چترال میں آلو پر ظالمانہ ٹیکس کے خلاف عوام سڑکوں پر آگئی ۔

چترال (گل حماد فاروقی) میں تحصیل میونسپل انتطامیہ نے آلو کی آلو کی شہر سے باہر فروخت پر 160روپے فی بور ٹیکس عائد کردیا ہے ،ٹی ایم او کو اس سے قبل عدالت ٹیکس عائد کرنے سے روک چکی ہے ،ٹی ایم اے انتظامیہ نے 50لاکھ کا ٹینڈر جاری کرکے آلو کی بیرون شہر فروخت کا ٹھیکہ میونسپل کمشنر کے رشتہ دار کو دے دیا ہے ۔
چترال گرم چشمہ کے سینکڑوں عوام نے پولو گراؤنڈ میں تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) کے خلاف احتجاجی جلسہ کیا۔ جلسہ سے اظہارخیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ چترال کے تحصیل انتظامیہ نے آلوچترال سے باہر لے جانے پر ٹیکس عائد کیا ہے جو کہ نہایت ظالمانہ فیصلہ ہے،اور سراسر بے انصافی ہے۔مقررین نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ کا آلو کے فصل کے پیداوار میں کوئی کردار نہیں ہے اور نہ یہ ان کا کام ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دور درازسے ندی نالیاں بناتے ہیں اور پائپ کے ذریعے پانی لاکر اپنے فصل کو سیراب کرتے ہیں جبکہ ٹی ایم نے ان لوگوں کو ایک پائپ تک نہیں دیا مگر ان پر 160روپے فی بوری ٹیکس لگایا۔

عبد القیوم رکن ضلع کونسل چترال سمیت خدا پناہ، شیرین خان، گلاب خان، احتبار شاہ سمیت سمیت دیگر نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ پہلے ہمیں سڑک بنا کردے اس کے بعد ٹیکس لگائے ۔ انجنیئر فضل ربی نے اظہار حیال کرتےہوئے کہا کہ چترال ٹیکس فری زون ہے مگر انتظامیہ نے آلو کے برآمدگی پر
ٹیکس لگا کر زمینداروں کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ جب تک انتظامیہ یہ ٹیکس واپس نہیں لیا ہمارااحتجاج جاری رہے گا اس کیلئے ہم جیل بھروتحریک بھی چلانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں تحصیل ناظم اور میونسپل آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کا موقف بھی سامنے آئے تاہم کوشش بسیار کے باوجود ان سےرابطہ نہ ہوسکا۔

چترال سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان نے پشاور سے فون پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ 2012 میں بھی ٹی ایم اے آلو پر ٹیکس لگانے کی کوشش کررہی تھی جس کی بھر پور محالف کرتے ہوے اسے روک دیا گیا تھا اور دوبارہ جب ٹیکس لگایا گیا تھا تو یہاں کے عوام نے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے ٹی ایم اے کے حلاف فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ جو ٹیکس لیا گیا ہے اسے بھی واپس کیا جائے۔سلیم خان نے الزام لگایا کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ چترال نے پچاس لاکھ روپے کا ٹنڈہر کیا تھا اورجس کا ٹھیکہ تحصیل میونسپل آفیسر نےاپنے ایک رشتہ دار کو دیا ہے جبکہ فی بوری 160 روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے،مگر گرم چشمہ اور دیگر علاقوں سے جو آلو باہر جاتاہے اس حساب سے کم ازکم اس مد میں چار کروڑ روپے جمع ہوتے ہیں جس میں پچاس لاکھ میونسپل انتظامیہ لیں گے اور باقی ساڑھے 3کروڑ روپے ٹھیکدار کو فائدہ پہنچایا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ٹھیکدار کو فائدہ دینے کیلئے کیا گیا ہے۔سلیم خان نے کہا کہ ٹی ایم اے چترال زمینداروں کو کسی قسم کا سروس بھی نہیں دیتے اور محکمہ ذراعت کا بھی کوئی خدمات نہیں ہیں مگر اس کے باوجودبھی ان زمینداروں پر ٹیکس لگایا جاتاہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہکیا کہ فوری طور پر آلو کی برآمدگی پر عائد ٹیکس کو واپس لیا جائے کیونکہ یہ ٹیکس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے کیونکہ ٹی ایم اے زمینداروں کو کسی قسم کا بھی سروس فراہم نہیں کرتا اسلئے ان سے ٹیکس لینا بھی غیر اخلاقی ہے۔احتجاجی جلسہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انہوں نے حکومت کو48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکس کو واپس نہیں لیا گیا تو وہ بھوک ہڑتال اور پر تشدد احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔بعد میں یہ جلسہ پر امن طور پر امن طور پر منتشر ہو گیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *