جمعیت علمائے اسلام نے حکومت سندھ کیخلاف اساتذہ احتجاج کا حصہ بننے کا اعلان کردیا ،

الرٹ نیوز

جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہاکہ صوبائی حکومت اساتذہ اور ٹیچرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ ٹیچرز کے ساتھ ہونے والے مظالم پیپلزپارٹی کے منشور پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ۔ بدترین مہنگائی اور بیروزگاری سے نڈھال عوام پر گیس ڈرون حملہ قیامت صغری سے کم نہیں ۔ جے یو آئی کے رہنماؤں کو ہراساں کرنا لمحہ فکریہ ہے ۔ وہ ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ملاقات اور کراچی پریس کلب کے باہر اساتذہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ ، جمال خان کاکڑ کی دوکان کے دورے اور عکاشہ اللہ داد کے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔

اس موقع پر مولانا فتح اللہ، قاضی فخر الحسن،قاری اللہ داد، سید اکبر شاہ ہاشمی،حافظ محمد نعیم، حافظ فاروق سید حسن زئی، جمال خان کاکڑ، دانیال چوہدری ، مفتی سید یونس شاہ ، سخاوت حسن زئی اور دیگر بڑی تعداد میں جماعتی احباب نے شرکت کی ۔ قاری محمد عثمان نے اساتذہ کے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر کے سکول کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ گزشتہ کئی روز سے مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر سندھ حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے بلاتفریق اپنے عوامی انقلابی منشور پر کلہاڑی مارنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیتی مگر باوجود حکومتی اداروں اور مشینری کے مکمل کنٹرول کے سندھ حکومت اساتذہ سمیت عوامی مسائل کے حل میں رتی برابر دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔

قاری محمد عثمان نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ٹیچرز کو یقین دلایا کہ جمعیت علماء اسلام تمام مطالبات کی نہ صرف مکمل حمایت کرتی ہے بلکہ اساتذہ کی جاری تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ آپکے دھرنے،مظاہرے اور احتجاجی مارچ میں بھر پور شر کت کرے گی۔ قاری محمد عثمان نے گیس کے نرخوں میں اضافہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سمیت پورے ملک میں گیس کا نہ ختم ہونے والا مصنوعی بحران نااہل حکمرانوں کا پیدا کردہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کی بدترین مہنگائی اور بیروزگاری کے بعد گیس کے نرخوں میں اضافہ اور گیس کے بحران سے تنگ اور نڈھال عوام پر ڈرون حملہ ہے۔ اگر گیس کا مصنوعی بحران فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔ قاری محمد عثمان نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ملاقات کے دوران جمعیت علماء اسلام کے رہنما ء جمال خان کاکڑ کے گھر اور دوکان پر ایک درجن سے زائد پولیس گاڑیوں کے قافلے میں چھاپہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آئین اور قانون کی علمبردار جماعت ہے۔

ہماری جماعت کا کوئی کارکن منفی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بن سکتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام ایک تاریخ اور کردار کی حامل جماعت ہے۔ عوامی مسائل پر احتجاج کو آئینی قانونی حق سمجھتے ہوئے ہمیشہ اپنے جمہوری حق کے اظہار کو آئین پاکستان اور قانون کے دائرے میں کرتی ہے۔

اگر اس حق کو چھیننے کی کوشش کی جائے گی یا جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بلاجواز پولیس کاروائی کو نہیں روکا گیا تو مزید احتجاجی مظاہرے ہماری مجبوری ہوں گے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے یقین دلایا کہ وہ اس قسم کے چھاپوں کی انکوائری کرواکر حقیقت کو واضح کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *