تحریر : عبدالغفار راؤ
پاکستان میں صحافت پہلے ہی دباؤ، خوف اور غیر یقینی حالات کا شکار ہے، ایسے میں سینئر صحافی اسلم شاہ کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا قانون واقعی انصاف کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اسلم شاہ کی گرفتاری الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) کے تحت عمل میں لائی گئی، جس میں ان پر آن لائن ہتکِ عزت اور سائبر ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے، الزام یہ ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چند افراد کے خلاف ایسے بیانات دیے جو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے، شکایت کنندہ کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد فراہم کیے گئے، جس کی بنیاد پر ایف آئی آر درج ہوئی اور بعد ازاں گرفتاری عمل میں آئی۔
یہ بات اپنی جگہ کہ اگر کوئی صحافی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے تو وہ احتساب سے بالاتر نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا گرفتاری آخری آپشن نہیں ہونی چاہیے؟ کیا تفتیش ، وضاحت، یا قانونی نوٹس کے تمام راستے مکمل شفافیت سے اختیار کیے گئے؟ اور سب سے اہم سوال کہ کیا صحافتی کام اور عوامی معاملات پر تنقید کو ہتکِ عزت کے زمرے میں ڈالنا درست ہے؟
اسلم شاہ ماضی میں شہری اداروں، سرکاری بدانتظامی اور کرپشن جیسے حساس موضوعات پر لکھتے اور بولتے رہے ہیں، یہی وہ نکتہ ہے جو اس گرفتاری کو محض ایک قانونی کارروائی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے پریس فریڈم کے تناظر میں مشکوک بنا دیتا ہے۔
پیکا قانون ابتدا ہی سے متنازع رہا ہے، صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس قانون کی مبہم شقیں اکثر ناقدین کو خاموش کرانے ، صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور طاقتور طبقوں کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
جب ہتکِ عزت جیسے معاملات میں سول کارروائی ممکن ہو، تو فوجداری گرفتاری کیوں؟ یہی وہ سوال ہے جو صحافتی تنظیموں، پریس کلبز اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ آج اسلم شاہ گرفتار ہیں، کل کوئی اور ہو گا ۔ اگر صحافی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ سچ لکھنے یا سوال اٹھانے کی قیمت ہتھکڑی ہے، تو پھر آزاد صحافت محض ایک نعرہ رہ جائے گی۔ قانون اور صحافت کے درمیان واضح حد کھینچی جائے
اختلافِ رائے کو جرم نہ بنایا جائے اور احتساب کو انتقام سے الگ رکھا جائے کیونکہ خاموش صحافت، طاقتوروں کے لیے سہولت اور عوام کے لیے سزا بن جاتی ہے۔
