سابق MD سلیمان چانڈیو نے ایڈوائزر تعینات ہوتے ہی افسران کے اجلاس بلا لیئے ،

رپورٹ : اختر شیخ

جیالوں کو بھرتی کرنے کے لئے سابق ایم ڈی واٹر بورڈ‌ کو دو عہدوں سے نواز دیا گیا ، سابق ایم ڈی سلیمان چانڈیو کو وزیر بلدیات نے اپنا ایڈوائز تعینات کردیا ہے ،کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بورڈ کے اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات نے رورل ایریا سرکل ( آر اے سی ) بحال کرکے اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 640 افراد کو واٹر بورڈ میں کھپانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ واٹر بورڈ میں قائم ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹیز نمبر ایک اور دو سمیت تمام کمیٹیوں کو فوری توڑ دیا گیا۔

اس فیصلے سے بورڈ کے 206 انجینئرز و افسران سمیت کم و بیش ایک ہزار ملازمین کی اگلے گریڈ میں ترقی کا معاملہ التوا میں پڑگیا ہے۔ اجلاس میں بورڈ کے ایک رکن و سابق ڈی ایم ڈی سلمان چانڈیو کو ایڈوائزر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہیں ایڈوائزر بنانے کا مقصد ادارے میں اندورن سندھ سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو ایڈجسٹ کرانے کے لیے تیزی سے کارروائی مکمل کرنا ہے۔ دلچسپ امر یہ کہ یہ تمام فیصلے میئر وسیم اختر کی اجلاس میں موجودگی کے دوران کیے گئے جس پر وسیم اختر نے مبینہ طور پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔

سلیمان چانڈیو واٹر بورڈ میں پیپلز لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری محسن رضا سے ملاقات کررہے ہیں

کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کے قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کیے جانے والے فیصلوں سے واٹر بورڈ کے کم و بیش 9 ہزار ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹیز کو عین اس وقت ختم کرنے سے جب کمیٹی نمبر ایک کا اجلاس شیڈول کے تحت جمعہ 3 جنوری کو ہونا تھا 206 افسران اور انجینئرز کی ترقیاں نہیں ہوسکے گی جبکہ دیگر لوئر گریڈز کے 8 سو ملازمین کی بھی ترقیوں کا سلسلہ رک جائے گا۔

ذرائع نے کہا ہے کہ عالمی بینک کے ایک ارب 60 کروڑ کی گرانٹ سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی بہتری کے نام پر اس کی ابتری کا عمل شروع کرنے اور شہر کو پانی فراہم کرنے والے کراچی کے اس خود مختار ادارے میں اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے مجموعی طور پر 640 ملازمین کو کھپانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی منظوری جمعرات کو ہونے والے بورڈ کے اجلاس میں دے دی گئی۔

جیالوں کو کھپانے کے لئے جاری کئے جانے والے لیٹر کا عکس

ذرائع نے کہا کہ بورڈ کے اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن اف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے رہنما محسن شیخانی کو بورڈ کا رکن بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ بلڈرز کی مشاورت سے پانی کے نئے منصوبے بنائے جاسکیں۔ ذرائع کہنا تھا کہ بورڈ میں موجود واٹر بورڈ کے ریٹائرڈ انجینئر کو صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کا ایڈوائزر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیاہے ۔ حالانکہ معروف اصولوں کے تحت سرکاری خزانے سے پنشن وصول کرنے والا کسی بھی پبلک باڈی کارکن نہیں بن سکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں سے واٹر بورڈ کی سی بی اے سمیت دیگر یونینز میں بھی تشویش پھیل گئی ہے اور خدشہ ہے کہ جمعہ سے ہی ان فیصلوں کے خلاف سخت احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ادھروزیر بلدیات کے ترجمان کے اعلامیے کے مطابق وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سید ناصر حسین شاہ کی چیئرمین شپ میں بورڈز ممبران کا اہم اجلاس سیکریٹریٹ میں ہوا جس مین واٹر بورڈ کی صلاحیتوں اور سروسز کو مزید بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

جس میں دیہی اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلیے ’’رورل ایریا سرکل‘‘ فوری طور پر بحال کیا جائے ‘ترجمان کے مطابق بورڈز کی انفرااسٹرکچر، فنانس اور ریونیو سمیت تمام کمیٹیوں کو تحلیل کردیا گیا ہے جبکہ نئی کمیٹیوں کے قیام کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بورڈ کے تمام6 ہائیڈرنٹس کے کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے پر اشتہارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کنٹریکٹ دینے کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور تمام تر قانونی تقاضوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔اجلاس میں میئر کراچی وسیم اختر، سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ناہید شاہ درانی، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان،رکن بورڈ ڈاکٹر نعمان احمد، محمد رضوان رؤف، طارق حسین، اسد علی شاہ، سیمی صدف کمال، محمد سلیمان چانڈیو، صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزچیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سلمان عبداللہ مراد بھی شریک تھے۔

محمد سلیمان چانڈیو کے ایڈوائرز تعینات کئے جانے والے نوٹی فکیشن کا عکس

ادارے میں ریٹائرڈ افسر سلیمان چانڈیو وزیربلدیات کے ایڈوائزر بن کرآئے ہیں جس سے واٹر بورڈ کے سینئر افسران میں سخت تشویش پھیل گئی ہے ، ذرائع کے مطابق سلیمان چانڈیو نے وزیر بلدیات وچیئرمین ناصر شاہ سے واٹر بورڈ میں اپنا ایڈوائزر بننے کی خواہش ظاہر کی جو ناصر شاہ نے فوری قبول کرلی ، وزیر بلدیات نے اپنے دستخط سے 70 سالہ ریٹائرڈ افسر سلیمان چانڈیو کیلئے ایڈوائزر ٹو منسٹر کا آرڈر جاری کردیا ہے .

آرڈر جاری ہوتے ہی سلیمان چانڈیو فوری واٹر بورڈ ہیڈ آفس پہنچ گئے اور افسران کا اجلاس بھی طلب کرڈالا ، سلیمان چانڈیو کی پھرتیاں دیکھ کر واٹر بورڈ کے سینئر افسران میں سخت تشویش پھیل گئی ہے ،واٹر بورڈ کی نئی گورننگ باڈی میں بھی سلیمان چانڈیو ممبر کی حیثیت سے موجود ہیں ، وزیر بلدیات کے ایڈوائزر کی حیثیت سے سلیمان چانڈیو کی واٹر بورڈ میں تعیناتی سے ادارے کے انتظامی امور درہم برہم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ، سلیمان چانڈیو کے قریبی افسران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ادارے میں افسران کے مابین شدید محاذ آرائی کا امکان ہے .

محمد سلیمان چانڈیو واٹر بورڈ میں پیپلز لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری محسن رضا سے ملاقات کررہے ہیں

ادھر واٹربورڈ کے مرکزی آفس کارساز پر محمد سلمان چانڈیو ایڈوائزر وزیر بلدیات و چیرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے پیپلز لیبر یونین کے جنرل سکریٹری سید محسن رضا اور مرکزی عہدِداروں خورشید مہدی ،حسن مرتضی، اسلم، ابراہیم، حسنین نے ملاقات کی اور واٹر بورڈ کے ریٹائرڈ و حاضر سروس ملازمین کے جی پی فنڈ،گریجوٹی، پنشن وغیرہ سمیت واٹر بورڈ کے مختلف اہم امور پر گفتگو کرتے ہوۓ اُمید ظاہر کی کہ واٹر بورڈ کی بہتری کے لیے کام ہو گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *