صحافی نصراللہ چوہدری کی سزا کیخلاف PFUJ اور KUJ کا چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے سینئر صحافی اور ممبر کراچی پریس کلب نصر اللہ چوہدری کو نام نہاد ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں سزا سنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے دستور اور کے یو جے دستور کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ نام نہاد ممنوعہ لٹریچر کے الزام میں سینئر صحافی کو سزا دینا ایک انوکھا فیصلہ ہے۔۔حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زریعے دھمکیوں ، تشدد ار حراساں کرنے کے عمل کے زریعے صحافتی حلقے پر دباو ڈال رہی ہے ، آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لئے بے شمار صھافیوں کو اغواکر کے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جعلی اور بے بنیاد مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں سندھ بھر کے بے شمار صحافیوں پر دہشت گردی کے الزمات بھی عائد کئے گئے۔

پی ایف یو جے دستور اور کے یو جے دستور نے ان تمام غیر قانونی ہتھکنڈوں کے باوجود آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایک سینئر صحافی کو اس طرح سزا سنانے کی کوئی مثال نہیں ملتی ، اس فیصلے سے دنیا بھر میں پاکستان میں آزادی صحافت سے متعلق منفی تاثر بھی پیدا ہو گا لہذا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نصر اللہ چوہدری کی سزا اور صحافیوں پر غیر قانونی مقدمات کے اندراج کا نوٹس لیں۔

سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے رکن نصر اللہ چوہدری کو سندھ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نام و نہاد ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جسے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنچ کردیا گیا ہے۔

نصراللہ چوہدری کو پریس کلب پر غیر قانونی چھاپے کی ہزیمت چھپانے کے لیئے نومبر میں گرفتار کیا گیا اور تین دن تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے عدالت میں ایک بھونڈے الزام میں پیش کیا گیا۔۔نصرااللہ چوہدری کو ایک ہفتے بعد ہی کمزور مقدمے کے باعث ضمانت بھی ملی تھی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *