آشفتہ سری کا علاج۔۔۔۔۔!

تحریر: ضیا الرحمن چترالی

سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مشہور مبلغ شیخ سلمان عودہ کو حراست میں لئے آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ شیخ عودہ کے بعد گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ گزشتہ ماہ امام حرم شیخ صالح کو حق گوئی کی پاداش میں پسِ زندان دھکیلا گیا۔ شنید ہے اب ان پر داعش کیلئے فنڈنگ کا الزام دھرا جا رہا ہے۔ شیخ عودہ کا شمار عالم اسلام کی بڑی علمی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے 62 کتابیں تصنیف کی ہیں۔ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز دوحہ قطر کے نائب صدر اور یورپی افتاء کونسل کے مؤقر رکن ہیں، اس لئے پوری دنیا میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شیخ سلمان عودہ کے بعد ان کے بھائی خالد عودہ کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

قبل ازیں شیخ عوض القرنی جو لگ بھگ 16 کتابوں کے مصنف ہیں ان کو ایک ٹوئیٹ پر ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہوئی تھی، پھر انہیں بھی لاپتہ کر دیا گیا۔ مکہ مکرمہ کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے استاذ اور ممتاز و بزرگ عالم دین شیخ ناصر العمر بھی گرفتار ہیں۔ شیخ 8 بڑی کتب کے علاوہ درجنوں رسالوں کے مصنف ہیں۔ محض ایک ٹوئٹ کی وجہ سے گزشتہ برس اکتوبر میں ان پر سفر کی پابندی عائد کی گئی تھی ۔

الجزیرہ کے مطابق مذکورہ ٹوئٹ میں کسی قسم کی کوئی متنازعہ یا سیاسی بات نہیں تھی ۔ گرفتار شدگان میں عالم اسلام کے معروف قاری شیخ ادریس ابکر بھی شامل ہیں، جو اپنی رقت آمیز تلاوت سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ علاوہ ازیں شیخ سفر الحوالی، شیخ احمد العماری (سابق استاذ مدینہ یونیورسٹی) سمیت ساڑھے 3 سو علما کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جن میں 16 صرف جامعہ امام محمد کے اساتذہ ہیں۔

حراست میں لیے جانے والے افراد میں علما، صحافی، مفکر، ڈاکٹر، پروفیسر، اسکالر، ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں۔ جن میں ڈاکٹر خالد العجمی، پروفیسر عبد اللطیف، ڈاکٹر عمر علی، ڈاکٹر عادل بانعمہ، محمد الهبدان، ڈاکٹر عبد المحسن، غرم البيشي، محمد عبد العزيز الخضيري، وإبراہيم الحارثي، وحسن إبراہيم المالكي قابل ذکر ہیں۔ جبکہ مشہور بزنس مین عصام الزامل بھی گرفتار ہیں۔ ان تمام افراد کو قطر کے حوالے سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے موقف کی حمایت نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

اب چند روز سے خبر گرم ہے کہ شیخ سلمان عودہ کو سزائے موت دیئے جانے کا امکان ہے۔ انہیں خفیہ ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ سعودی عدالت میں حکومت کے وکیل نے انہیں تعزیراً سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ ان پر 37 مختلف سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے صاحبزادہ عبد اللہ العودة کے بقول شیخ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کیلئے کویت میں ’’النصرة‘‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔

شیخ عودہ کے بعد کل ڈاکٹر عوض القرني اور ڈاکٹر علي العمری کو بھی تعزیراً قتل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جس کا فیصلہ آئندہ کچھ روز میں عدالت کرے گی۔ جبکہ 2016 سے گرفتار مشہور عالم شیخ عبد العزیز الطریفی کی جیل میں حالت انتہائی تشویش ناک ہونے کے باعث وہ اسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ اسی طرح امریکی فوج کی سعودیہ میں موجودگی کے خلاف فتویٰ دینے والے مشہور بزرگ عالم دین شیخ سفر الحوالی کو بھی جیل سے اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

اطلاع ہے کہ دونوں علما کو علاج سے محروم رکھ کر دار البقا منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ لگتا ہے کہ دوران حراست سمجھانے بجھانے کا ان حضرات پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ظاہر ہے ایسے آشفتہ سروں کیلئے ایک ہی علاج کارگر ہوتا ہے۔ میر کے بقول:
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنی جُنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

دنیا سمجھتی ہے علم کا آساں ہونا ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ۔علم جس سینے میں آتا ہے وہاں سے خوف کا گزر تک نہیں ہوتا ۔جہاں خوف نہ آسکے وہاں سے ہی وقت کے سپر پاور کے خلاف فتوی دینے کی سکت ہوتی ہے ۔جو ان علمائے کرام کو ہی حاصل ہے ۔اللہ تعالی ان کو استقامت اور سعودی شاہوں کو ہدایت نصیب فرمائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *