گلالئی اسماعیل کی گرفتاری

تحریر : فرنود عالم

خان عبدالغفار خان حضرت باچا خان کانگریس کے پہلے جلسے میں کراچی پہنچے تھے۔ ایک بڑے قافلے کے ساتھ وہ اس طرح نشتر پارک میں داخل ہورہے تھے کہ سرخ پوش خدائی خدمت گارڈھول کی تھاپ پر دھواں دھول اتنڑ کیے جاتے تھے۔ سامنے اسٹیج پر مہاتما گاندھی مولانا آزاد اور مولانا مدنی احتراما کھڑے ہوگئے۔ کھڑے رہے جب تک کہ باچا خان اسٹیج تک پہنچ نہیں گئے۔

لوگ خدائی خدمات گاروں کے متعلق سنا کرتے تھے، مگر آج بچشمِ سر دیکھ بھی رہے تھے۔ ہر نگاہ کھدر پوشوں کے سحر میں تھی، مگر باچا خان ایک اور منظر میں محو تھے۔ اس منظر میں کانگریس کی رضا کار خواتین کی ایک بڑی تعداد تھی جو دروازے سے اسٹیج تک پورے پنڈال کا نظم سنبھالے ہوئے تھی۔

نشتر پارک میں باچا خان نے کراچی کے مقامی پختونوں کو ایک طرف جمع کیا اور ان سے کچھ دیر پشتو میں گفتگو کی۔

"یہ دیکھ رہے ہو؟ یہ ہوتی ہے کامیاب قومیں، جو اپنی بیٹیوں اور بہنوں پر اعتماد کرتی ہیں۔ ایک تم ہو، خواتین کو ایک ہی کام سونپ رکھا ہے کہ وہ تمہاری ذاتی حاجتیں پوری کریں۔ جب تک خواتین کی صلاحیتیں زندگی کی عملی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گیں، کامیابی کیسے ملے گی۔؟”

آج اگر بابا زندہ ہوتے اور نہتی گلالئی اسماعیل کو بندوقچیوں کی حراست میں دیکھتے تو بہت فخر محسوس کرتے!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *