’تین چیتوں کی بوریوں میں سمگلنگ ناکام‘

عالمی الرٹ : سعودی عرب کے سکیورٹی حکام نے تین چیتوں کی سمگلنگ ناکام بنا دی ہے۔ یمنی سمگلر ان چیتوں کو چاول کی بوریوں میں چھپا کر نا معلوم مقام پر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

جازان میں گشت پر مامور سیکورٹی ٹیم کو ان جانوروں کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب انھوں نے یمن کی سرحد کے قریب سمگلروں کو راستے میں روکا۔ ان چیتوں کو پٹ سن کی بنی ہوئی بوریوں میں چھپایا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ان چیتوں کو سعودی وائلڈ لائف اتھارٹی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے اور خصوصی ٹیموں نے انہیں نگہداشت سینٹرمیں منتقل کر دیا ہے.

سعودی وزارت برائے ماحولیات، پانی اور زراعت کے مشیر ڈاکٹر احمد البوق نے بتایا ہے ’یہ سمگل شدہ چیتے افریقہ سے لائے گئے تھے جہاں جنوبی افریقی نسل اور دیگر نسلوں کے چیتے پائے جاتے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن کا دستخط کنندہ ہے جو نایاب پودوں اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ایک کثیرالجہتی معاہدہ ہے اور تعاون کے معاہدے کی شرائط کے تحت چیتوں کی دیکھ بھال بھی کر رہا تھا۔

احمد البوق نے مزید کہا کہ اس نسل کے چیتے کئی قسم کے خطرات سے دوچار ہیں جبکہ دیگر کئی نسلیںایسی ہیںجو معدوم ہو چکی ہیں۔
انھوں نے کہا ’جزیرہ نما عرب میں ایشیائی چیتے پائے جاتے تھے تاہم وہ 1950 کی دہائی میں ناپید ہو گئے ہیں۔ یہ چیتوں کے ایک گروپ کے ساتھ آرامکو کے ورکروں کی پرانی تصاویر ہیں۔ ‘ ’ ایشیائی چیتے سعودی عرب، عراق، ایران اور انڈیا کے درمیان پائے جاتے تھے جبکہ سعودی عرب اور عراق میں معدوم ہو چکے ہیں۔

البوق نے واضح کیا کہ عربی النسل ٹائیگرز کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے اور مملکت نے جانوروں کو نسل کشی سے بچانے کے لیے قومی حکمت عملی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔تاہم ایسے جانوروں کا شکار اور ان کی ہلاکت کو روکنے اور جنگل میں ان کی بقاء میں مدد کے لیے مزید تحقیق اور عوامی آگاہی مہم کی ضرورت تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں