قادیانیت کی شرانگیزی سے آگاہی ضروری کیوں ؟

تحریر: مولانا کلیم اللہ نعمان

نامعلوم افراد نے مجھے کہا کہ گاڑی سائیڈ پہ لگاؤ ۔آپ نے قادیانیوں کیخلاف نعرے لگائے ہیں ؟ جمعہ کی نماز میں تاخیر کے سبب مجھے یہ بھاری سوالات معمولی نوعیت کے لگے جس کی وجہ سے میں نے سنی ان سنی کر دی ۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی 7 ستمبر کو یوم فتح منایا گیا ۔ نئی نسل تک پیغام رسانی کیلئے ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت ریلی کا اہتمام کیا گیا ۔ جو کہ ملک پاکستان کے ہر صوبہ اور شہر میں عاشقان مصطفی نے خوب جوش و جذبے کیساتھ شرکت کی ۔ ان ریلیوں کی تیاری میں 6 ستمبر کو پورے شہر کراچی میں 7 ستمبر 1974 کا فیصلے کا عکس پینا فلکس کی صورت ٹرکوں میں نمایاں کیا گیا اور ایک ایک ٹرک ہر ضلعی ذمہ دار کی نگرانی گھمایا گیا ۔ تاکہ عوام کو خوب آگاہی اور اس ریلی کی خوب تشہیر بھی ہو ۔ شہر بھر میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے رہے ۔ میری ذمہ داری ضلع جنوبی کے ٹرک میں تھی ۔جہاں میں خود اعلان بھی کررہا تھا ۔ لیاری, ٹاور,گارڈن, طارق روڈ, پٹیل پاڑہ, جیل چورنگی, صدر,جنگ پریس, لیمارکیٹ سمیت دیگر مقامات پر رات 10 بجے تک ہم ریلی کا اعلان کرتے رہے ۔

 

جہاں گزرتے عوام و خواص قانون نافذ کرنے والے ادارے سب ہاتھ بلند کرتے اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں میں خوب محبت جذبہ ایمانی دیکھاتے ۔مگر ہوا یوں کہ ہم جمعہ کی صبح 11 بجے ٹرک لیکر نکلے کہ پاکستان چوک کے ایریا کا چکر مکمل کیا جائے اور وہاں کے احباب کا اصرار بھی تھا تاکہ علاقہ میں حضور کے سپاہیوں کا معلوم ہو وہاں کے احباب مفتی محمد پراچہ کی معیت میں انتظار کر رہے تھے ۔ہم براستہ موبائل مارکیٹ ہوتے ہوئے پہنچے اور واپسی پولوگراؤنڈ سے نکلتے ہوئے زینب مارکیٹ آئے تاکہ 1 بجے نماز جمعہ پڑھ کر ترتیب کیمطابق 2 بجکر 30منٹ تک بنوری ٹاؤن پہنچ جائیں ۔ وہاں سے مرکزی ریلی لیکر دفتر ختم نبوت ہوتے ہوئے کراچی پریس کلب جاسکیں ۔ ابھی اسی واپسی کے دوران 12 بجکر 50 منٹ پر ہمارے ٹرک کیساتھ موٹر سائیکل 125 آکر رکی اور مجھے آواز دیکر کہا گیا کہ گاڑی سائیڈ پہ لگاؤ ۔ وائرلیس دکھاتے ہوئے ٹرک روکنے کا اشارہ کیا گیا۔ ٹرک رک گیا ۔ ٹرک میں مفتی محمد پراچہ سمیت 5 افراد جبکہ 5 موٹرسائیکل پر 10 سوار افراد جو ختم نبوت کے اراکین تھے ۔جن کو بیج بھی لگے ہوئے تھے ۔سب کے سب رکے ۔نامعلوم اہلکاروں نے اجازت نامہ طلب کیا ۔ہڈ نے کہا وہ کاغذات دفتر میں موجود ہیں ۔ساتھ رکھنے کی پابندی سے لاعلم رہے ورنہ ساتھ رکھتے ۔لہذا ہم پارکنگ پلازہ سے کافی آگے لائنزایریا میں موجود ہیں ۔ 3 منٹ میں یہاں سے دفتر پہنچ جائینگے ۔ چلیں ساتھ چلیں تاکہ قانونی دستاویزات آپ کو دیکھا دیں ۔یہ کہنے کے بعد میں نے مذید کہا کہ نماز بھی پڑھ لیں گے چونکہ صرف 10 منٹ مذید ہمارے پاس ہیں۔ مذید تاخیر کی صورت میں ہماری نماز و پروگرام خراب ہونے کے خدشات ہیں ۔انہوں نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور کہا یہیں رکئیے آفیسر پہنچنے والے ہیں ۔

 

خیر اس دوران 1 بج گیا اورنماز کا پہلا وقت جاتا رہا ۔ ہوٹر بجنے کا خوب شور ہوا پلٹ کر دیکھا تو رینجرز پائیلٹ موبائل اور پولیس موبائل اور دیگر سول فورس وغیرہ نے چاروں طرف سے مجھے گھیر لیا تھا ۔اور ٹرک اپنی تحویل میں لیتے ہوئے مجھے پولیس موبائل میں سوار ہونے کو کہا گیا ۔آرٹلری میدان تھانے کے ایس ایچ او سلمان وحید اگلی سیٹ میں ساتھ بیٹھا کر تھانے لے آئے اب وہ مجھ سے اور میں ان سے پوچھ رہے تھے کہ مسئلہ کیا ہے ؟ ۔ کچھ وقت بعد معلوم ہوا جو کہ اسی رینجرز والے نے بتایا کہ آپ کا ٹرک وزیراعلی ہاؤس کے قریب سے گزرا تو ہمیں اسلام آباد سے حکم ہوا کہ پیچھا کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ قادیانیوں کو کیوں گالی دی جاری ہے ۔ میں نے جواب دیا کہ گالی تو کسی نے نہیں دی البتہ اگر ختم نبوت زندہ باد کے نعروں کو کوئی گالی سمجھے تو پوری دنیا یہ نعرہ لگاتی ہے اور ملک پاکستان کے 1974 کا فیصلہ بھی اسی نعروں کی اجازت دیتے ہوئے فضا اسی نعروں سے گونجنے کی امانت سپرد کرتا ہے ۔ افسوس اس وقت ہوا جب ان حضرات نے یہ پوچھا کہ 74 کا کیا فیصلہ اور کس لیئے ہوا ؟

یہ الفاظ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے ہیں ۔ جو ہمیں جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں ۔اب سوچا یا اللہ ملک پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کم علمی کا یہ حال ۔ ۔ ۔ !

بہر حال ناظم کراچی رانا انور نے قادیانیوں کے کچھ عقیدے اور ایمان سے دھوکہ دہی کی باتیں گوش گزار کیں۔ افسران نے کانون کو ہاتھ لگایا اُدھر نماز جمعہ کا وقت ختم ہوا اور اِدھر ریلیاں روانہ ہو گئیں ۔ جبکہ مرکزی ٹرک تھانے میں بند تھا ۔ اسی حال کی اطلاع مرکز کو دی گئی ۔ ریلی کے ذمہ داران کو مولانا عمر صادق جمعیت علمائے اسلام نے کہا ہماری ریلی کا رخ پریس کلب کے بجائے آرٹلری تھانہ ہو گیا ہے اور جمعیت کے حافظ نعیم نے کمشنر کراچی اور دیگر سے خوب روابط کیئے ۔ رانا انور اور انوارلحسن نے مذید اعلی سطح میں بات کی تب جاکر کوئ اثر نظر آیا مگر پھر بھی کہا گیا کہ 3 بجے تک رہائی دیں گے ۔مرکزی جلوس جب بنوری ٹاؤن سے نمائش پہنچا تو ریلی انتظامیہ نے دھرنے کا اعلان کر دیا ۔جس وجہ سے ان اداروں میں خوب کھلبلی مچی ۔ اور یوں 3 بج کر 30 منٹ پر ہمیں رہائی دی گئی ۔

ہمیں اس روز سبق ملا کہ جس اسلامی ملک میں 1974 کو منظور ہونے والے قادیانیت ایکٹ پہ آج بھی قادیانیوں کی صفوں میں ماتم کی فضا ہے اس قانون سے میرے مسلمان بھائی کس قدر غافل ہیں ۔ فیا للعجب ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *