اسلامی یونیورسٹی، کیا ہونے جا رہا ہے؟

تحریر: میری ڈائری (مسعود احمد علوی)

نیو کیمپس کے بعد اب فیصل مسجد کے قریب واقع کویت ہاسٹل کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے،  یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حالات خطرناک سمت میں بڑھ رہے ہیں، حالات جس رخ پہ جا رہے ہیں، انہیں سمجھنے کے لیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت کے ایکسپو پر حملہ کوئی اچانک وار نہیں تھا بلکہ یہ پلانٹڈ اور پری پلینڈ حملہ لگتا تھا، ماضی میں بھی حالات اس کشیدگی کی جانب بڑھتے رہے ہیں لیکن بروقت انتظامی حکمت عملی اور بعض اساتذہ کے اثر رسوخ نے حالات پر قابو رکھا، لیکن اس مرتبہ جو ناقابل تلافی نقصان ہوا اس میں زیادہ دخل انتظامی طور پر بعض کمزوریوں کا تھا۔

جن حالات میں یہ پروگرام ہوا، جمعیت اور آئی یو ایس ایف کا تناؤ بڑھتا جا رہا تھا، آئی یو ایس ایف دراصل جمعیت کے علاوہ دیگر طلبہ تنظیموں کا اتحاد ہے، سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل بھی اس کا اہم حصہ ہے، بلکہ یوں کہا جائے کہ سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل اس اتحاد کو لیڈ کرتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سارے قضیے میں سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل کا بار بار نام سامنے آ رہا ہے۔ اس تنظیم میں زیادہ فعال طلبہ کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، جبکہ آئی یو ایس ایف نامی اتحاد میں دیگر لسانی جماعتیں بھی متحرک رہتی ہیں۔ یہ وہ لسانی جماعتیں ہیں جن کے خیالات کسی بھی طرح جمعیت سے میل نہیں کھاتے، یہ محمود غزنوی اور محمد بن قاسم کو لٹیرا اور ولن سمجھتے ہیں جبکہ جمعیت اپنے اسلامی تشخص کے باعث انہیں اپنا ہیرو تصور کرتی ہے۔ ڈھول پیٹنا، گانے گانا اور سر و تال بکھیرنے کو یہ لسانی جماعتیں اپنے کلچر اور ثقافت کی بنیاد سمجھتی ہیں جبکہ جمعیت کے لیے یہ سب سرگرمیاں فضولیات کا درجہ رکھتی ہیں۔ اب اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ فکری اعتبار سے دونوں فریقوں کا رخ ایک دوسرے کے مخالف سمت میں ہے، ماضی میں ہونے والے جھگڑوں کی بنیاد بھی یہی فکری اختلاف بنا تھا۔

ان ساری باتوں کے ہوتے ہوئے جمعیت نے جو پروگرام ترتیب دیا تھا، وہ ایجوکیشن ایکسپو تھا، اپنے تنوع اور مثالی نظم و ضبط کے اعتبار سے یہ پروگرام گزشتہ کئی سالوں سے کامیابی سے چل رہا تھا، اس سال یہ پانچواں ایکسپو تھا جس کے آخری روز حالات ایک دم پیچیدہ ہو گئے۔ دو سے تین بار جمعیت اور آئی یو ایس ایف کے جوانوں کا ٹاکرا ہوا، پھر ایک دم 5 بجے یہ حالات شدت اختیار کرگئے اور بات باقاعدہ لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی۔ فریقین کے کارکنوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی مگر کوئی جانی نقصان نہ ہوا، شام کو 8 سے نو بجے کے درمیان یونیورسٹی کے ہاسٹل 5 اور 6 (جہاں دونوں فریقوں کے طلبہ اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے) کے درمیان ایک زور دار جھڑپ شروع ہوئی، جس میں آئی یو ایس ایف کے کارکنوں کے پاس شیشے کی بوتلیں، لوہے کے راڈ اور دیگر آلات تشدد بھی موجود تھے، ان اوزاروں کا خوب استعمال بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں جمعیت کے کارکنوں کا زیادہ نقصان ہوا۔ یونیورسٹی کے طالب علم فہد خان بابر کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ جب یہ جھگڑا چل رہا تھا تو عین اس وقت منہاس راکی اور ایمل خان جمعیت کے طفیل نامی کارکن کو پکڑ کر دوسری بلڈنگ کی طرف لے گئے جہاں منہاس خان نے طفیل کو قابو کیا اور ایمل خان نے بھاری پتھر طفیل کے سر پہ دے مارا، جس سے طفیل زخمی ہو کر نیچے گر پڑا، بعد ازاں طفیل کو ہسپتال لے جایا گیا تب تک وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔ ایف آئی آر میں سرفراز پشتون نامی لڑکے کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس نے آتشی اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے سیدھے فائر بھی کیے۔

ایک طرف حالات اس نہج پہ پہنچ چکے تھے دوسری جانب انتظامیہ ان حالات کے سامنے بے بس نظر آ رہی تھی، پولیس بھی اس وقت پہنچی جب کافی سارے طلبہ زخمی اور حالات کافی ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ایک فریق ریکٹر کی ٹانگ کھینچ رہا ہے تو دوسرا اس تمام واقعے کی آڑ میں صدر جامعہ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ریکٹر اور صدر جامعہ ہی وہ شخصیات ہیں جن کے اختلافات گزشتہ سال کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ یونیورسٹی کی اندرونی سیاست تو پہلے ہی دو دھڑوں میں تقسیم تھی۔ اب اگر اس واقعے سے ان اختلافات کو مزید ہوا ملی تو حالات اس سے بھی زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک نوٹس کے ذریعے ایک ہفتے کی چھٹیاں دے کر تمام ملکی طلبہ کو گھر بھیج دیا گیا ہے، تمام کاروبار اب ہفتے کے لیے بند ہے لیکن سوال یہی ہے کہ کیا یہ ایک ہفتہ جمعیت جیسے گرم خون کے جذبات کو ٹھنڈا کر پائے گا؟ کیا مستقبل میں جامعہ اس قسم کے فسادات سے نمٹنے کے لیے کامیاب حکمت عملی اختیار تیار کر پائے گی یا اسلامی تربیت اور افراد کار تیار کرنے والی یہ یونیورسٹی بھی مستقبل میں فسادات کا گڑھ بن جائے گی؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *