پیر, فروری 16, 2026

کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل اسسٹنٹ کمشنر نے حل کر دیئے

پشاور : کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے وفد نے اسسٹنٹ کمشنر بحرین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ، جس میں ٹورازم سیکٹر کو درپیش چیلنجز اور سیاحوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی ۔

ہوٹلز ایسوسی ایشن کے وفد میں سہیل خان، نور الہدی شاہین، ریاض احمد، عالم کالامی، عمر ذادہ حمید سلمان اور نصر اللہ شامل تھے۔ اجلاس میں اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹھیکیدار کے نمائندے بھی موجود تھے ۔

ہوٹلز ایسوسی ایشن کے وفد نے برف باری کے دوران کالام مرکزی شاہراہ کی صفائی میں تاخیر اور ناقص کلیئرنس پر اپنے تحفظات پیش کیے ۔ جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے اس سلسلے میں ٹھیکیدار کو موقع پر ہی ہدایات جاری کر دیں ۔

ہوٹلز ایسوسی ایشن کے وفد نے کالام مال روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جس پر ٹریفک پولیس کے حکام کو آگاہ کیا گیا ۔ وادی کالام میں موبائل کمپنیوں کی ناقص سروسز سے متعلق بھی اسسٹنٹ کمشنر کی توجہ دلائی گئی ، جس پر انہوں نے متعلقہ کمپنیز کے نمائندوں کو ہوٹلز ایسوسی ایشن کے آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ۔

ہوٹلز ایسوسی ایشن کی جانب سے زیر غور سنو فیسٹیول سے متعلق اسسٹنٹ کمشنر کو آگاہ کیا گیا اور انہیں شرکت کی دعوت دی گئی ، جسے انہوں نے قبول کر لیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ سنو فیسٹیول کا مقصد وادی کالام کی فطری خوبصورتی اور رنگارنگ ثقافت کو اجاگر کرنا ہے ۔

اسسٹنٹ کمشنر بحرین نے ہوٹل ایسوسی ایشن کی درخواست پر مال روڈ اور تحصیل روڈ پر اسٹریٹ لائٹس فعال کرنے سے متعلق بھی احکامات جاری کیے ۔

ہوٹلز ایسوسی اور اسسٹنٹ کمشنر کے اتفاق سے آئندہ اجلاس منگل کو کالام میں بلائے کا فیصلہ ہوا ، جس میں مذکورہ بالا اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا ۔ بعد ازاں وفد تحصیل بحرین کے میئر نے وفد کو چائے کی دعوت دی ۔ اس موقع پر انہوں نے اسٹریٹ لائٹس کے لیے فنڈز مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں