب سائٹس سے سے حاصل کی گئی معلومات کو امتحان میں شامل کیا گیا۔

ظاہر ہے ایسی صورت حال میں خود اردو یونیورسٹی کے طالب علموں کی بڑی تعداد داخلہ ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہو سکی۔ایم سی کیوز کے ماہرین اساتذہ کا کہنا ہے کہ داخلہ ٹیسٹ کے شفاف ہونے کے لیے ضروی ہے کہ درست جوابات اور طالب علموں کی جانب سے فراہم کئے گئے جواب ، ٹیسٹ کے آخر میں طالب علموں کے دئے جائیں۔ داخلہ ٹیسٹ کو شفاف بنانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یونیورسٹی ٹیسٹ کےآخر میں امتحانی پرچہ ، درست جوابات کے ساتھ جاری کرے اورفیل ہونے والے طالب علموں کی اپنی کاپی کی دوبارہ جانچ کا موقع فراہم کیا جائے۔

طالب علموں کی بڑی تعداد نے داخلہ ٹیسٹ کو کینسل کرکے ، نئے سرے سے شفاف داخلہ ٹیسٹ منعقد کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔جب کہ بعض طلبہ و طالبات نے قانونی چارہ جوئی کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *