کراچی : انجمن اساتذہ کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی میں امتحانات کے بائیکاٹ کو جاری رکھتے ہوئے انتظامی بلاک کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔اگر اساتذہ کے مطالبات کو منظور نہیں کیا گیا تو مطالبات کی منظوری تک امتحانات کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا ۔
15 جون 2026 بروز پیر انجمن اساتذہ عبدالحق و گلشن اقبال کیمپس کی جانب سے، اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں ہاؤس سیلنگ اور پینشن کے بقایاجات کی ادائیگی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے امتحانات کا بائیکاٹ جاری رکھتے ہوئے انتظامی بلاک کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ لحاظہ تمام اساتذہ و ملازمین صبح ساڑھے 10 بجے انتظامی عمارت کے سامنے اکٹھے ہو جائیں۔
8 جون تا 13 جون اساتذہ نے امتحانات کا مکمل بائیکاٹ اور احتجاج کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اساتذہ باشعور ہیں لہذا حقوق کے حصول کی جنگ جاری رکھتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔
اگرچہ کہ انتظامیہ مختلف خطوط سے اساتذہ کو ڈرانے اور امتحانات لینے کے لیے مجبور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی۔ انچارج کیمپس ڈینز و انچارج ڈینز کے ذریعے میسجز بھجوائے جا رہے ہیں۔ لیکن اساتذہ نے انتظامیہ کے ہتھکنڈوں کو مکمل طور پر ٹھکرا دیا ہے۔ لہٰذا انتظامیہ اساتذہ کو ہراساں کرنا بند کرے اور مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں ۔
احتجاج کے اگلے مرحلے میں امتحانات کے بائیکاٹ کو جاری رکھتے ہوئے۔ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنےکا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس لیے اردو یونیورسٹی کراچی کیمپسز کے تمام ملازمین اپنے حق کے لیے اواز بلند کرتے ہوئے انتظامی بلاک کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ اور ڈپٹی چیئر سینیٹ سے مطالبہ کریں گے کہ سینیٹ کا اجلاس فوری طلب کیا جائے تاکہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے احتساب کا عمل شروع ہو سکے ۔ اردو یونیورسٹی کے تمام ملازمین اس تاریخی دھرنے میں شرکت کر کے اپنی تنخواہ، ہاؤس سیلنگ اور پنشن کے لیے آواز بلند کریں
