ختم نبوت کے حوالے سے ہماری تقریر ‛ تحریر تضحیک آمیز نہیں ہونی چاہئیے ۔مولانا ڈاکٹر اسحاق عالم

جامعہ علیمیہ نارتھ ناظم آباد میں ختم نبوت کے عنوان سے سیمنار ہوا۔
جس میں میری جتنی گفتگو تھی اس کا خلاصہ درج ذیل تین باتیں تھیں۔

1) ہمیں سوچنا چاہیے کہ ختم نبوت اور قادیانیت کے ایشو کو جب اٹھایا جاتا ہے، کیا اس کا مقصد ہماری عوام کی ذہنیت کو منتشر کرنا تو نہیں؟ کیونکہ برصغیر میں مسلمانوں کی آزادی کی فکر کو منتشر کرنے کے لئے یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔

2) اس مسئلہ پر ہماری تحریرات اور تقاریر کا اسلوب تضحیک و تحقیر کا نہیں ہونا چاہیے۔ بیسویں صدی کے اہل قلم کو دیکھا جائے تو اس موضوع پر ان کی تحریرات کا اسلوب فکری علمی اور دعوتی رہا ہے، جس کے لئے احتساب قادیانیت کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں مختلف اہل علم کی تحریرات موجود ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا تھا جبکہ سیدنا موسی و ھارون علیہما السلام کے سامنے خدائی کا دعویدار فرعون موجود تھا لیکن اللہ سبحانہ وتعالی کا حکم اس کے سامنے "قولا لینا” یعنی نرمی سے بات کرنے کا تھا اور اس کا اثر بھی اللہ پاک نے خودہی بتلا دیا کہ تاکہ اسے نصیحت ہو۔ اس سلسلے میں ہمارا اسلوب وہی ہونا چاہیے جو انبیاء علیہم السلام کا رہا ہے۔

3) ہم قادیانیت کے مسئلہ میں مدعیین نبوت میں سے مسلسل مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جیسوں کا ذکر کرتے ہیں جن کی موت ہی ارتداد پر ہوئی، ہمیں اس حوالے سے طلیحہ بن خویلد اسدی اور ثجاح بنت حارث جیسوں کا ذکر بھی کرنا چاہیے جو بعد میں دوبارہ سے اسلام کی طرف لوٹ آئے تھے، اس تذکرہ سے شاید دعوت کا کام ہوسکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *